160

وفاقی ترقیاتی پروگرام: 925 ارب روپے مختص کیے جانیکا امکان 

اسلام آباد۔ وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی تشکیل پر غور کیا گیا۔
 
جمعرات کو وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی و صوبائی اعلی حکام نے شرکت کی، اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی تشکیل زیر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2019-20 میں 1.8 ٹریلین ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی،وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت 925 ارب روپے مختص کیے جانیکا امکان ہے،صوبائی ترقیاتی پروگرام کے تحت 912 ارب روپے مختص کیے جانیکی تجویز دی گئی، پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی وزارتوں اور ڈویڑنوں کیلئے 370 ارب روپے مختص کیے جانے کاامکان ہے۔

 ذرائع کے مطابق ضم شدہ علاقوں کے ڈویلپمنٹ کے لیے 22 ارب مختص کیے جانے کا امکان ہے۔کلین گرین پاکستان مہم کی مد میں 2 ارب روپے مختص کرنیکی تجویز دی گئی،گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں 1 ارب مختص کیے جانے کا امکان ہے،ذرائع کے مطابق این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے لیے 42 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی، این ایچ اے کیلئے 157 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔ اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے چیف میکرو ظفر الحسن نے موجودہ مالی سال کی معاشی کارکردگی پر شرکا کو بریفنگ دی اور اگلے مالی سال کے معاشی اہداف پیش کئے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ موجودہ حکومت معیشت کے استحکام کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے، یہ ہماری حکومت کا پہلا پی ایس ڈی پی ہے۔

مخدوم خسرو بختیار نے کہاکہ شدید مالی مشکلات کے باوجود اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں کچھ نئے اور اہم سیکٹرز کے لیے رقم مختص کی گئی ہے جس میں کلین گرین پاکستان، موسمیاتی تبدیلی، نالج اکانومی، انسانی وسائل کی ترقی، زراعت کی ترقی اور علاقائی مساوی ترقیاتی پروگرام کے منصوبے شامل ہونگے۔سیکرٹری پلاننگ کمیشن ظفر حسن نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ طویل مشاورت کی گئی ہے۔