159

روپے کی ریکارڈ بے قدری؛ ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

کراچی: گزشتہ کئی روزسے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ہر روز پاکستانی کرنسی کی بے قدری میں اضافہ ہورہا ہے۔

آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے کئے گئے معاہدے کے بعد پاکستانی کرنسی کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا ، افواہوں اور خدشات کے پیش نظر انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں بالعموم غیر ملکی کرنسیوں اور بالخصوص ڈالر کی خریداری دیکھی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے روپیہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور مسلسل بے قدر ہوتا جارہا ہے۔

منگل کے روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 2 روپے سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 152 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 2 روپے اضافے کے بعد 153 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ مارکیٹ میں کوئی بھی ڈالر بیچنے کو تیار ہی نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ 4 روز میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 10 روپے کے لگ بھگ مہنگا ہوا ہے جس کے باعث پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کے حجم میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔