57

مخالفانہ سیاست

حکمراںتحریک انصاف اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک کمزور حزب اختلاف سے واسطہ پڑ رہا ہے‘ جس کی عوام میں جڑیں مضبوط نہیں اقتدار میں آنے کے بعد‘ 9 ماہ کے عرصے میں اب تک دو مواقعوںپر تحریک انصاف مخالف سیاسی اتحاد تشکیل پائے ہیں‘ان میں پہلا الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن عام انتخابات کے فوراً بعدبنایا گیا جسکے پلیٹ فارم سے چند ایک احتجاجی مظاہرے ہوئے اور بس۔ الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنےوالوں کی مخالفانہ سیاست اس لئے کامیاب و مقبول نہ ہو سکی کیونکہ اسوقت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی دو بڑی سیاسی جماعتیںاس احتجاج اور سوچ کا حصہ نہیں بنیں۔ مذکورہ اتحاد نے قومی اسمبلی کے 38حلقوں کے انتخابی نتائج کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن چند چھوٹے بڑے مظاہروں کے بعد آزاد و منصفانہ انتخاب کا مطالبہ کرنےوالے ازخود منتشر ہو گئے! حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں دوسری مرتبہ متحد ہوتی نظر آ رہی ہیں‘ اس مرتبہ پیپلزپارٹی پیش پیش اور نواز لیگ کندھے سے کندھا ملائے ہوئے ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر میں حزب اختلاف کی گیارہ جماعتوں کی شرکت یقینا غیرمعمولی تھی اور فیصلہ کیا گیا کہ عید الفطر کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی ایک کل جماعتی اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ مذکورہ کانفرنس کی میزبانی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو سونپ دی گئی‘ کیا اس مرتبہ حزب اختلاف کی جماعتیں تحریک انصاف کےلئے مشکلات کھڑی کر پائیں گی؟شاید نہیں کیونکہ حزب اختلاف قومی سیاست کو الگ الگ زاوئیوں سے دیکھ رہی ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلوں سے زیادہ ایک دوسرے سے متحد نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز ایک صوفے پر تو بیٹھ چکے ہیں لیکن ان کے خیالات ہم آہنگ نہیں! قبل از وقت انتخابات ہوں یا ان ہاو¿س تبدیلی‘ دونوں جماعتیں کسی ایک مطالبے پر فی الوقت متفق نہیں۔ پیپلزپارٹی موجودہ دور میں زیادہ منظم رہنے اور آنے والے دنوں میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کا عزم رکھتی ہے جبکہ نواز لیگ کےخلاف نیب مقدمات کھلے ہیں‘ گرفتاریاں ہو چکی ہیں‘ مزید رہنما مطلوب اور ملک سے فرار ہیں‘ اس لئے وہ زیادہ تلخ و تیز مخالفانہ سیاست نہیں کرنا چاہتی اور یہی وہ کمزوری ہے‘ جس کا یقینا تحریک انصاف کسی نہ کسی مرحلے پر فائدہ اٹھا کر پیپلزپارٹی کو تنہا کر دےگی اور یوں دوسرا احتجاجی محاذ بھی پہلے کی طرح ازخود تحلیل ہوتاصاف دکھائی دے رہا ہے! وزیراعظم بننے سے قبل بلاول کو محنت کرنا پڑ رہی ہے جنہیں اپنی سیاسی سوچ کی اہلیت اور سیاسی پختگی ثابت کرنا ہے لیکن نواز لیگ کو ایسی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ زیادہ جارحانہ انداز اختیار کرے۔ مریم نواز بھی آنےوالے انتخابات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہیں لیکن عدالتی فیصلے کے باعث وہ فی الحال ایسا کرنے کی اہل نہیں اور عدالت سے پنگا لینے کی خواہشمند بھی نہیں!یہی سبب ہے کہ نواز لیگ کی قیادت ان ہاو¿س تبدیلی کے حق میں ہے اور چاہتی ہے کہ تحریک انصاف حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے‘اِس صورتحال میں چھوٹی اور علاقائی جماعتیں مشکل میں ہیں جیسا کہ اے این پی‘ نیشنل پارٹی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی جیسی جماعتیں ملک میں فوری عام انتخابات کی حامی ہیں اور دل سے جانتی ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ انہیں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں!

قومی وطن پارٹی کی قیادت بھی اسی قسم کی رائے رکھتی ہے اور بی این پی مینگل جو کہ اپوزیشن میں تو ہے لیکن چاہتی ہے کہ اگر حکومت انکے ساتھ کئے گئے چھ نکاتی ایجنڈے میں سے چند ایک پر ہی سہی لیکن عملدرآمد کردے تو انکے پاس حکومت کےساتھ چلنے کا اخلاقی جواز ہوگا تاہم تحریک انصاف کی سوچ مختلف نظر آرہی ہے‘ یہی سبب ہے کہ بی این پی تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے باوجود حزب اختلاف کے کیمپ میں بیٹھی نظر آ رہی ہے ‘تحریک انصاف کا امتحان ہونے جا رہا ہے۔ آئندہ ماہ حکومت بجٹ پیش کرے گی جبکہ ملک بدترین مالی بحران سے گزر رہا ہے اور اس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آنے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں بلکہ مزید ٹیکسوں کی صورت مشکلات سے دوچار کیا جائے گا‘ نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اور حزب اختلاف اسی بجٹ کو بنیاد بنا کر عوام میں حکومت کےخلاف پیدا ہونےوالے غصے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی تیاری کئے بیٹھی ہے‘اس منظرنامے میں چیئرمین نیب کا ویڈیو سکینڈل سامنے آیا ہے‘ جس پر حزب اختلاف سیاست کرنا چاہتی ہے‘ یوں لگتا ہے جیسے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی لاٹری نکل آئی ہو‘ جن کےلئے نیب پر اعتراض کرنےکا منطقی جواز ہاتھ آ چکا ہے‘ دوسری طرف تحریک انصاف چیئرمین نیب کو تبدیل کر کے حزب اختلاف کی تیاریوں اور حکومت مخالفت تحریک کے الاو¿ بھڑکنے سے قبل ہی ان پر پانی ڈال کر رہی سہی چنگاریوں کو بھی بجھا سکتی ہے! عیدالفطر جیسے اہم تہوار کے بعد مخالفانہ سیاست انگڑائی لے گی‘ فی الحال وقت عبادت اور دعاو¿ں کا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔