158

بجلی‘گیس چوری

وزیراعظم عمران خان نے بجلی اور گیس چوری کے خلاف کاروائی جاری رکھنے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز ایکشن لینے کی ہدایت دی ہے‘ توانائی کے وزیر عمر ایوب کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم نے چوری میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے کا بھی کہا ہے‘ وطن عزیز کو معیشت کے حوالے سے سخت ترین چیلنجوں کا سامنا ہے‘ کھربوں روپے کے اندرونی وبیرونی قرضوں نے بحران کی سی کیفیت پیداکررکھی ہے‘صورتحال بگڑتے بگڑتے اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اب صرف قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں‘ زرمبادلہ کے ذخائر پر لوڈ کم کرنے اور آﺅٹ فلو کا گراف گرانے کیلئے ادھار تیل لیاجارہا ہے‘ حکومتی سطح پر اصلاح احوال کے اقدامات صورتحال کو وقتی طورپر سنبھالنے میں معاون ہوسکتے ہیں ‘ انہیں مسئلے کا پائیدار حل کسی صورت قرار نہیں دیاجاسکتا‘ تجارتی خسارے میں کمی اور معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کا فروغ ناگزیر ہے‘ ان سرگرمیوں کو بڑھانے کیلئے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا‘ ٹیکس نظام میں اصلاحات کیساتھ انویسٹرز کو ون ونڈو آپریشن میں سہولیات دینا ہوں گی‘ ۔

اس سب کیساتھ ضروری ملک میں توانائی بحران پر قابو پانا ہے‘ جب تک یہ بحران اپنی جگہ ہے اور بجلی وگیس کے بھاری بل پیداواری لاگت میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں ہم معیشت کے حوالے سے اصلاح احوال کی کوششوں کو ثمر آور نتیجے تک نہیں پہنچاسکتے‘بجلی کی پیداوار بڑھانے اور اس کی پروڈکشن کاسٹ کو قابو میں لانے کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر ضروری ہے‘ جس پر سیاسی قیادت کو اتفاق کیساتھ اہم فیصلے کرنے ہیں‘ بجلی اور گیس کے ضیاع کو روکنے کیلئے لوڈ مینجمنٹ کا فول پروف نظام ضروری ہے‘ اس سب کیساتھ بجلی اور گیس کی چوری روکنے کیلئے کنکریٹ پلان دیناہوگا‘ چوری پر قابو پانے کے ذمہ دار شعبوں کو فعال بنانا ہوگا‘ا ہلکاروں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنا ہوگی‘ترسیل کے نظام میں بہتری لانا ہوگی‘ بجلی اور گیس کی چوری کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے بل جمع کرانے والے صارفین کو سزا دینے کا طریقہ کار قطعاً قرین انصاف نہیں‘ اس سے ہٹ کرذمہ دار ادارے جو بھی اقدامات اٹھائیں انہیں صوبوں میں انتظامیہ اور عوام کی سپورٹ حاصل ہوگی‘ جس کیلئے ذمہ دار محکموں کے ذمہ داروں کو بھی فاصلے گھٹانے ہوں گے۔

پاکستان کی امن کیلئے خواہش

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت بی جے پی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی ہے‘ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بی جے پی کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن وترقی کیلئے مودی کیساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں‘ا طلاعات ونشریات کیلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے‘ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بھارت نے مذاکراتی عمل سے کسی نہ کسی بہانے ہمیشہ فرار اختیار کیا ہے‘ اب خطے کے مجموعی منظرنامے میں دیکھنا یہ ہے کہ مودی طاقت کا استعمال اپنے عوام کی بہتری کیلئے کرتے ہیں یا پھر خطے میں انتشار کیلئے‘ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور ہمیشہ امن کا خواہش مند رہا ہے تاہم خطے میں پاکستان ایک اصولی موقف رکھتا ہے جو اس کا حق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔