139

قرضوں کا صحیح استعمال

وفاقی کابینہ نے وطن عزیز میں نئی تعلیمی پالیسی‘ کامیاب نوجوان پروگرام اور جامع اقتصادی لائحہ عمل کی منظوری دیدی ہے‘ کامیاب نوجوان پروگرام کے خدوخال میں بتایاگیا ہے کہ حکومت اس پروگرام کے تحت قرضوں کے اجراءکیلئے 100 ارب روپے مختص کررہی ہے‘ قرضوں پر سود کی شرح 6اور8فیصد ہوگی‘خواتین کیلئے قرضوں کا 25فیصد کوٹہ مختص ہوگا‘ اس سب کیساتھ جو اہم بات کابینہ اجلاس سے متعلق بریفنگ میں بتائی گئی‘ وہ یہ ہے کہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ہفتہ کے روز اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے‘ وطن عزیز کی معیشت اور اسکے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل انتہائی سنجیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں‘ ملک کے ذمے کھربوں روپے کے بیرونی قرضے ان پر سود کی ادائیگی اور روپے کی بے قدری میں اضافہ تشویشناک ہے‘ڈالر کی قیمت بڑھنے کیساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کا والیوم بھی زیادہ ہو رہا ہے‘اس سارے منظر نامے میں ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 35کھرب روپے تک پہنچ گیاہے‘ تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات اس لئے ثمر آور نہیں ہو رہے کہ ملک میں پروڈکشن کاسٹ اور ٹیکس نظام کے باعث مینو فیکچرنگ کا شعبہ پوری تندہی سے کام نہیں کر سکتا۔

سمگلنگ ملکی صنعت کو مسلسل دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے‘ دوسری جانب ملکی قرضوں کا حجم 35کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 51فیصد کمی واقع ہو گئی ہے ایسے مشکل وقت میں جب مشیر خزانہ اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان کرنے جارہے ہیں تو اس میں نوجوانوں کو صرف قرضے دے کر سود کیساتھ وصولی پر اکتفاکی بجائے ان کیلئے ایسا ماحول دیاجانا ضروری ہے کہ وہ ان قرضوں کو درست طریقے سے استعمال کریں اور ان کا فائدہ مجموعی ملکی معیشت کو بھی ہو‘ اس اقتصادی لائحہ عمل میں صرف اعداد وشمار پیش کرنے پر ہی فوکس نہ کیاجائے‘اس وقت عام آدمی کو مہنگائی کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا ہے‘ ان کے حل کا پلان دیاجائے‘ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے حالات موافق بنائے جانے سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیاجائے‘ اس کیساتھ بیروزگاری کے خاتمے کیلئے ٹھوس حکمت عملی دی جائے‘ اعداد و شمار سے عوام کو دلچسپی نہیں‘ لوگ صرف ریلیف کے متقاضی ہیں۔

ریونیو نظام کی فعالیت؟

وطن عزیز میں رائج قدیم دفتری نظام میں بھاری ٹیکس اور فیسیں ادا کرنے والے شہری بھی زمین وجائیداد کا ریکارڈ حاصل کرنے اور انتقالات ورجسٹری کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہی رہتے ہیں‘ مسئلے کا ایک پائیدار حل ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی صورت تلاش کیاگیا‘اس مقصد کیلئے انتظامات بھی کئے گئے تاہم ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پراجیکٹ مکمل طورپر آپریشنل نہ ہوسکا‘ ہمارے ہاں ریونیو کے دفاتر اپنی پرانی ہیئت پر ابھی تک نمایاں سائن بورڈز تک سے محروم ہیں اور لوگوں کی ان تک رسائی ایک مشکل کام ہوتا ہے‘ ان دفاتر میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ وقت آگیا ہے کہ ریونیو نظام کو زیادہ سے زیادہ عوام دوست اور آسان بنایاجائے‘ سارے سسٹم کو جدید سہولیات سے آراستہ کیاجائے‘ سٹیک ہولڈرز ایمپلائز کو خصوصی کورسز کرانے کیساتھ مراعات بھی دی جائیں تاکہ وہ دلجمعی سے کام کریں‘ تاہم سارے عمل میں کڑی نگرانی اور عوامی شکایات کی شنوائی کا انتظام بھی ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔