132

حکومت کا آمدنی میں اضافے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانے پر غور

اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) اور وفاقی کابینہ کے آئندہ چند روز میں ہونے والے اہم اجلاسوں کے پیشِ نظر حکومت نے بجٹ تجاویز کا جائزہ لے لیا، جس میں مالی سال 20-2019 کے لیے محصولات سے متعلق اہم اقدامات بھی شامل ہیں۔

 ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایسی مختلف تجاویز پر بات چیت کی جس سے آئندہ مالی سال میں 10 کھرب 45 ارب روپے تک ریونیو حاصل کیا جاسکے گا اور سالانہ آمدنی کا ہدف 40 کھرب 20 ارب روپے سے بڑھ کر 50 کھرب 55 ارب ہوجائے گا۔

اس حوالے سے ایک عمومی اتفاق پایا گیا کہ 700 ارب روپے کا اضافی ریونیو 2 ذرائع سے حاصل ہوگا ایک سلیز ٹیکس اور دوسرا انکم ٹیکس کے ذریعے سے۔

اجلاس میں جنرل سلیز ٹیکس کو ایک یا ڈیڑھ فیصد تک بڑھانے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا جس سے 350 ارب روپے حاصل ہوسکیں گے۔

اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک رکن نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے دورِ وزارت سے قبل کے محاصل کے دوبارہ نفاذ کی ضرورت پر زور دیا جس کے ذریعے ٹیکس سے استثنیٰ آمدنی کی سطح کم کر کے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ مفتاح اسمٰعیل نے انکم ٹیکس سے استثنیٰ آمدنی کی حد 4 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی تھی اور تمام آمدنیوں پر محاصل کی شرح بھی کم کردی تھی۔

تاہم زیادہ تر عہدیداروں نے موجودہ ٹیکس کے نظام کی مکمل طور پر دوبارہ تبدیلی کی تجویز سے یہ کہتے ہوئے اختلاف کیا کہ 10 لاکھ روپے سے کم ماہانہ آمدنی والے افراد پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم ہی رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلے کرنے والی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں 29 مئی کو ہوگا جس میں صوبوں کی نمائندگی بھی شامل ہوتی ہے۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ 28 مئی کو ہونے والے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اسٹریٹجی پیپر کی منظوری دے گی جس کے خدوخال قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق ان 2 اہم ترین متوقع اجلاسوں کے پیشِ نظر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ’بجٹ تجاویز پر نظرِ ثانی‘ کی۔

جس میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے حکومت کی جانب سے 50 کھرب 55 ارب روپے کے ریونیو کے ہدف کے حصول کے لیے بجٹ تجاویز پر بریفنگ دی، جس میں ٹیکس بیس میں اضافہ کرنے کے اقدامات شامل تھے۔

اس حوالے سے ایف بی آر نے دعویٰ کیا کہ بہتر نگرانی اور اقدامات کے نفاذ کے ذریعے 220 ارب روپے فراہم کیے جاسکتے ہیں جبکہ 520 ارب روپے، مہنگائی کی شرح 9 فیصد اور معاشی ترقی کی شرح 40 فیصد ہونے کے باعث خودبخود حاصل ہوجائیں گے۔

اس کے علاوہ ٹیکس استثنیٰ کو واپس لے کر تقریباً 200 ارب روپے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ بجٹ اسٹریٹجی پیپر میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی اخراجات کا تخمینہ 60 کھرب روپے سے زائد ہے جس میں 28 کھرب روپے سود کی ادائیگی اور 12 کھرب 80 ارب روپے کے دفاعی اخراجات شامل ہیں جو اس سال کے حقیقی تخمینے سے 16 فیصد زائد ہیں۔

اس ضمن میں وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹر خاقان نجیب نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے بتایا کہ ملکی معیشت کی ضروریات کے تناظر میں بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے بھرپور کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مشاورت کے ذریعے نجی شعبے، تجارتی تنظیموں اور اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہے اور مالی سال 20-2019 کے لیے بجٹ تجاویز دینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔