586

ایک بڑی جنگ کا خطرہ

امریکہ نے ایران کےخلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک لاکھ فوجیوں سمیت سو سے زائد جدید طیارے اور بعض ایٹمی آلات خلیج فارس میں پہنچا دیئے ہیں‘ امریکہ ایران کےساتھ مزید رعایت یا نرمی کے موڈ میں نظر نہیں آرہا‘ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی اورجدےد سامان کی فراہمی محض دباﺅ ڈالنے کےلئے نہیں ہے بلکہ لگ یہ رہا ہے کہ اس حساس ترین خطے میں کوئی بڑی تباہی پھیلانے کی کوششوں کا نازک موڑ آپہنچا ہے‘ایران اور امریکہ کے درمیان 1979ءسے مسلسل کشیدگی چلی آرہی ہے انقلاب ایران کے دور میں تہران میں امریکی سفارتخانے کے گھیراﺅ جلاﺅ سے جو کشیدگی پیدا ہوئی سال 1988ءمےں ایک ایرانی مسافر طیارے کے گرانے کے امریکی اقدام نے اس کشیدگی کو کھلی دشمنی میں تبدیل کر دیا اور اسکے بعد کسی وقفے کے بغیر دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے‘ امریکہ نے ایران کو کمزور کرنے کےلئے 12برس تک عراق کےساتھ جنگ میں الجھائے رکھا اسکے بعد ایران نے جوابی وار کے طور پر اسرائیل اور بعض دیگر امریکی اتحادیوں کو اپنے حامیوں کے ذریعے عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عراق‘ لیبیا‘ لبنان‘ فلسطین ‘بحرین ‘ یمن شام یہاں تک کہ ترکی جیسے ملک میں ایران نے نہ صرف اپنے حامیوں کے ذریعے سیاسی اور گوریلا تنظیمیں بنائیں بلکہ حوثی قبائل اور بعض دیگر کے ذریعے سعودی عرب کو بھی پریشان کےاجاتا رہا۔

ان تمام ممالک میں ایران کا کردار بہت اہم اور پیچیدہ رہا‘ دوسری طرف ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھی سرد جنگ جاری رہی جبکہ کویت اور قطر بھی اس تمام گیم سے متاثر ہوتے رہے‘ بظاہر امریکہ اس جواز کے تناظر میں ایران کا دشمن بنا رہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اور یہ کہ وہ سعودی عرب اور بعض دیگران ممالک کےخلاف جنگی عزائم رکھتا ہے جن کےساتھ امریکہ کے دفاعی معاہدے ہیں تاہم اس تمام گیم کا سب سے بڑا پہلو خلیج فارس میں تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر اور ایران کا غیرمعمولی جغرافیہ ہے‘سعودی عرب کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اسکے تیل کے ذخائر کم ہونے کے بعد اب ختم ہونے کو ہیں جبکہ ایران تیل کے علاوہ گیس کی غیر معمولی صلاحیت اور ذخیرے سے بھی مالامال ہے‘امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے یہ ذخائر تا حال محفوظ ہیں تاہم ایران اور امریکہ کی باہمی کشیدگی کے باعث امریکہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا‘ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور بعض دیگر اتحادی ممالک کے بحری جہاز جو بحری روٹس استعمال کررہے ہیں ان میں سے تقریباً 50 فیصد ایرانی سمندری حدود یا اسکے قریب سے گزرتے ہیں ایسے ہی دو سعودی جہازوں کو گزشتہ روز راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اب ایک بڑی جنگ کی تیاریاں جاری ہیں ‘۔

روس اور چین نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور روس اس صف بندی میں ایران کےساتھ کھڑا نظر آرہا ہے‘تاہم دوسری طرف ریاض میں عرب ممالک کے ہونیوالے حالیہ ہنگامی اجلاس میں کھل کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کیا گیا اور ایران کو خطے کےلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا‘ لگ یہ رہا ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی ایران کےخلاف محدود جنگ کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ خدانخواستہ اگر محدود جنگ بھی چھڑ گئی تو یہ محض ایران تک محدود رہے گی کیونکہ ایک فرانسیسی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور مصر جیسے طاقتور ممالک امریکہ کی اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت کو علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں اور ترکی متوقع کشیدگی یا جنگ کی صورت میںامریکہ کےخلاف بھی کھڑا ہو سکتا ہے بظاہر تو امریکہ اور ایران کی دفاعی صلاحیت اور طاقت کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا تاہم اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ا یران اپنے نظریات‘ قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کے حوالے سے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ حساس واقع ہوا ہے‘ اتنے حساس اور قدرتی وسائل سے مالا مال خطے کے حالات سے روس اور چین جیسی اہم طاقتیں بھی لاتعلق نہیں رہ پائیں گی اس لئے خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا تو اسکے انتہائی خطرناک نتائج اور اثرات مرتب ہونگے ‘ان اثرات سے عرب ممالک کے باہر جو دو اہم ممالک براہ راست متاثر ہونگے وہ پاکستان اور ا فغانستان ہیں کیونکہ ایک تو دونوں کی سرحدیں ایران کےساتھ لگی ہوئی ہیں اور دوسرا یہ کہ دونوں امریکہ کے بھی اتحادی ہیں‘اس صورتحال میں پاکستان‘ ترکی‘ مصر اور چین جیسے ممالک مصالحانہ کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم خلاف توقع پاکستان اب تک اس مسئلے سے لاتعلق نظر آرہا ہے اور اسکی کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔