66

معاشرے کابوجھ

 امریکہ میں قائم تھنک ٹینک ادارے نیو امریکن فاو¿نڈیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق تین ہزار جہادی ملزموں کے علاوہ درجنوں ایسے افراد بھی اسوقت امریکی جیلوں میں قید ہیں‘ جن پر الزام ہے کہ وہ چین کو امریکی راز فروخت کرتے رہے ہیں یا دیگر ایسے سنگین جرائم میں مرتکب پائے گئے ہیں کہ جن سے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔ کچھ افراد کو عارضی رہائی کا حق مل جانے کے باوجود عمر قید میں رکھا جا رہا ہے تاہم ایسے افراد کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے جنہیں یا تو رہا کیا جا چکا ہے یا کسی بھی وقت رہا کر دیا جائے گا۔ رواں ہفتے امریکی طالبان کے نام سے معروف جان فیلپ واکر لندھ کو جیل سے رہا کر دیا گیا جبکہ اس عمل کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خلاف ضمیر قرار دیا ہے‘جان واکر کو 2001ءمیں افغانستان میں لڑائی کے دوران پکڑا گیا تھا اور انہیں مجموعی طور پر بیس سال قید کی سزا دی گئی تھی امریکی صدر ٹرمپ نے جان واکر کی رہائی کے بارے میں کہا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں آئی‘ اور انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت جان پر کڑی نظر رکھے گی‘ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانونی نقطہ نظر سے ہم مجبور ہیں اور جان کی آزادی ختم نہیں کر سکتے‘امریکی نژاد جان واکر کو نائن الیون حملے کے بعد افغانستان سے حراست میں لیا گیا تھا‘1981ءمیں واشنگٹن ڈی سی میں پیدا ہونےوالے بچے کا نام جان واکر ’جان لینن‘ سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا‘ انہوں نے سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر عربی زبان و ادب سیکھنے کےلئے پہلے یمن اور پھر2000ءمیں مزید مذہبی تعلیم کےلئے پاکستان آئے‘ جو انکی زندگی اور نظریات تبدیل کرنے کا باعث ثابت ہوا پاکستان سے مئی 2001ءمیں وہ طالبان تحریک کےساتھ شامل ہونے کےلئے افغانستان چلے گئے۔ 2002ءمیں انہیں طالبان کی معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا اور بیس برس قید کی سزا ملی تھی جسکے سترہ سال پورے کرنے کے بعد انہیں رہاکر دیا گیا ہے‘۔

اسکے بعد انہیں غدار کے طور پر جانا گیافی الوقت جان واکر کی عمر 38برس ہے۔ رہائی کے بعد بھی ان پر چند پابندیاں برقرار رہیں گی جیسا کہ وہ بغیر خصوصی اجازت انٹرنیٹ کا استعمال اور نہ ہی آزادانہ طور پر سفر کر سکیں گے‘ جان واکر نے قید کے دوران ہی آئرلینڈ کی شہریت حاصل کر لی تھی‘ جہاں سے انکی دادی کا تعلق تھا اور جب ان پر عائد سفری پابندیاں ہٹ جائیں گی تو وہ آئرلینڈ جا سکیں گے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہیں علم ہوگا کہ دنیا میں کس قدر ڈرامائی تبدیلیاں آچکی ہیں‘انہیں روزمرہ کی چیزوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا‘اسی طرح فیصل غالب نامی امریکی شخص کا تعلق ریاست پینسلوینیا کے مشہور لیکوانا گروپ سے ہے‘ انہیں بھی دہشت گردی سے متعلق الزامات کی پاداش میں سات برس قید کی سزا ملی اور 2008ءمیں انہیں رہا کیا گیا۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کو امریکی معاشرہ بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ یہ تعمیری سوچ پائی جاتی ہے کہ ایسے افراد کا قرض معاشرے کو اَدا کرنا چاہئے‘امریکہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے قابل ملامت جرائم کا ارتکاب کیا ہو‘ چاہے وہ دہشت گردی کے الزامات ہوں یا پھر قومی سلامتی کےلئے خطرہ‘ کیا سزا کے ختم ہونے کے بعد ان افراد کا معاشرے میں خیرمقدم کیا جاناچاہئے؟اگر ہاں تو پھر انہیں کیسے خوش آمدید کہا جانا چاہئے یا پھر کم از کم معاشرے میں انہیں شامل کیسے کیا جائے؟ ۔

قانونی طور پر بات کی جائے تو یہ بہت سیدھا سا معاملہ ہے‘جو لوگ اپنی سزا کاٹ چکے ہیں وہ اپنے دوستوں اور خاندان کےساتھ دوبارہ مل سکتے ہیں اور اپنی زندگی دوبارہ شروع سکتے ہیں یعنی جس شخص نے اپنے گناہوں کا قرض چکا دیا ہے وہ اب اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن ایسے افراد اپنی زندگی دوبارہ کیسے شروع کرتے ہیں‘ یہ ہر شخص کےلئے مختلف تجربہ ہوگا۔ امریکی حکومت کے پاس سرکاری طور پر کوئی ایسا پروگرام نہیں‘ جسکے تحت رہا ہونے والوں کو باہر کی دنیا میں اپنا راستہ تلاش کرنے میں مدد دی جا سکے‘پاکستان میں بھی جان واکر جیسے کئی کردار جیلوں میں ہیں جو عنقریب یا بدیر رہا ہو جائیں اور ایسی بڑی تعداد سزا مکمل کرنے کے بعد رہا ہو بھی چکی ہے لیکن حکومت کے پاس ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور انہیں پھر سے معمول کی زندگی بسر کرنے میں مدد دینے کی کوئی حکمت عملی موجود نہیں اور اگر یہ بات امریکیوں کےلئے پریشانی کا باعث ہے تو پاکستان کےلئے بھی یکساں غور و فکر کی گھڑی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔