111

ڈالرا ور ہمارا رویہ

دیکھا یہ گیا ہے کہ جب بھی کسی شے کی کمی ہونا شروع ہوتی ہے تو لوگ اسے زیادہ سے زیادہ سٹور کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں‘ یہ عموماً ہوتا ہے کہ ملک میں اشیائے خوردو نوش میں کسی نہ کسی شے کی کمی ہوتی ہی رہتی ہے‘خصوصاً آٹے اور چینی کی بعض دفعہ سپلائی اینڈڈیمانڈ کے سبب اور بعض دفعہ جان بوجھ کر منافع خوری کےلئے کمی کر دی جاتی ہے اوریوں ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوجاتی ہے ‘ہمیں اس کا بہت دفعہ تجربہ ہوا ہے‘ ایک دفعہ جو آٹے کا بحران ہوا تولوگوں نے تیزی سے آٹا سٹاک کرنا شروع کر دیا اگر کسی کے ہاں ایک بوری آٹے کی لاگت تھی تواس نے تین بوریاں آٹا خرید کرگھر میں رکھ لیا‘ہمیں بھی دوستوں نے کہا کہ دو تین بور ی آٹا خرید لو ہم نے کہا کہ جو اس ماہ کی ضرورت ہے وہ تو میرے پاس ہے‘ اگلے ماہ دیکھا جائے گا‘ضروری نہیں کہ اگلے ماہ بھی یہی صورتحال ہو‘ اس دفعہ یوں تھا کہ لوگ سارا دن ڈپوﺅں اور آٹے کی دکانوں پر قطاریں لگائے کھڑے ہوتے تھے اور آٹا اکٹھا کرتے تھے‘ دوسرا مہینہ آیا تو پنجاب سے آٹا اور گندم بڑی تیزی سے آ نی شروع ہو گےا۔ اب لوگوں کے پاس توکافی سٹاک موجود تھا اسلئے آٹے والی کمی دور ہو گئی اور ہم نے اللہ کے فضل سے آرام سے اپنے اگلے ماہ کےلئے آٹا خرید لیا۔ اسی طرح کئی دفعہ چینی کا بحران بھی پیدا ہوا مگر ہم نے کبھی اسے سیریس نہیں لیا اور اللہ کے فضل سے کبھی کمی کا احساس بھی نہیں ہوا ‘جس بھی چیز کی کمی ہوئی وہ وقت پر بہرحال مل گئی‘اسلئے ہم نے کبھی اس بات پر دھیان ہی نہیں دیا کہ کسی ضروری شے کی کمی ہو گئی ہے‘مگریہی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ایسی حالت ہوتی تو لوگ بازاروں کو دوڑ پڑتے اور شے کے ہوتے ہوئے بھی کمی کا احساس ہوجاتا۔

ایک اور بات کہ لوگ نمائش کےلئے بھی ناپید اشیاءکا ذخیرہ کرنا واجب سمجھتے ہیں کہ اپنے اڑوس پڑوس کو بتا سکیں کہ ہمارے پاس تو فلاں شے وافر مقدار میں موجود ہے‘اس رویئے نے ملک کو بہت نقصان بھی پہنچایا ہے اور اس سے عوام گو تنگ ہوئے ہیں مگر تاجر نے خوب خوب فائدہ اٹھایا ہے‘ مصنوعی قلت اسی لئے پیدا کی جاتی ہے کہ لوگوں میں افراتفری پیدا ہو اور تاجر اپنی شے کی من مانی قیمت لے سکے اب تو اللہ کا فضل ہے کہ ہر شے وافر مقدار میں مل رہی ہے مگر کچھ عرصہ پہلے اشیائے صرف خصوصاً آٹے اور چینی کی واقعی کمی ہو جایاکرتی تھی جس کےلئے بہت دفعہ راشن بندی بھی کرنا پڑی‘گو اس میں افراتفری تو پھیلتی تھی مگر جو لوگ آرام سے اشیاءکی خریداری کے عادی تھے ان کو کبھی کمی محسوس نہیں ہوئی‘بعض چونچلے صرف امیروں سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور ایسے چونچلوں سے عوام کو توکم مگر ملک کو بہت نقصان ہوتاہے‘ مثال کے طور پر ہماری حکومتوں کی نالائقی سے یا کسی اور وجہ سے آج کل ڈالر ہمارے سر پر چڑھا ہوا ہے‘ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور ڈالر روز بروز اپنی قدر میں اضافہ کررہا ہے‘ اس سے نمٹنے کےلئے کیا حکمت عملی ہونی چاہئے اس کےلئے ایک توحکومت کوئی اقدام اٹھائے اور جن جگہوں پرڈالر کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے انکے راستے میں بندھ باندھے ہمارے ہاں درآمد میں ایسی اشیاءکی بھرمار ہے جو ایک خاص طبقے کےلئے ہی ہوتی ہیں اور انکی کمی سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 اسلئے اگر سامان تعیش کی در آمد ختم بھی کردی جائے توہمیں ڈالر کی کافی بچت ہوسکتی ہے‘ اگر کچھ دن کےلئے بڑے لوگوں کی بہوبیٹیاں اپنی اصلی صورت میں نظر آ جائیں تو اس سے معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ‘اسلئے اس سامان تعیش کی در آمد پر اسوقت تک پابندئی لگا دی جائے کہ جب تک ہم ڈالر کی تندی کو کم نہ کر لیں‘ دوسری بات کہ ڈالر کی اس پرواز کو یوں بھی کم کیا جا سکتا ہے کہ لوگ ڈالر خریدنا ہی چھوڑ دیں ‘ہم اپنے ملک میں جو اشیاءخریدتے یا بیچتے ہیں ان کا حساب تو روپوں میںہوتا ہے اسلئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اگرہم ڈالر کا کاروبار نہ کریں‘ہاں بیرون ملک طلباءکےلئے حکومت خود بندوبست کرے تویہ ڈالر کی خریداری والی بات رک سکتی ہے ‘اگر سامان تعیش کی درآمد پر پابندی لگا دی جائے اور لوگوں کو بے وجہ ڈالر کی خریداری سے روکا جائے یالوگ خود ہی رک جائیں تو ڈالر کا بخار بہت حد تک کم ہو سکتا ہے ‘ہم سمجھتے ہیں کہ وطن دوستی کا تقاضا ہے کہ ہم ڈالر کو قابو میں رکھیں اور اسکے یہی دو طریقے ہیں‘اگر ہمارے دوست اس بات کی تسلی کر لیں کہ یہ ہمارا ملک ہے او ر ہم نے اسے دوسروں کے زیر نگیں نہیں کرنا ہے تو ہمیں ڈالر کو قابو میں رکھنا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔