77

پی ٹی آئی کی گمشدگی

بائیس سال کی جدوجہدکے بعد پاکستان تحریک انصاف اس وقت وفاق سمیت ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں برسراقتدار ہے اس سے قبل جب اس جماعت کی عمر سترہ سا ل کی تھی تو اسے خیبرپختونخوا میں بھرپور مینڈیٹ ملا اورپھر اس نے پانچ سال حکومت کے مزے بھی لوٹے اس دوران اس نے اداروں کے اصلا ح کی مہم چلائی مرکز میں بدترین مخالف جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود بہر حال پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے بڑی حد تک اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیابی حاصل کی اور شاید یہی وجہ ہے کہ صوبہ کی انتخابی تاریخ میںنیا باب رقم کرتے ہوئے مسلسل دوسری بار الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے صوبہ میں حکومت قائم کرلی پنجاب میں تو طویل عرصہ کے بعدکسی اور جماعت کو حکومت سازی کاموقع ملا وگرنہ تو 1988سے لےکر 2013کے انتخابات تک مسلم لیگ کے مختلف گروپ ہی برسراقتدار رہے جن میں بعض مواقع پر پی پی پی شریک اقتدار رہی گویا تین عشرے کے دوران پہلی بار ایک نئی جماعت نے نہ صرف حکومت قائم کی بلکہ ایک غیر معروف سیاسی بیک گراﺅنڈکے حامل شخص کو ملک کے اس سب سے بڑے صوبہ کاوزیر اعلیٰ بھی بنادیا خیبرپختو نخوامیں قرعہ فال محمود خان کے نام نکلا دونوں کے انتخاب پر اپوزیشن جماعتوں نے بہت تنقیدکی تھی۔

 مگر گذشتہ دنوں جو گیلپ سروے سامنے آیا ا سکے نتائج بہت حیران کن اور پی ٹی آئی کیلئے حوصلہ افزاءثابت ہوئے کیونکہ چاروںوزرائے اعلیٰ میں سے پی ٹی آئی کے دونوںوزراءاعلیٰ ہی ٹاپ پر رہے جبکہ پی پی پی کے دوسر ی بار وزیر اعلیٰ بننے والے مراد علی شاہ سب سے پیچھے رہ گئے یوں پی ٹی آئی نے مشکلات کے باوجوداچھے نتائج دے کر سیاسی پنڈتوں کو حیران تو کردیا ہے مگر اس تمام عرصہ کے دوران پی ٹی آئی کا جو اصل المیہ سامنے آیاوہ یہ رہاکہ حکومت سازی کے بعد سے پی ٹی آئی خودبحیثیت جماعت منظر عام سے ہی غائب ہوکررہ گئی ہوا یوں کہ اس کی قیادت مرکز ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومتوں عہدوںپر آگئی گویا پارٹی کی پوری مرکزی و پنجاب و خیبرپختونخواکی صوبائی تنظیمیں حکومت کاحصہ بن گئیں اور پارٹی سیاسی طورپر پس منظر میں چلی گئی ابتداءمیںتو اس کا احساس نہ ہوسکا مگراب جوں جوں مہنگائی اور اپوزیشن کے لب ولہجہ میںتلخی بڑھتی جارہی ہے پی ٹی آئی کی کمی کااحسا س نہ صرف کارکنوںبلکہ خود اسکی حکومتوںاور ان کے ذمہ داروںکو بھی ہونے لگاہے مثال کے طورپر جب ہمارے ہاں ڈاکٹروںکا ایشو الجھ گیا تو سیاسی طورپر حکومت کادفاع کرنے والاکوئی نظر ہی نہیںآیا لے دے کے وزیر صحت اور وزیر اطلاعات اپنے طورپر نہ صر ف ڈاکٹروں ،بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں ،سول سوسائٹی میںموجود مخالف عناصر اور سوشل میڈیا کے بعض عقابوںکے خلاف نبرد آزما ہوتے رہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس مرحلہ پرحکومت کو جس سیاسی سپورٹ کی ضرور ت تھی وہ اسے نہ مل سکی حالانکہ پی ٹی آئی کے پاس بہت مﺅثر یوتھ فورس موجودہے مگر چونکہ ملک بھر کی طرح صو بہ میں پارٹی کی تنظیمیں تحلیل ہوچکی ہیں۔

 اورتاحال نامزدگیوںکامرحلہ مکمل نہیں ہوچکا تو بحیثیت جماعت پی ٹی آئی اپنی ہی حکومت کا دفاع کرنے سے قاصر دکھائی دی جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو حکومت امور انجام دینے اور اس کا سیاسی انداز میںدفاع کرنے کے دونوں محاذوں پر خودہی نبر آزما ہونا پڑا ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب ایم ایم اے کی حکومت تھی تو اس کی صوبائی قیادت اور پھر پارلیمانی پارٹی دونوںکی طاقتور ہواکرتی تھیں اور حکومت دونوںکے سامنے جواب دہ رہتی چنانچہ جب کبھی کوئی مشکل مرحلہ آتا تو پھر صوبائی حکومت کے دفاع کیلئے اسمبلی کے اندرپارلیمانی پارٹی اور اسمبلی کے باہر صوبائی قیادت خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی اسی طرح جب اے این پی نے حکومت بنائی تو بشیر احمدبلور جیسی تجربہ کارشخصیت کو پارلیمانی لیڈر بنایا جبکہ افراسیاب خٹک صوبائی صدر تھے اور اس طرح حکومت کو خاص مشکلا ت کاسامنانہ کرنا پڑا خود پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے دور میں ریجنل اور ضلعی تنظیمیں پوری طرح سے فعال تھیں اسلئے پارٹی کو سیاسی دباﺅ سے بچائے رکھتیں مگر موجودہ صورت حال انتہائی مایوس کن دکھائی دیتی ہے کیونکہ خود صوبائی حکومت کادفاع کرنے کیلئے پی ٹی آئی کہیں دکھائی ہی نہیں دیتی اگر اپوزیشن جماعتوںکی مشترکہ تحریک سے قبل پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تنظیم سازی کاعمل مکمل نہ کیا تو سیاسی دباﺅ کامقابلہ کرنا مشکل ہوسکتاہے کیونکہ حکومت اگر دونوںمحاذوں پر لڑتی رہے گی تو گڈ گورننس کو برقراررکھنا مشکل ہوجائےگا اسی لئے اگر پی ٹی آئی نے عثمان بزدار اور محمود خان کی کارکردگی میں مزید اضافہ کرناہے تو ان کو جماعت کی سیاسی چھتری فوری طورپر فراہم کرنا ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔