64

کردارکی خوبیاںہم سے چھن چکی ہےں

 یہ ای میل کینیڈا سے موصول ہوئی تھی جس میں اےک ریلیف آرگنائزیشن کی طرف سے عید باسکٹ تحفہ دینے کے بارے میں تاکید کی گئی تھی مغرب کے ممالک میں غریب لوگ بھی خود دار اور مہذب ہیں ان کو بچا ہوا سالن اور پھٹے پرانے کپڑے دینے کا کوئی بھی سوچ نہیںسکتا عید باسکٹ میں ڈالنے والی چیزوں کے بارے میں واضح ہدایات تھیں کہ اس میں زیتون کا تیل‘ چاکلیٹ‘ بسکٹ ‘جوسز‘خشک دودھ ‘خشک میوہ جات اور نئے کپڑے ہونے چاہئےں‘ ای میل تو اس قسم کی آتی رہتی ہیں اور صاحب دل لوگ یہ تمام احکامات اللہ کا حکم سمجھ کر قبول بھی کرتے ہیں ‘مےںتو آج اس سوچ کی بات کرنا چاہتی ہوںجو اس ای میل کے پیچھے موجود ہیں‘ بیرون ممالک ہمارے مسلمان بہن بھائیوں نے ایسی ایسی انجمنیں بنائی ہوتی ہیں جو مستحق افراد کی مدد ان کے دروازے پر جا کر کرتی ہیں‘ وہاں غریب بھیک نہیں مانگتے اپنے آپ کو غریب ظاہر کرنے کےلئے پھٹے ہوئے کپڑے بھی نہیں پہنتے اور نہ ہی بدبودار حد تک گندے ہو کر خود کو غریب ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی امیر لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو 100روپے کا نوٹ غریب عورت کو پکڑا کے تصویر بنا رہے ہوتے ہیںیا پھر باپردہ خاتون کے ہاتھ میں سلائی مشین دےکر اپنی زکوٰة کی تشہیر اخبارات میں کرواتے ہیں‘ ان کی خیرات ‘زکواة‘صدقہ خالصتاًاللہ کےلئے اور بندے کی حالت بدلنے کےلئے ہوتا ہے‘جب میں کینیڈا سے چلی تو میرے دل میں یہی خیالات تھے اور سینے میں موجیں مارتا ہوا ہمدردی کا سمندر کہ میرے علاقے کے غرباءکےلئے میں نے اس دفعہ بہت کچھ کرنا ہے اور پھر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مانگنے والوں کا ایسا سمندر بیکراں تھا کہ میں گھبرا گئی ‘ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے کہ انہوں نے میری دی ہوئی اشیاءذرا آگے جا کر اونے پونے داموں بیچ دی تھیں اور میرا یقین متزلزل ہو گیا تھا کہ کیا واقعی انہیں ان چیزوں کی ضرورت تھی جو ہم چیخ کر ‘ جھگڑا کرکے لینے اور چھیننے کی کوشش کر رہے تھے‘ نہیں ہر گز نہیں اگر انہیں ان اشیاءکی حقیقتاً ضرورت ہوتی تو وہ ایسا ہر گز نہ کرتے کیوں کہ ان کے دل میں لالچ تھی ’پیسے کی لالچ ‘ و ہ مستحق نہیں تھے اور اگر وہ مستحق نہیںتھے توکسی اور کو پیچھے کیوں کردیا تھا‘یہی فرق قوموں کے درمیان انکی ترقی اور عروج کی ایک طویل داستان ہے جس سے تاریخ بھری پڑی ہے‘ مجھے جس نے ای میل بھیجی ہے میں اس کو جانتی ہوں وہ ایک ایسی آرگنائزیشن کی سربراہ ہے ۔

جو زکوٰة خیرات مستحق افراد تک ضرور پہنچائے گی اور ایسے مستحق افراد جو صرف وہی چیز لینا پسند کرینگے جسکی انہیں ضرورت ہوگی اور شکریہ کہہ کرآگے بڑھ جائیں گے تاکہ دوسرے کو اس کا حق مل جائے‘ شاید حقیقی توکل کی دولت سے یہی لوگ مالال ہیں جن کو ذخیرہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی ان کی بھوک صرف آج تک محدود ہوتی ہے‘ اسلئے کل اللہ تعالیٰ ان کے دروازے پر خود دستک دلواتا ہے ‘ذخیرہ کرکے اس نیت سے اشیائے خوردنی چھپا لینا کہ مہینے بعد اسکو نکال کر بیچیں گے تاکہ ان کا پہلا مال مہنگا بک جائے ‘لیموں چھپا لینا‘چینی چھپا لینا‘ اشیائے خوردونوش کو عوام ا لناس سے دور کرکے انکی مانگ میں اضافہ کر دینا یہ پست ذہنیت کے مالک کی سوچ ہے جسکی لالچ کی کوئی انتہا نہیں ہوتی‘لوگ زکوٰة‘ صدقہ دیتے ہوئے ایک عجیب سے شک و شبے کا شکار ہو جاتے ہیں مستحق لوگ چھپ جاتے ہیں ان چہروں کے پیچھے جو پیشہ ور ہوتے ہیں‘ کیا تمام ترین فریب ‘ مکر اور فراڈ کرنے میں ہم خود کفیل ہوگئے ہیں‘ ملک تباہ ہو‘ برباد ہو‘ ادارے تباہ ہو جائیں برباد ہو جائیں ہم صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتے ہیں‘ ہاں اگر میرے پاﺅں پر کسی کا پاﺅں آجائے تو قیامت اسی وقت ٹوٹے گی ‘میں نے کبھی اپنے وطن کی اپنی سرزمین کو اپنی ماں دھرتی کو اپنا سمجھا ہی نہیں ‘اگر کوڑا پھینکنا ہے تو سڑک حاضر ہے اگر گندگی پھیلانے کو دل چاہتا ہے تو نالیاں نالے اور بہتے ہوئے پانی کی نہریں اور کھٹے حاضر ہیں‘ یقین کریں کوئی بھی نہیں پوچھے گا کوئی ایسا ہاتھ آپ کو روک نہیں سکتا جو ہاتھ کےساتھ ساتھ آنکھ بھی رکھتا ہو کیوں کہ اس ہاتھ اور آنکھ رکھنے والے شخص کو معلوم ہے کہ میرے روکنے سے میرا انجام کیا ہوگا‘ ہم بے حس‘ لاتعلق‘ حالات پر تمسخر اڑانےوالی اےک خلقت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

 ‘ مغرب میں لوگ تیز رفتار ہیں لیکن وہ پوری طرح اپنے اردگرد سے باخبر ہیں اپنے حالات سے اور اپنے فرائض سے باخبر ہیں‘ ایک بہت بڑے اور خوبصورت پارک میں ہم نے آدھا دن گزارا‘ باربی کیو کیا‘ بچوں سے زندگی کی خوشیوں کو متعارف کروایا اور اس پارک میں بے شمار خاندان ‘ہماری طرح ہی بے فکری سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہ اسلئے کہ ان کی جان مال عزت و آبرو محفوظ تھی‘ جب شام کے سائے ڈھلنے لگے تو شاید ہماری فیملی سب سے آخر میں اس پارک سے نکلی‘میں نے پارک پر نظر ڈالی پارک ایسے صاف ستھرا تھا جیسے میں نے صبح داخل ہوتے وقت دیکھا تھا‘ دیکھتے ہی دیکھتے چند سٹوڈنٹس سارے پارک میں پھیل گئے انکے ہاتھوں میں کالے رنگ کے بڑے بڑے شاپر تھے‘انہوں نے خود بھی ہاتھوں پر دستانے پہنے ہوئے تھے‘ بڑی مہارت اور چابکدستی سے بہت بڑے بڑے کوڑا دانوں سے پہلے سے گند کے بھرے ہوئے لفافوں کو گرہ لگائی اور نئے لفافے ان کوڑا دانوں پر چڑھا دیئے ایک کے بعد دوسرا اور وہ تمام معمولی معاوضوں کے عوض یہ کام کررہے تھے ‘اسلئے کہ یہاں کی ثقافت اور تہذیب ہے ‘ان میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں اور ایسی خوبصورت کالج یونیورسٹی کی طالبات کہ ہمارے ملک میں ایسی سوچ ہی نہیں ہو سکتی کہ ہم یونیورسٹی کالج میں پڑھنے والے کوڑے دان صاف کریں‘اپنے ملک و قوم کی محبت اگر دل میں گامزن ہو جائے تو پھر باہر کی بدبو انسان کے اندر کی خوشبو کو ختم نہیں کرسکتی‘ ہم نے کیوں قسم کھا رکھی ہے کہ ہم صرف حکومتی کارکنان کا انتظار ہی کرینگے اور اپنا کام خود نہیں کرینگے‘ مجھے آج بھی یقین ہے کہ میں اپنی آبائی گلی پشاور شہر میں چلی جاﺅں تو گلی کی نکڑ پر کوڑے کا بڑا ڈھیر میرا منہ چڑائے گا۔

 پرانے زمانے میں جمعدار سسٹم تھا جوگھر کے اندر سے آکر کوڑا اٹھا کر باہر ڈمپ کرنے کا کام کرتا تھا‘ ماشکی سڑکوں پر منہ اندھیرے چھڑکاﺅ کرتے تھے‘ صفائی ستھرائی کا خیال کیا جاتا تھا صرف وہی لوگ زکوٰة خیرات لینے کے روادار ہوتے تھے جن کو واقعی ضرورت ہوتی تھی‘ بہت زیادہ سفید پوش جو اپنے چہرے سے اور اپنے لباس سے کسی کو شک بھی نہیں ہونے دیتے تھے کہ ان کو واقعی راشن کی ضرورت ہے شاید ہم لوگ ہر بات میں بے باک ہوگئے ہیں‘اپنی رائے دینے میں دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے میں دوسروں کو برا بھلا کہنے میں جھڑک کے خاموش کروانے میں اور سب سے بڑھ کر دھکا دینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں رہا‘ پھر ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم ترقی کریں‘ ہمارے سکول اچھے ہو جائیں‘ ہمیں روزگار مل جائے‘ ہمیں سستی اشیاءمیسر ہوں‘ ہم خوشحال ہوجائیں‘ خوشی اور امید تو ان خوبیوں میں ہے جو نہ جانے کب ہم سے چھن گئی ہیں‘ ان خامیوں کے ساتھ ہمارے حالات ہمارا پیچھا کیوں چھوڑیں گے بھلا ۔۔۔۔۔ ضرور سوچئے گا۔