146

امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ

امریکی فوج نے ایران کےساتھ کشیدگی کے پیش نظر بی52 جنگی طیاروں کے بعد ایف 15اور ایف 35 جنگی جہاز بھی خلیجی ملکوں کے اڈوں پر پہنچا دیئے ہیں‘ امریکی فضائیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاﺅس نے یہ اقدام ایرانی حملے کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا ہے‘واضح رہے کہ یہ طیارے قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچائے گئے ہیںجبکہ کچھ بمبار طیارے جنوب مغربی ایشیائی ملکوں میں بھی پہنچ گئے ہیں تاہم انکے ٹھکانوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا‘یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لے جانے کے اعلان کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے‘ایران اور امریکہ کے درمیان ویسے توگزشتہ چار عشروں سے کشیدگی پائی جاتی ہے لیکن گزشتہ دنوں جب امریکہ نے ایران کےساتھ اوبامادورحکومت میں طے پانےوالے نیو کلیئر معاہدے کے یکطرفہ خاتمے کاا علان کیاتھا تواس وقت سے ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اب اسی تسلسل میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تیل کی برآمد کو امریکی پابندیوں کے نتیجے میں صفر تک پہنچانے کااعلان کیا ہے تو اسوقت سے ایران اور امریکہ کے درمیان مخاصمت نہ صرف سفارتی سطح پر انتہا کو پہنچی ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کوسنگین دھمکیاں بھی دے رہے ہیں جس سے خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ نظر آرہی ہے۔ امریکہ نے اپنا تازہ جنگی بحری بیڑا اسی صورتحال کے تسلسل میں قطرمیں لنگر انداز کیاہے‘دوسری طرف ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ یداللہ جوانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا ایسامنہ توڑ جواب دےگا جوامریکہ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا‘خیال رہے کہ امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جسکا اظہار ایران کے صدر حسن روحانی اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے ایرانی معیشت کو 80اور90کی دہائیوں حتیٰ کہ ایران عراق جنگ کے عرصے سے بھی زیادہ پریشان کن قراردیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے عالمی مبصرین کو ایران پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کےلئے 60 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ایران یورینیم کی پیداوار میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی حد تک اضافہ کرنا شروع کر دےگا‘ایرانی صدر کے اس بیان کے جواب میں اقوام متحدہ نے ایران کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود اقوام متحدہ ایران کےساتھ تجارت کرتا رہے گا دلچسپ امریہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے بعد ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ آئی بھی کسی ممکنہ تصادم کو خارج از امکان قراردے چکے ہیں لیکن اسکے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان لفاظی اور سفارتی محاذ آرائی میں اضافے کودنیا بھر میں تشویش کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔

 ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ کا خلیج فارس میں اپنی فوجی قوت بڑھانے کا مقصدایران کویہ پیغام دینا ہے کہ اگر اس نے خود یا اپنے کسی حواری کے ذریعے امریکہ یا خطے میں اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا تو اس کا ردعمل فوجی ہو گا‘یہاں یہ سوال بھی اٹھایاجاسکتا ہے کہ ایران جو پہلے ہی سے شدید معاشی دباﺅ میں ہے وہ کیونکر اپنے لئے آبیل مجھے مار کی پالیسی اپناناچاہے گا دوسری جانب امریکہ اور دنیا کویہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ایران کےساتھ ممکنہ امریکی جنگ کا عراق کےساتھ 2003 میں امریکی جنگ سے موازنہ خودفریبی اورخودکشی کے مترادف ہوگاکیونکہ موجودہ ایران اوریہاں کے علاقائی حالات صدام حسین کے عراق اور اس وقت کے بین الاقوامی حالات سے یکسر مختلف ہےں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔