80

ایک فریق کا انصاف

وہ دونوں دوست ہی تھے‘ تاہم زمین کے ایک قطعے نے ان کو آپس میں رنجیدہ کردیا تھا‘ زمین کے ایک ٹکڑے پر دونوں کو حق کا دعویٰ تھا۔ دونوں میں تلخی بڑھتی رہی حتیٰ کہ انہوں نے اپنے کمیونٹی لیڈر کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لیڈر بھی ایسے کہ ان کے فیصلے سے کسی کو بھی پورے قصبے میں اختلاف نہیں ہوسکتا تھا۔ دونوں نے مقدمہ بیان کیا لیڈر نے ایک دوست کے حق میں فیصلہ کرلیا۔ دونوں نے فیصلہ تسلیم کرلیا اور روانہ ہوگئے۔ لیڈر نے دوبارہ ان کو بلایا او رکہا کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ فریقین کے دلائل سن کرہی کیا۔ تاہم آپ دونوں میں سے ایک بیان میں تیز جبکہ دوسرا زبان کا کمزور تھا۔ اس لئے ممکن ہے کہ مجھ پر ذہنی دباﺅ آگیا ہو اور میں نے غلط کیا ہو۔ یہ بہر حال آپ دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ زمین کے قطعہ پرکس کا حق ہے۔ میرے فیصلے کے باوجود اگر حقدار نہ ہوتے ہوئے بھی زمین کسی کو مل جائے تو قیامت کے دن اس زمین کا بوجھ اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔ اس پر وہ دونوں پلٹ پڑے اور جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا‘ نادم ہوا اور حقدار کو اپنا حق دے دیا‘ یہ دونوں دوست کوئی ایسے ویسے لوگ نہیں تھے‘ یہ رسول کریم کے پیارے صحابی تھے اور کمیونٹی لیڈر بھی اللہ کے رسول محمدتھے۔ اس مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کیلئے محض اپنے بل بوتے پر انصاف کرنا کتنا مشکل ہے۔گزشتہ روز ایک دوست کا فون آیا اور بتایا کہ کسی پرائیویٹ سکول نے ایک بچی کے ساتھ ظلم کیاہے ۔ بچی نے فیس جمع نہیں کرائی تو اسے ایک کمرے میں کئی گھنٹے تک قید کئے رکھا۔

اس لئے میں فوراً اس پر ایک گرما گرم کالم لکھوں۔ میں ہنس پڑا۔ سب سے پہلے تو مجھے اپنے دوست کی خوش فہمی پر بڑا لطف آیا کہ گویا میرے کالم کے چھپنے کی دیرہے کہ پولیس اور عدالت نے ایکشن میں آجانا ہے‘ اور اسکے بعد انصاف کا بول بالا ہوجائے گا۔ میر ے کالم کی اتنی حیثیت ہے کہ قارئین کو تھوڑی دیر کیلئے سوچنے کیلئے کچھ مواد مل جاتا ہے اور بس۔ کسی کو زیادہ پسند آگیا تو فیس بک پر تعریف کردی۔ لیکن میرے کالم سے اس سے زیادہ توقع رکھنا مذاق ہی تو ہے۔ خیر یہ تو برسبیل تذکرہ ہی سمجھیں‘تاہم میں نے اپنے دوست کو مشورہ دیا کہ بہتر ہوگا کہ سکول کے اساتذہ کا بھی موقف سنا جائے ۔ فریق ثانی کی بات سنے بغیر عدالت بن کر نہ صرف فیصلہ کرنا بلکہ اسے میڈیا میں گھسیٹنا کسی طرح سے مستحسن قدم نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ میری عمر کے لوگ ریاض بٹالوی کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں جو ایک محققانہ صحافی کے طور پر جانے جاتے تھے اور کسی فیچر کے لکھنے سے قبل سٹوری کے کرداروں میں سے ایک کردار کا روپ دھار لیتے تھے۔ بھکاریوں پر فیچر لکھا تو کئی ماہ تک بھکاری بن کر بھیک مانگتے رہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ سوشل میڈیا میں کسی بھی شخص کے خلاف ایک منفی مہم شروع کرنا بچوں کا کھیل رہ گیا ہے۔ پہلے سوشل میڈیا کوسنجیدہ نہیں لیا جاتا تھا اور عام میڈیا یعنی اخبار اور ٹی وی ریڈیوپر اعتماد بہر حال زیادہ تھا۔ پھر میڈیا کے چینل اتنے زیادہ ہوگئے کہ سچائی کے ساتھ ان سب کی بقا ناممکن ہوگئی۔

اور بجائے سوشل میڈیا کے منفی سوچ کے توڑ کے طریقے اپنانے کے ‘عام میڈیا نے بھی سوشل میڈیا ہی کو قبلہ مان لیا۔ ایک طرف تو ہماری میڈیا کو مادر پدر آزادی ملی اور دوسری طرف ان پر کسی قسم کی نگرانی بالکل ختم ہوکر رہ گئی۔ مہذب ممالک میں ایسے غیر ذمہ دار اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر ایسے جرمانے لگتے ہیں کہ ان میں سے اکثر دیوالیہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایسا ہی ایک روزنامہ امریکہ میں دیوالیہ ہوگیا کہ اس نے گو کہ ایک امیر شخص کے خلاف سچ ہی لکھا تھا لیکن اس سچ کے حصول کیلئے جو ذرائع استعمال کئے گئے تھے وہ اخلاقی طور پر درست نہیں تھے۔ ہمارا عدالتی نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ ہر کوئی شخص اپنی بے جا بے عزتی پر بھی کسی اخبار یا چینل کے خلاف مقدمہ بازی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اسے خاموشی سے اپنی سبکی برداشت کرنی پڑتی ہے۔اس تمام قصے سے میں قارئین کو یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ خصوصاً سوشل میڈیا پر کسی بھی پوسٹ پر فوری طور پر اپنی رائے دینے سے گریز کرنا چاہئے کجا کہ اسکی تصدیق کئے بغیر اسے شیئر اور مشتہر کرتے جائیں۔ اس وقت مہذب ممالک میں بھی فیک نیوز کے نام سے نہ صرف باقاعدہ اخبار نکلتے ہیںبلکہ کئی ویب سائٹس بھی ہیں جو کہ بنیادی طور پر من گھڑت خبریں بنا کر محض سنسنی اور طنز کے طور پر شائع کرتی رہتی ہیںاور ان کو ہمارے بھولے بھائی بہن سچ سمجھ کر اپنے سوشل میڈیا پر پھیلاتے رہتے ہیں۔

 ہمارے ملک کے ایک مشہور کالم نگار نے تو اس صنف کو باقاعدہ اپنا شعار بنالیا ہے کہ فیک نیوز کی خبروں پر پورا پورا کالم لکھ مارتے ہیں اور مجال ہے جو کسی کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ جھوٹی خبریں بنانے والے پر تو جھوٹ کا وبال ہوگا ہی۔ لیکن یادرکھیں کسی بھی خبر کی تصدیق کئے بغیر اسے آپ آگے پھیلائیں گے تو اس جھوٹ کے گناہ میں آپ بھی برابر کے شریک ہوں گے۔ اسی طرح سے اپنے دوست احباب میں سے بھی کبھی کسی ایک فریق کے کہنے پر اپنا بیانیہ نہ بنائیں بلکہ اگر ضرور ہی اپنی رائے دینی ہو تو فریق مخالف سے بھی ملنا اور اسکا موقف بھی سننا لازمی ہے۔ ورنہ نہ صرف اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے بلکہ اپنے کسی قریبی دوست کے ساتھ ناانصافی کے بھی مجرم ٹھہر جائیں گے۔ صرف ہمارے ہی دین میں نہیں بلکہ انسانی تہذیب میں اسی لئے غیبت کو بہت بڑا گناہ سمجھا گیا ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اسکے بارے میں ناگفتنی کہنا سننا‘ اسکے ساتھ ناانصافی ہے جبکہ وہ اپنا دفاع کرنے کیلئے موجود نہ ہو۔ پر کیا کیا جائے کہ غیبت کے بغیر ہمارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا۔ ابھی نفسیات کی ایک تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ ہر معاشرے میں قریب قریب پینسٹھ فیصد افراد دھڑلے سے غیبت کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے جاننے والوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی توفیق فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔