63

بھارتی انتخابات

 بھارت میں انتخابات کا نتیجہ سامنے آ گیاجس طرح بی جے پی نے میدان مارا ہے اس سے ایک بات سامنے آ گئی ہے کہ ہندوستان میں اب ہندو ازم ہی چلے گا‘مسلمانوں کےلئے ایک علےحدہ مملکت کے حصول کی جو جدو جہد ہمارے اکابرین نے کی تھی اور جس کےلئے ایک خاص طبقہ آج تک اسکے خلاف باتیں بنا رہا تھا اب اس کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ ہندو کا آزاد ہندوستان اور اکھنڈ بھارت کا مطالبہ اسی لئے تھا کہ ہندوستان میں ایک ہی ذات کی حکومت ہو اور وہ ہندو ہے۔ جب اکھنڈ بھارت اور شدھی وغیرہ کی تحریکیں شروع ہوئی تھیں تو ہمارے اکابرین نے جان لیا تھا کہ ہندو لیڈروں کا اصل مقصد کیا ہے اسی لئے انہوںنے اپنی شناخت کو قائم رکھنے کےلئے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا‘ وقت کےساتھ بی جے پی کی حکومت کے عزائم سامنے آتے گئے‘ پاکستان کےساتھ انکی جو دشمنی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اوران انتخابات کے دوران جس طرح ہندو ازم کی باتیں کی گئیں اور اسے بی جے پی کے نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہندوستان اپنے بنیادی فلسفے سے ہٹ گیا ہے‘ کانگرس جو نہرو اور گاندھی جی کے فلسفے کی علم بردار تھی اس کو ایسی شکست سے دوچارہونا پڑا کہ جس سے ظاہرہوگیا کہ اب ہندوستان میں گاندھی جی اور نہرو کا فلسفہ چلنے والا نہیں ہے‘ اسکے بعد ہندوستان میں اقلیتوں کےساتھ کیا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر لگتایہی ہے کہ اب ہندوستان میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کےلئے مزےدمشکل وقت آرہا ہے‘جس طرح اس الیکشن کے دوران اور اس سے قبل بھی مسلمانوں کو تنگ کرنے اور انکے گھروں پر حملوں اور بی جے پی کا اپنی الیکشن مہم میں پاکستان کو گھسیٹنا اس امر کی دلیل ہے کہ اب ہندوستان میں ہندوﺅں کے علاوہ کسی بھی مذہب کے لوگوں کےلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ہندوستان کا ایک بڑی منڈی ہونا اس کےخلاف مغربی طاقتوں کا منہ بند رکھنے کا بڑا عنصر ہے‘۔

 ہندوستان کےخلاف بات کر کے مغربی دنیا اپنی ایک بڑی منڈی سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتی اسلئے یہ بھی امید نہیں کہ اگر ہندوستان میں اقلیتوں کےخلاف کوئی اقدامات ہوں گے تو مغرب ان کی مذمت کرےگا‘ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اقلیتوںکےخلاف ہندوﺅں کا رویہ یہی رہتا ہے تواس میں مختلف ریاستوں میں جو آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ اور بھی تیز ہو جائیں اور ہندوستان اپنی ہی نفرت کے بوجھ تلے دب کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔ ادھر امریکہ جو کام ہندوستان سے لینا چاہتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے‘ اس لئے کہ ہندو اتنا بھی سادہ نہیں کہ وہ کسی کےلئے اپنا نقصان کرے گا۔ چین کےساتھ وہ اس طرح کی دشمنی نہیں کر سکتا کہ جیسی امریکہ اس سے چاہتا ہے اسلئے کہ ہندوستان چین کا قریبی پڑوسی ہے اور اتنی قربت والے پڑوسی سے کوئی بھی دشمنی پال کر سکھی نہیں رہ سکتا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تووہ ایسا ہی رہے گا۔ گو پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ بی جے پی حکومت ایک میز پر بیٹھ کر دونوں ملکوں کے درمیان ہونےوالے تنازعات کا حل نکالے اور ان تنازعات میںسب سے بڑا تنازعہ توکشمیر ہے جسکا سٹیٹس بھی بی جے پی ختم کرنا چاہتی ہے اور یہ تنازعہ یو این او کے ایجنڈے پر اب بھی حل طلب ہے مگر لگتا نہیں کہ بی جے پی کی حکومت اس تنازعہ کی طرف کوئی پیش قدمی کر پا ئے‘ یو این او کا تو سب کومعلوم ہے کہ جس طرح یہ تنازعہ 1948سے اسکے ایجنڈے پر حل طلب ہے اورا س کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی آئندہ بھی اس مسئلے کو کوئی اہمیت ملے گی‘اب یہی کوشش ہونی چاہئے کہ مسائل کو مل جل کر حل کیا جائے مگر اس میں ہندوستان کی بالا دستی والی بات نہ ہو‘ جبکہ ہندوستان بھی اور اسکے علاوہ مغربی طاقتیں خصوصاًامریکہ یہی چاہتا ہے کہ اس خطے میں چودھراہٹ ہندوستان کی ہو مگر شاےد پاکستان کے لئے یہ ممکن نہ ہو کہ وہ ہندوستان کی چودھراہٹ تسلیم کرلے‘ پاکستان بننے کے بعد جو مسلمان پاکستا ن آ گئے وہ تو ہو گیا مگر جو ہندوستان میں رہ گئے ان کی آواز بھی پاکستان ہی کو بننا ہے‘ہندوستان اگر اقلیتوںکےساتھ ناروا سلوک کرتا ہے تو پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کےخلاف آواز اٹھائے‘ تاہم دیکھا جائے کہ اب مودی سرکار کی پاکستان کےساتھ کیا پالیسی بنتی ہے‘چاہتے توسب یہی ہیں کہ ہم باہمی امن کےساتھ ہمسائیوںوالی زندگی بسر کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔