71

جوش کے بجائے ہوش

 جو کام مولانا فضل الرحمان صاحب نے کرنا چاہا وہ کام بلاول نے کردکھایا‘پی پی پی کے چیئرپرسن نے افطار پارٹی مےں تقریباً تمام سرکردہ اپوزیشن کے رہنماﺅں کو اپنے دولت خانے پر جمع کر ڈالا ‘ عید الفطر کے بعد حکومت کےخلاف سیاسی تحریک چلانے کا طبل جنگ تو زرداری صاحب نے اس افطار پارٹی سے پہلے ہی بجا دیا تھا‘ اس تحریک کے خدوخال تو طے ہوچکے ‘ہڈیوں پر البتہ گوشت چڑھانے کا عمل ہنوز ہونا ہے‘ سردست سراج الحق صاحب نے یہ توفرمادیا ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے پر اگر دیگر اپوزیشن جماعتیں ان کو شرکت کی درخواست کرتی ہیں تو عین ممکن ہے جماعت اسلامی بھی انکے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دے‘اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں نے بھانپ لیا ہے کہ جون میں بجٹ کے بعد ملک میں مہنگائی کی لہر میں اضافہ ہوگا‘ عوام میں مزید بے چینی پھیلے گی‘ چنانچہ وہ وقت ان کو سڑکوں پر لانے کیلئے موزوں ترین ہوگا اگر تو کوئی عنصران کی اس تحریک کےخلاف جائے گا تو وہ موسم کی شدت ہوسکتی ہے یا پھر غیر معمولی بارشوں اور سیلابوں کے ریلے کیونکہ محکمہ موسمیات نے جولائی میں سخت بارشوں اور سیلابوں کی پیش گوئی کر رکھی ہے‘ ۔

سخت گرمی ہو کہ سیلاب یہ دونوں عناصر اپوزیشن کی تحریک میں رخنہ ڈال سکتے ہیں‘یہ ملک مزید افراتفری اور انتشار کا متحمل بالکل نہیں ہوسکتا‘سی پیک پر بلاتعطل کام کیلئے مکمل امن سکون وآشتی کی فضاءدرکار ہے تاکہ یہ اپنے وقت پر مکمل ہوسکے‘اس کیلئے حکومت کی یکسوئی بھی درکار ہوگی‘ خدانخواستہ اس میں اگر ذرا سی بھی کھنڈت پڑ گئی تو پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے‘بیرونی ممالک خصوصاً وہ کہ جو پاکستان کو معاشی طور پر پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے‘وہ تو دل سے چاہیں گے کہ بلوچستان میں خصوصاً اور پاکستان میں عموماً امن عامہ اس قدر دگر گوں ہوجائے کہ چینی سی پیک پر کام کرنے سے توبہ کرلیں‘ملک کے اندر جو سیاسی رہنما گزشتہ برس کے جنرل الیکشن میں راندہ درگاہ ہوئے ہیں وہ دریا سے نکلی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں انہیں آئندہ تین چار سال کا عرصہ ایک پہاڑ کی مانند دکھائی دے رہا ہے‘اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی تحریکیں اکثر آمرانہ نظام کو جنم دیتی ہیں‘ 1958ءکی عوامی تحریک ہمیں یاد ہے جو خان عبدالقیوم نے چلائی تھی اور اس کا نتیجہ پھر ایوب خان کے مارشل لاءکی صورت میں نکلا‘ ذوالفقار علی بھٹو کےخلاف عوامی تحریک کا بھی کم وبیش یہی انجام ہواجب جنرل ضیاءالحق اقتدار میں آگئے‘ سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے۔

‘ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس ملک میں جب بھی عوامی تحریکیں چلیں ملک دشمن عناصر نے اپنے غیر ملکی آقاﺅں کی انگشت پر ان میں شرپسند داخل کردیئے‘جن کے ہاتھ سرکاری اور نجی املاک کا بے پناہ نقصان ہوا‘ اسکا پھر منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سختی سے کام لیا چونکہ شرپسند عناصر کی منشاہی یہی تھی کہ ان کا اور ریاستی اداروں کا ٹکراﺅ ہو تاکہ حکومت کی بساط الٹ جائے لہٰذا انکے احتجاج میں شدت کاعنصر زیادہ ہوا ‘ایسا بھی ہوا کہ احتجاج کرنےوالوںپرسیاسی رہنماﺅں کا کنٹرول ختم ہوگیا اور وہ ایک شتر بے مہار کی طرح بے قابو ہوگئے‘اپوزیشن بے شک احتجاج کرے کہ یہ اس کا جمہوری حق ہے پر وہ ماضی کی تلخ تجربات سے بھی سبق لے اور اس بات کا بھی خاص خیال رکھے کہ ان کی صفوں میں وہ غیر ملکی عناصر شامل نہ ہوجائیں کہ جن کا ایجنڈا یہ ہے کہ سی پیک کو ہر حالت میں فیل کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔