107

سستے رمضان بازاراور آہنی ہاتھ

ایک صاحب کار بہت تیز چلاتے تھے‘ ایک بار وہ کار چوراہے سے موڑ رہے تھے کہ کار قابو سے باہر ہو گئی اور سامنے دکان میں گھس کر پیچھے والے مکان کے بیڈ روم ‘باتھ روم اور ڈرائنگ روم کوتوڑتی ہوئی صحن میںجانکلی‘اتفاق سے مالک مکان صحن میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا‘کار والے صاحب نے گھبراہٹ میں جلدی سے دریافت کیا ریگل چوک کہاں ہے؟مالک مکان نے جل بھن کر جواب دیا‘ہمارا سٹور باقی بچا ہے‘ اسے توڑتے ہوئے نکل جایئے‘ سامنے ریگل چوک ہے۔عمران خان کی ٹیم بھی اقتدار کی گاڑی پر اسی طرح کی حرکات وسکنات سے دوچارہے‘رمضان المبارک کا بابرکت مہےنہ ہے اور سرکاری طور پر یہاںپنجاب میں توباقاعدہ سستے رمضان بازار لگوائے جاتے ہیں‘ایسے اتوار یا جمعہ بازار تو پہلے بھی لگتے تھے مگر اب انہیں سستا رمضان بازار کانام دیاگیا ہے‘اگلے روز احمدپور شرقیہ سے ہمارے دیرینہ قاری اور سابق کونسلر قاضی طارق خان لودھی کا فون آیا‘بولے! یہاں کے سستے رمضان بازاروں کے بارے میں بھی لکھئے‘ میں بازار میں گیا توکئی بلدیہ اور شہری انتظامیہ کے ورکر وہاں رمضان بازار مےںپانچ پانچ کلو اشیائے ضرورت سجائی دکھائی دیئے‘ وہ کسی کو ایک پاﺅ یا آدھ کلو سے زائد کوئی چیز نہیں دے رہے تھے‘ ہم نے لیموں مانگے تو پاﺅ بھر سے زیادہ نہ ملے‘ پتہ چلا کہ یہ سرکاری ملازم سستا رمضان بازار کو کامےاب بنانے کیلئے خود دکاندار بن کر بیٹھے ہیں اور بعض اوقات جیب سے آلو‘ ٹماٹر‘ لیموں ودیگر پھل وغیرہ خرید کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ بازار کا بھرم قائم رہے اور سوشل میڈیا کے کیمروں سے محفوظ رہا جاسکے۔

 ان سستے بازاروں میں اسی لئے پاﺅآدھ کلو سے زائد اشیاءفروخت نہیں کی جاتیں‘ شام تک بازار زندہ رکھنا پڑتاہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بازار سے مہنگی خریدکر یہ ملازمین یا سرکاری ہرکارے سستے نرخوں پر چیزیں بیچتے پائے گئے‘ طارق لودھی نے بتایا کہ کئی تو ہمارے واقف ملازمین پھٹ پڑتے ہیں کہ وہ کس طرح حکومت کے ان سستے بازاروں میں سرکاری ڈیوٹی دےکر ذلیل ہو رہے ہیں‘ بعض اوقات انہیں اچھا خاصا نقصان بھی ہوتا ہے‘ کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو کلپ میں بہاولپور کے سستے رمضان بازار میںایک شخص نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے شکایت کی کہ اسے لیموں پاﺅسے زیادہ نہیں دیئے جارہے بلکہ کئی جگہوں پر خریدار کو انکار بھی کیاگیا کہ فوٹو سیشن یعنی وزیراعلیٰ کا دورہ مکمل ہو جائے توآپ کو سودا مل جائے گا۔ گویا سستے رمضان بازاروں کو فلمی سیٹ کے انداز سے لگایا جاتا ہے اور فوٹو بنا کر اوپر اپنے باس کو بھیجنے کی روایت بھی وجود میں آچکی ہے‘اب توایسے ملازمین ایک دیوار پر فلیکس سجاتے ہیں ‘ اپنی ڈیوٹی کی کاروائی ڈالتے ہیں‘ تصویر بناکر واٹس ایپ کے ذریعے اپنے متعلقہ باس کو بھیج کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔

 اب ہر شعبے میں اسی طرح کی ڈیوٹیاں جاری ہیں۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی سیلاب زدگان یا دیگر آفت زدہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے تو اسی طرح انکو دکھانے کیلئے فلمی سیٹ لگاکر کام چلایاجاتا تھا‘وزیراعلیٰ کے نکلتے ہی سارا سیٹ اکھاڑ لیاجاتا ‘ نمائشی طور پر وزیراعلیٰ کے ہاتھوں کچھ سامان تقسیم کرادیاجاتا تھا‘ آج اس سے بھی برے حالات ہیں‘اب تو سستے رمضان بازار بھی نمائشی اور دکھاوے کے بازار ہیں جہاں خالص اور معیاری سستی اشیاءنہیں ملتیں‘ بس کاروائی ڈالی جاتی ہے ‘لیموں اور ڈالر برابر بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں‘ ایک دور میں ایوب خان نے ذخیرہ اندوزوں کو نتھ ڈالی تھی‘ خاص طورپر چینی ذخیرہ کرنے والوں کو ایک دھمکی دی تھی کہ کل تک بازارمیں چینی نہ ملی تو سب کو لگ پتہ جائے گا‘ اگلے روز چینی کھلے عام فروخت ہورہی تھی‘ حکومت کرنےوالے کی اپنی شخصیت بھی اثر انداز ہوتی ہے‘ یہاں کرنسی ایکسچینج والوں کےساتھ اجلاس کرنے کے بعد اور وارننگ کے باوجود اگلے روز ہی ڈالر 150تک بڑھ جاتا ہے‘کیوں؟ کون لوگ اس کے پیچھے ہیں؟ عمران خان کو سختی سے نمٹنا پڑے گا‘ ورنہ فلمی سیٹ لگا کر فوٹو شوہی ہوگا جو اسوقت تک چل رہا ہے‘ساری حکومت فوٹوشوز پر چل رہی ہے‘ کہاں ہیں آہنی ہاتھ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔