108

بھارتی الیکشن اور خطے کا متوقع منظر نامہ

ملکی ‘ علاقائی اور عالمی سطح پر سیاست اور ریاست کے نئے رجحانات سامنے آ رہے ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ روایتی طرز سیاست کے علاوہ موروثی اور مروجہ طرز سیاست کا بھی خاتمہ ہونے والا ہے ‘ جمہوری معاشروں اور ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے حالانکہ دنیا کے بعض ماہرین کا یہ موقف رہا ہے کہ بعض معاشرے جمہوریت کےلئے موزوں نہیں ہوتے‘ سب سے زیادہ ڈکٹیٹر شپ اب بھی عرب اور افریقی ممالک میں پائی جاتی ہے تاہم متعدد ایشیائی ممالک میں بھی اب تک ڈکٹیٹر شپ یا بادشاہتیں موجود ہیں‘بھارت کے حالیہ انتخابات نے اس ملک کے تاریخی پس منظر کے باعث نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کےلئے بہت سے نئے رجحانات متعارف کروائے ہیں اور سیاسی ماہرین اسی کے تناظر میں جمہوریت‘ سیکولرازم اور نیشنلزم کے علاوہ مذہبی طرز سیاست پر بھی مختلف آراءاور خدشات کااظہار کرنے لگے ہیں‘جس طرح امریکی عوام او ر ووٹرز کےلئے صدر ٹرمپ کی غیر متوقع جیت حیران کن تھی اسی طرح نریند مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی پر بھی حیرت کا اظہارکیا جا رہا ہے‘ تجزئیے بتا رہے ہیںکہ مودی سرکار نے عوام کی حالت بدلنے کےلئے عملاً کچھ نہیں کیا تھا ‘کشمیر اور بعض دیگر ریاستوں میں مزاحمتی تحریکیں مزیدفعال ہوگئی تھیں ‘ پاکستان پر محدود حملے اور جوابی کاروائی سے بھارتی ساکھ متاثر ہو گئی تھی اور عالمی سطح پر بھارت کا امیج خراب ہونے لگا تھا اسلئے امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بی جے پی شکست کھا جائے گی مگر نتائج اسکے بالکل برعکس نکل آئے اور بی جے پی کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کامیابی ملی‘ مودی نے ان نتائج کو سیکولرز کی شکست کا نام دیا جبکہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اس عمل کو جمہوری قرار دیکر شکست تسلیم کی ‘ ٹرنیڈز سے ثابت ہوا کہ پاکستان کی طرح بھارتی ووٹرز نے بھی جذباتی نعروں کو اس کے باوجود پھر سے قبول کیا کہ مودی سرکار دوسری بار الیکشن لڑ رہی تھی اور پچھلی کارکردگی سرویز کے مطابق اطمینان بخش نہ تھی‘ ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے اور سات مراحل میں ہونےوالے انتخابی عمل کا ٹرن آﺅٹ شاندار رہا تاہم دنیا کی سب سے بڑی انتخابی مہم یا پولنگ کے دوران حالات بہت پر امن رہے اور تشدد کا کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا‘ 10 فلمی اورکرکٹ سٹارز بھی کامیاب ہوئے۔

 جن میں ٹی وی کی نامور فنکارہ سمریتی ایرانی بھی شامل ہیں جنہوں نے تقریباً5 لاکھ ووٹ لیکر کانگریس کے گڑھ میں راہول گاندھی جیسے اہم لیڈر کو شکست دی‘کانگریس انفرادی طور پرنوے جبکہ اتحادیوں کے ہمراہ150 سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی جبکہ بی جے پی نے انفردی طور پر 301 اوراتحادیوں کے ہمراہ353 سیٹیں جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ ایک تو کانگریس کی بدترین شکست نے ساﺅتھ ایشیا کے بعض دیگر خاندانوں اور پارٹیوں کی طرح پرانی اور خاندانی پارٹیوں کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے‘ دوسری بات یہ کہ بھارت کے سیکولر سٹیٹس یا شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں کیونکہ بی جے پی ایک ہندو قوم پرست اور انتہا پسند قوت ہے تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اب کے بار بی جے پی اور اس کی حکومت اقلیتوں اور پڑوسیوں کےخلاف بھی جارحانہ رویہ اختیار کرے گی اور علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا ان نتائج کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ امریکہ اوربھارت کے تعلقات میں مزید قربت آئے گی اور اس قربت کا نزلہ پاکستان اور چین جیسے ممالک پر گرے گا‘بھارت میں مذہبی جنونیت اور ہندوﺅں کے انتہا پسندانہ رویوںمیں شدت واقع ہوگی اور خطے کے علاوہ خود بھارت انتشار کا شکار ہو گاکیونکہ مسلمان‘سکھ اور بعض دیگر اقلتیں بہت خوفزدہ ہیں اوران کو لگام دینے کےلئے مودی نے الیکشن منشور اور مہم کے دوران بعض نئے مگر سخت قوانین کا اعلان کر رکھا ہے۔

 پاکستان کے بارے میں مودی کا جو ایجنڈہ الیکشن کے باعث ادھورا رہ گیا تھا وہ اس کی تکمیل کی کوشش میں دو قدم اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے جس سے خطے کے حالات مزید کشیدہ ہوں گے اورپاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا‘اس صورتحال کے نتائج اوراثرات کا خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان پر کتنا منفی اثر پڑے گا اسکا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے‘تاہم پاکستان‘ایران ‘ افغانستان اور بھارت میں ہونےوالی تبدیلیوں اور ممکنہ اثرات کو کس قدر سنجیدگی سے مانیٹر کر رہاہے وہ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ ملک نہ صرف معاشی عدم استحکام بلکہ اندرونی سیاسی انتشار کا بھی شکار ہے اور عالمی برادری اپنے وسیع تر مفادات کے تناظر میں بھارت پرزیاد ہ انحصار اور اعتماد کی پالیسی اپنائے گی ۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی اتفاق رائے پر توجہ دیکر اداروں کو مضبوط کیا جائے ‘ایران اورافغانستان کےساتھ تعلقات بہتربنائے جائیں اور عالمی طاقتوں کی پراکسےزسے خود کو الگ رکھا جائے کیونکہ نئی صف بندی نئے چیلنجز لیکر آ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔