98

حکومت ڈاکٹر زمذاکرات

خیبرپختونخواحکومت کےساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ڈاکٹروں نے ایک ہفتے سے جاری ہڑتال ختم کردی ہے‘مذاکرات میں وزیراعلیٰ محمودخان‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی‘ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی‘چیف سیکرٹری سلیم خان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے‘مذاکرات میں ڈاکٹروں کا 17 رکنی وفد شریک ہوا‘وفدکی قیادت ڈاکٹر سراج اور ڈاکٹر عالمگیرنے کی‘ مذاکرات کے دوران دو کمیٹیاں بنانے پر اتفاق ہوا‘پہلی کمیٹی میںحکومت خیبرپختونخوا‘محکمہ صحت کے حکام اور ڈاکٹروں کے نمائندے شریک ہوںگے جو آراےچ اے میں اصلاحات کاجائزہ لےں گے‘دوسری کمیٹی کمشنر پشاور کی سربراہی میں قائم ہوگی جو خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پیش آنےوالے ناخوشگوارواقعہ کی انکوائری کرےگی اوراس حوالے سے حقائق سامنے لائے گی‘واضح رہے کہ گزشتہ منگل کے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالدین آفریدی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعدڈاکٹروں نے بائیکاٹ کا اعلان کررکھاتھا جسکی و جہ سے صوبے کے طول وعرض میں مریضوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا تھا ڈاکٹر متعلقہ وزےرکو عہدے سے ہٹانے کے علاوہ ٹاﺅن پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی برطرفی اور ڈاکٹر ضیاءالدین پر تشدد کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کررہے تھے ۔

جس کےلئے وہ ہڑتال پرتھے ‘ ڈاکٹروں نے سرکاری ڈیوٹی سے انکار کیساتھ ساتھ نجی کلینکس اور آپریشن تھیٹرز بھی بند کردیئے تھے جسکی وجہ سے مریضوں کوسخت مشکلات کاسامنا تھا جس پر وزیراعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں سے خود مذاکرات کا فیصلہ کیا ہڑتال کے دوران ڈاکٹروں نے دھمکی دی تھی کہ اگرانکے مطالبات پرعملدرآمدنہ کیاگیاتووہ ایمرجنسی شعبے میں بھی خدمات کا سلسلہ معطل کرنے کا اعلان کردیں گے جبکہ بعض مقامات پر پیرامیڈیکس‘نرسزاور کلاس فور ملازمین بھی ڈاکٹروں کی ہڑتال میں شریک ہونے کاا علان کر چکے تھے جس سے صورتحال مزیدخراب اور پیچیدہ ہو نے کاخدشہ پیدا ہوگیا تھا‘شایدیہی وجہ تھی کہ حکومت کو بیک فٹ پر جاتے ہوئے مذاکرات کاراستہ اپنانا پڑا ‘ ہڑتال کو موثر بنانے کیلئے ڈاکٹروں نے نجی کلینکس کو بھی تالے لگادیئے تھے جسکی وجہ سے گزشتہ کئی روز سے تمام تر نقصان عام غریب مریضوں کا ہورہا تھا جس پرعام شہری صوبائی حکومت اور خاص کر وزیر اعلیٰ سے سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے تھے‘ دریں اثناءہڑتال کے خاتمے کیلئے حکومت نے ڈاکٹروں کےساتھ مذاکرات کا جواچانک فیصلہ کیا اسکی ہرسطح پر تحسین کی جارہی ہے اور اسے ایک بروقت قدم کے طور پردیکھاجارہا ہے ‘محکمہ صحت اور ڈاکٹروں کے درمیان جاری تنازعہ پر صوبائی حکومت کے تبادلہ خیال اور بعدازاں وزیراعلیٰ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کامیاب مذاکرات اور بالخصوص ڈاکٹروں کے ہڑتال کے خاتمے کے بعد اگر ایک طرف حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

 تودوسری جانب اس فیصلے سے ہڑتالی ڈاکٹرزکو بھی نارمل حالت پرلوٹنے کاموقع ملا ہے جبکہ تیسری جانب اس قضیئے سے سب سے زیادہ متاثر ہونےوالے اہم فریق غریب عوام نے بھی اس ڈراپ سین پرخوشی کا اظہار کیا ہے۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کے کامیاب مذاکرات کے بعد یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خاتمے کے بعد اگر حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات من وعن تسلیم نہیں کرتی تواسکا سیدھا سادا مطلب سیاسی خودکشی ہوگاکیونکہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں ڈاکٹروں کے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے جہاں وہ اپنی اب تک کی ہڑتال کے اخلاقی اور قانونی جواز سے محروم ہو جائیں گے وہاں اس انتہا پرپہنچنے کے بعد اگر وہ ہڑتال کے خاتمے کی صورت میں اپنے سخت موقف میں لچک کامظاہرہ کرتے ہیں توتب بھی حکومت کےلئے نہ صرف ڈاکٹروں کی مرضی کےخلاف اپنے اعلان شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پرعمل درآمد کروانے کااخلاقی جواز فراہم ہوجائے گا بلکہ اسے زیادہ جارحانہ انداز میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام کے نام پر ڈاکٹروں کی اتھل پتل کا سرٹیفیکیٹ بھی حاصل ہوجائے گا‘اس صورتحال میں حکمت کاتقاضا یہی ہے کہ حکومت جس پر ہر لحاظ سے زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کو ڈاکٹروں کے بعض سخت مطالبات کوبھی کڑوا گھونٹ سمجھتے ہوئے غریب عوام کے وسیع تر مفاد میںحلق سے اتار کر اپنی پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ نرمی ضرور لانی چاہئے‘ اس اپروچ کے تحت ہی اس سنگین بحران کے ڈراپ سین کی توقع کی جاسکتی ہے بصورت دیگر اس تنازعے کا خمیازہ مریض بھگتتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔