186

درپیش صورتحال اور ترجیحات

وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں تقریب سے خطاب ‘کابینہ کے ارکان اور وفد کےساتھ بات چیت میں اپنی حکمت عملی کے کچھ خدوخال واضح کئے ہیں‘ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ ملک چلانے کےلئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے وہ اپنے نظریہ سے کسی صورت انحراف نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں ‘وزیراعظم سرکاری ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سختی سے تردید کرتے ہیں ‘ا ن کا کہنا ہے کہ حکومت بلیک میل ہوگی نہ ہی اصلاحات سے کسی صورت پیچھے ہٹیں گے‘ اس سب کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا ہوگا‘دوسری جانب درپیش صورتحال میں بینک دولت پاکستان کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف ایک ہفتے میں 16کھرب روپے سے زائد قرضہ لیا جس کے والیوم نے سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے‘ مہیا اعدادو شمار کے مطابق حکومت اب تک مرکزی بینک سے مجموعی طور پر 48 کھرب 38 ارب سے زائد کا قرضہ لے چکی ہے ‘ اس قرضے میں سے بڑا حصہ کمرشل بینکوں کا پرانا قرضہ چکانے پر صرف ہوا‘قرضوں تلے دبی معیشت اور توانائی کے بحران میں بجلی اور پٹرولیم کے ذخائر ملنے کی امید تھی تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر سے تیل اور گیس کے ذخائر نہ مل سکے۔

 وطن عزیز کو درپیش چیلنج اور عوامی مشکلات کے تناظر میں وزیراعظم کی حکمت عملی اور عزم قابل اطمینان سہی تاہم اتنے بڑے بگاڑ کو سنوارنے کےلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ‘ حکومتی منصوبہ بندی کب ثمر آور نتائج دے گی اس کا تو ابھی اندازہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس حقیقت سے چشم پوشی ممکن ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کےلئے مہنگائی اور بنیادی سہولیات کا فقدان پریشان کن صورت اختیار کئے ہوئے ہے‘اس صورتحال کا تقاضا مختصر المدتی ایسی منصوبہ بندی کا ہے کہ جسکے فوری نتائج میں عوام کو ریلیف مل سکے ‘ اس میں ایک جانب مہنگائی پر قابو پانے کےلئے صرف ہدایات پر اکتفا کرنے کی بجائے انتظامی مشینری کو تکنیکی مہارت کی حامل پلاننگ کےساتھ ضروری وسائل اور اختیارات دینا ہوںگے‘سروسز کے اداروں کو فعال بنانا ضروری ہے جبکہ سرکاری محکموں میں اصلاحات کو بھی فوری اور طویل المدتی کے علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھا جاسکتا ہے عام شہری کی دلچسپی دس سال کے بعد ہیلتھ اور دوسرے سیکٹرز میں اصلاح احوال کے نتائج کی بجائے آج کی مہیا سہولیات میں ہے جس میں بہتری لانے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اس سب کےلئے مرکزاور صوبوں کو فوری اقدامات کےلئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا جس میں فیڈرل اور پراونشل دفاتر میں باہمی رابطہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

تعمیراتی ملبہ‘ بلڈنگ کوڈ؟

ہمارے رپورٹر نے اپنی فائل کردہ سٹوری میں صوبائی دارالحکومت کے گلی کوچوں اور بازاروں میں جگہ جگہ بکھرے تعمیراتی ملبے سے متعلق نشاندہی کی ہے اس ملبے کےلئے ہمارے ذمہ دار دفاتر میں قاعدہ قانون موجود ہے ‘ قانون بلڈنگ کوڈ کے نام سے تعمیرات کو قاعدے میں رکھنے کےلئے بھی موجود ہے ‘ اگر کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ قانون پر عملدرآمد اور اس کےلئے کڑی نگرانی کا ہے‘ہم نے یونین کونسلوں کی سطح پر دفاتر تو بنالئے تاہم ان کو مطلوبہ وسائل‘ افرادی قوت اور مزید اختیارات دے کر عوامی مسائل کے فوری حل کےلئے فعال بنانے پر توجہ دینے سے گریز کیا جارہا ہے اگر ان دفاتر کو فعال بنادیا جائے تو بہت سارے امور فوری طور پر طے ہوسکتے ہیں ۔