52

سوشل میڈیا:تخریب کاریاں

 انٹرنیٹ کے ذریعے جہاں مالیاتی اداروں کے کام کاج‘ عمومی و خصوصی کاروباری سرگرمیاں‘ ذرائع ابلاغ اور طرزحکمرانی رواےتی اسلوب سے آن لائن ہونے کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے‘ وہیں انٹرنیٹ تخریب کاری کا باعث بھی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا میں یکساں اس موضوع پر صرف غوروخوض ہی نہیں بلکہ عمل درآمد بھی ہو رہا ہے اور اب سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر صرف اکاو¿نٹ کھولنا ہی کافی نہیں رہا بلکہ معلومات اور تفریح تک رسائی کے ان وسائل کے استعمال سے متعلق قواعد و ضوابط بھی زیادہ سختی سے لاگو کئے جا رہے ہیں‘حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سطحی معلومات رکھنے والے کسی عام صارف جن میں اکثریت نوجوانوں اور بطور خاص طلباءو طالبات کی ہے‘ کےلئے ممکن نہیں رہا کہ وہ حقائق اور گمراہ کن تصورات میںتمیز کر سکیں‘سوشل میڈیا سے لاحق خطرات کا شمار کیا جائے تو اسکے فوائد کم پڑ جاتے ہیں سوشل میڈیا مادرپدر آزاد رہا ہے لیکن اسے کٹی پتنگ کی طرح ہوا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کےساتھ سوشل میڈیا کے تخلیق کار اور نگران یعنی قانون نافذ کرنےوالے ادارے ایک دوسرے کےساتھ تعاون کی صورت ریاستوں کے حقوق کا تحفظ بھی بہ امر مجبوری کر رہے ہیں‘ کیونکہ سوشل میڈیا کا مثبت سے زیادہ منفی استعمال تشویشناک تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور اس سے استفادہ کرنےوالے اس بات کو اپنی ذمہ داری بھی نہیں سمجھ رہے کہ انہیں کسی کی بھی پگڑی اچھالنے یا بناءتحقیق کسی بھی بات کو مزید پھیلانے کا اختیار تو ہے لیکن حق حاصل نہیں!عالمی اور پاکستان کی سطح پر سب سے مقبول سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ شائع کی ہے‘ جس میں اکتوبر 2018ءسے مارچ 2019ءکے عرصے میں مختلف اکاو¿نٹس اور پیغامات کےخلاف کی گئی کاروائیوں کی تفصیلات شامل ہیں‘ مذکورہ 6ماہ کے عرصے میں فیس بک نے پہلی مرتبہ 3ارب ایسے اکاو¿نٹس کو بند کیا‘ جو فرضی ناموںکے ذریعے تخلیق کئے گئے تھے‘اس کے علاوہ 70لاکھ سے زائد نفرت انگیز مواد پر مشتمل پوسٹس کو بھی حذف کر دیا گیا ہے جو اپنی نوعیت کی غیرمعمولی کاروائی ہے۔

‘یاد رہے کہ سوشل میڈیا کی بیشتر ویب سائٹس امریکی باشندوں کی ملکیت ہیں اور ان کے ذریعے امریکہ کے سکےورٹی بشمول خفیہ ادارے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں اور ان کے رجحانات پر نظر رکھتے ہیں۔ فیس بک کے بقول جعلی اکاو¿نٹس کی تعداد میں اِضافہ اسلئے بھی ہوا کیونکہ کچھ برے عناصر خود کار طریقوںکے استعمال سے انہیں تخلیق کر رہے تھے فیس بک کے مطابق اس سے پہلے کے یہ جعلی اکاو¿نٹس کسی نقصان کا سبب بنتے‘ ان میں سے زیادہ تر کو چند ہی منٹوں میں شناخت کر کے ہٹا دیا گیا‘ فیس بک اب ایسی تمام پوسٹس کی تفصیلات بھی جاری کرےگی جن کو منشیات اور اسلحہ فروخت کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے‘علاوہ ازیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی‘ تشدد اور دہشت گردی‘ گمراہ کن اطلاعات کی تشہیر پر مشتمل مواد کی صارفین تک رسائی کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں‘ جو الگ سے وسیع موضوع ہے کہ کس طرح نئی نسل سوشل میڈیا کے فریب میں آ کر اپنی صحت و زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیس بک پر دیکھے جانےوالے مواد کے ہر 10ہزار حصوں میں‘ چودہ سے بھی کم لوگوں نے عریانی پر مشتمل مواد دیکھا۔ قریب پچیس افراد نے تشدد یا گرافک مواد دیکھا‘ تین سے بھی کم افراد نے بچوں سے زیادتی یا دہشت گرد پروپیگنڈہ سے متعلق مواد میں دلچسپی ظاہر کی اور مجموعی طور پرفیس بک کے ماہانہ فعال صارفین میں سے تقریباً پانچ فیصد کے اکاو¿نٹس جعلی تھے‘ فیس بک احتساب کے عمل میں جن امورکی نشاندہی کی گئی ہے اسکا مقصد احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہے‘ والدین‘ سرپرستوں‘ اساتذہ اور حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نئی نسل کو سوشل میڈیاکے مثبت‘ تعمیری اور تخلیقی پہلوو¿ں سے روشناس کرائیں‘پاکستان جیسے معاشرے میں فاصلاتی تعلیم‘ بیماریوں یا سماجی روئیوں سے متعلق شعور اجاگر کرنےوالی مہمات کےلئے فیس بک پلیٹ فارم کسی نعمت سے کم نہیں لیکن اگر سوشل میڈیا سے استفادہ کرنے کی تعلیم عام کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔