80

سیاسی بدزبانی کا زہر

گذشتہ دنوں مسلم لیگ ن کے ایک رہنما جن کانام شاید طلال چودھری ہے نے میڈیا کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک بارپھرشائستگی کادامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کےخلاف ایسے الفاظ استعمال کئے جو کسی بھی طور قابل جواز نہ تھے انہوں نے ایک لمحہ کےلئے یہ سوچنابھی گوارہ نہیں کیا کہ فردوس عاشق اعوان ایک خاتون ہیں اور خواتین کاویسے بھی زیادہ احترام کرناچاہئے ‘اس سے قبل مسلم لیگ ن ہی کے خواجہ آصف اپنی حکومت کے دوران پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کےخلاف ایسے ہی نامناسب زبان استعمال کرچکے تھے‘ بعدازاں جب میڈیا پرتنقید ہوئی تو دونوں رہنماﺅں کو معذرت کرناپڑی تھی مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیاد ت کو دونوں مواقع پر اپنے رہنماﺅ ں کے مواخذ ہ کی توفیق نہ ہوسکی حالانکہ اسوقت مسلم لیگ ن کی کمان عملی طورپر مریم نواز کے ہاتھ میں ہے جن کو ایک خاتون ہونے کے ناطے طلال چودھری کی گوشمالی کرنی چاہئے تھی مگر افسوس کہ بدزبانی کو سیاسی مخالفت کی آڑ میں قابل جوازبنانے کی کوشش کی گئی حالانکہ کچھ عرصہ قبل سند ھ اسمبلی میں پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے فنکشنل لیگ کی خاتون رکن نصر ت سحر عباسی کےخلاف نامناسب الفاظ کااستعمال کیا توآصفہ زرداری نے فوراً ہی گرفت کردی تھی جسکے بعد وزیر موصوف نے نہ صرف اسمبلی کے فلور پرمعذرت کی بلکہ خاتون رکن کو اجرک بھی اوڑھا ڈالی مگر مسلم لیگ ن کی قیادت دونوں مواقع پر ہی خاموش رہی جو ایک سوالیہ نشان ہے‘ ایک وقت تھاکہ سیاست و شائستگی کاچولی دامن کاساتھ ہوا کرتاتھا مخالفین کےخلاف بیان دےتے ہوئے بدزبانی سے بچنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔

یہ ٹھیک ہے کہ ایک دوسر ے کے لتے اس وقت بھی لئے جاتے تھے الزامات بھی عائد ہوا کرتے تھے مگر پھرکوشش کی جاتی تھی کہ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کربات کی جائے مگر اب حالت کچھ اور ہو چکی ہے‘ کسی بھی وقت بدزبانی پر اتر آنےوالی ہمارے ملک کی بدمزاج سیاست تمام حدیں پار کرنے پر تلی رہتی ہے‘ اس کی بدمزاجی ‘بدزبانی اور حدشکنی انتخابات کے دنوںمیں عروج پرہوتی ہے‘ دوران انتخاب انتخابی دوڑ میں مصروف سیاسی جماعتیں اور انکے لیڈران یہ بھول جاتے ہیں کہ جوکچھ بھی وہ کہہ رہے ہیں وہ پورے ملک میں سناجارہاہے جس سے معاشرے کاہر فردمتاثرہورہاہے ‘اسکی وجہ سے عوامی زندگی میں وہ منفی بے باکی اور بدزبانی عام ہوجائےگی جسے قدیم یا جدید کسی دورمیںبھی پسندنہیں کیاگیا‘ سوشل میڈیا تو ویسے بھی عجیب وغریب قسم کی بے باکی پھیلارہاہے جس کےخلاف کوئی مزاحتمی مےکنزم موجودنہیں‘یہی ستم کیاکم تھاکہ اب ایک دوسرے کو نیچادکھانے کےلئے سیاسی فقرے بازی آگ پر تیل کاکام کررہی ہے اس کی وجہ سے ایک دوسرے کالحاظ اور احترام کم نہیں بلکہ ختم ہوتا جا رہا ہے‘ سوچناچاہئے کہ کیا اس کی وجہ سے معاشرے کاتانا بانا بکھر نہیںرہا؟

بلاشبہ بے باکی اچھی چیز ہے مگر وہ بے باکی گوارا نہیںکی جاسکتی جو آزادی اظہار رائے کو وقار ‘اعتبار اور معیار بخشنے کے بجائے اسے بازاری پن کی طرف دھکیل دے تہذیب سے گری ہوئی اس قسم کی بیان بازی مےںکم وبیش ہر جماعت کے لوگ شامل دکھائی دیتے ہیں شاید ان کو یہ خوف ہے کہ جب تک تہذیب سے گریں گے نہیں ان کافقرہ یا بیان سنا یاپڑھا نہیں جائے گا‘ کسی بھی پارٹی میں بدتہذیبی اورناشائستگی کے مرتکب افراد کو برداشت نہیں کیاجاناچاہئے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیںہوتا یا اگر ہوتا ہے تو بہت کم ہوتاہے‘ سیاسی قیاد ت کو سوچناچاہئے کہ جب رہنماﺅں کی بدزبانی کایہ حال ہوگا تو عام کارکنوںا ور سوشل میڈیا پر مصروف جماعتی عقابوں کو کون اور کیسے کنٹرول کرسکے گا‘ کارکنوںکےلئے لیڈرشپ آئینے کاکام دیتی ہے اسی میں دیکھ کراپناآپ سنوارنے کی کوشش کی جاتی ہے جب آئینہ ہی داغدارہوگا تو کیونکر کوئی خودکوسنوار اور سنبھا ل سکے گا‘ سیاسی مخالفت چلتی رہے گی کہ بازار سیاست میں یہی سودا بکا کرتاہے اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جائز و ناجائز مخالفت میں ہی اپنی ترقی دیکھتی ہیں مگر مخالفت کو دشمنی کی حدتک لے جانا کسی بھی طور نہ سیاسی جماعتوں اورنہ ہی ہمارے معاشرتی ڈھانچے کےلئے سود مند ثابت ہوسکتاہے‘ سیاست میں زبان کو قابو میںرکھنے کےلئے اب تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے بصورت دیگر سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیز ی مستقبل قریب میںمچنے والا ہے تو بڑے بڑے جغادری بھی سیاست سے توبہ تائب ہوجائیں گے سوفیصلہ تیرا ترے ہاتھوںمیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔