130

سیاسی گرما گرمی‘ احتساب اور عوام

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دئیے گئے افطار ڈنر میں شریک اپوزیشن جماعتوں نے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا ہے‘ حزب اختلاف نے پارلیمان کے اندر اور باہر بھی مشترکہ احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے افطار ڈنر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں کرپٹ ٹولے کے اکٹھ پر کوئی حیرت نہیں ہوئی‘ان کا کہنا ہے کہ سارے چور اکٹھا ہونا چاہتے ہیں اور یہ کہ عوام کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے‘ وطن عزیز کا سیاسی منظرنامہ ایک عرصے سے گرما گرمی کا شکار ہے‘سابق دور میں شروع ہونے والی سیاسی گرما گرمی انتخابات کے بعد حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بھی جاری ہے۔ کل کی اپوزیشن آج ٹریژری بنچوں پر ہے جبکہ سابق حکمران اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے ہیں‘اس ساری سیاسی گرما گرمی کے ساتھ عدالتوں سے بعض اہم اور ہائی پروفائل کیسوں کے فیصلے آئے اس سب کے ساتھ قومی احتساب بیورو کی جانب سے اہم انکوائریاں ہوئیں اور کیس آگے بڑھائے گئے‘ عین اسی روز جب بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شریک پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ارکان نیب کی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کررہے تھے۔

 چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پریس کانفرنس میں احتساب بیورو کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا‘ چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ احتساب کے لئے کوئی ڈکٹیشن نہیں دے رہا‘ ملک 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے جبکہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘جسٹس (ر) جاوید اقبال حکومت کو یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ریڈار میں آنے والوں کو عہدے نہ دے‘سیاسی گرما گرمی جمہوری ادوار میں روٹین کا حصہ ہے تاہم اسے بھی ایک حد میں رکھنا بہتر ہوتا ہے‘بے لاگ احتساب بھی ریاست کے وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے‘ سیاسی منظرنامے میں گرما گرمی ہو‘ ہائی پروفائل کیسوں کے فیصلے‘ بڑی بڑی شخصیات کا احتساب ہو یا اہلی و نااہلی کے ریفرنس یہ سب قاعدے قانون کے معاملات ہیں‘ قومی قیادت کے لئے اس سب کے ساتھ اہم بات ملک کی معیشت اور اس سے جڑے عوامی مسائل کی ہے اس وقت عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے ساتھ دیگر بہت سارے اہم امور یکسو کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یو ٹیلٹی بل اور صارفین کی مشکلات

گرانی نے غریب شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘ یوٹیلٹی بل روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں غریب اور خصوصاً تنخواہ دار شہری اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر بجلی اور گیس کے بل جمع کراتا ہے‘ اس شہری کو سہولت دینا تو ایک جانب بجلی اور گیس کے بل مہینے کی آخری تاریخوں میں جمع کرانے کا کہا جاتا ہے بلوں کا لیٹ ملنا الگ ہے جس کا نتیجہ بینکوں کے آگے لگی قطاروں سے ہوتا ہے ایسے میں بل لیٹ ملنے اور پھر مہینے کی آخری تاریخیں ہونے کے سبب اگر کوئی صارف بل بروقت جمع نہ کرا سکے تو مہنگائی کے مارے اس شہری کو جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے ضرورت بلوں کی بروقت ترسیل یقینی بنانے کے ساتھ جمع کرانے کی تاریخیں تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد کی رکھی جانے کی ہے تاکہ لوگوں کو سہولت ہو اور انہیں بلوں کے لئے قرض نہ اٹھانا پڑے۔