62

جمہوریت کے تقاضے

عمران خان بیک وقت قسمت کے دھنی بھی ہیں اوربدقسمت بھی‘ خوش قسمت اسلئے ہیں کہ ان کی مخالفت جو اپوزیشن لیڈر کر ہے ہیں ان میں اکثر راندہ درگاہ ہیں ان میں کوئی قدرے مشترک نہیں بجز اس کے کہ وہ اپنے خلاف میگا کرپشن کیسز کے دائر ہونے کی ذمہ داری تحریک انصاف کے چیئرمین کے کاندھوں پر ڈالتے ہیں چونکہ ان میں تقریباً تمام سیاسی رہنماﺅں کے بازوﺅں کو عوام آزما چکے ہیں اور چونکہ انہوںنے اپنے دو ر اقتدار میں وہ کچھ ڈےلیورنہیں کیا کہ جسکی عوام ان سے توقعات رکھتے تھے لہٰذا عوام اب ان کی باتوں پر کوئی زیادہ کان نہیں دھرتے‘ عمران خان کی البتہ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں ا ن کی زیر قیادت کھیلنے والی ٹیم میں وہ اہلیت دکھائی نہیں دے رہی کہ جس سے میچ جیتے جا سکیں‘ کپتان لاکھ اچھا ہو اگر اس کی ٹیم اوسط درجے کا ذہن رکھنے والوں پر مشتمل ہو گی تو وہ کبھی بھی میدان نہ مارسکے گی ‘اکثر سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اپوزیشن نے عید الفطر کے بعد ایک مشترکہ تحریک چلانے کا عندیہ تو دے دیا لیکن لگتا نہیں کہ ان کی بیل منڈھے چڑھے عجلت میں دی گئی اس کال کے بجائے اگر چندماہ مزید انتظار کرلیا جاتا تو بہتر تھا ایک تو جون ‘ جولائی اور اگست کی گرمی میں سڑکوں پر جم غفیر کو لانا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے کوئی بھی تپتی سڑک کے اوپر اور آگ پھینکتے ہوئے سورج کے نیچے سڑک پر آنا پسند نہیں کرتا اور ابھی مجبوری کی اس حد تک عوام نہیں پہنچے کہ جہاں سے ان کاصبر کا دامن مکمل طو ر پر چھوٹنے کا کوئی امکان ہو‘ سیاست میں کسی بھی اہم نوعیت کا فیصلہ کرنے کیلئے صحیح وقت کا انتخاب بڑا ضروری ہوتا ہے۔

 فیصلہ درست بھی ہو لیکن اگر اس کی ٹائمنگ غلط ہو تو اس سے مطلوبہ نتائج بالکل برآمد نہیں ہوتے چند ماہ قبل جب مولانافضل الرحمان نے زرداری صاحب اور میاں نوا ز شریف سے فرداً فرداً ملاقات کرکے ان کو حکومت کےخلاف تحریک چلانے کی ترغیب دی تھی وہ وقت تو خیر بالکل ہی نامناسب تھا اور موجودہ حکومت کے بدترین دشمن بھی اسوقت سیاسی تحریک چلانے کے حق میں نہ تھے اب بھی غالباً اس ملک کی اکثریت سردست اس موڈ میں بالکل نظر نہیں آرہی کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہو کہ جس سے حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے‘ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس بات کا احساس تو ضرور ہو گا کہ چلو اگر موجودہ حکومت تحلیل ہو جاتی ہے او ر نئے الیکشن کا انعقاد ہو جاتا ہے اور وہ برسراقتدار آ جاتے ہیں تو کیا ان کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی ہے کہ جس سے وہ اس ملک کو درپیش معاشی مسائل کو پل بھر میں حل کر سکیںیہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے اندر جو سمجھ دار لوگ ہیں ان کی منشا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو پورا پورا موقع میسر آنا چاہئے کہ وہ اقتدار میں آئینی مدت پوری کرلے اگر اس نے کچھ کرنا ہوا تو وہ خواہ مخواہ کر دکھائے گی ۔

اس قسم کی سوچ کے مالک یہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حکومت کے کاموں ‘اس کی پالیسیوں اور اس کی قانون سازی پر کڑی نظر رکھے اور جہاں جہاں وہ پٹڑی سے اترے اسے پبلک میں بے نقاب کیا جاتا رہے تاوقتیکہ آئین کے تحت نئے الیکشن کی تاریخ نہیں آجاتی اس دوران اگر اپوزیشن نے واقعی تاریخ سے کچھ سیکھا ہے تو وہ اپنی ایکShadow cabinet تشکیل دےدے اور ہرشعبہ زندگی سے متعلق اپنا تحریری منشور پبلک میں تقسیم کرے جس میں وہ عوام کو یہ پروگرام دے کہ اگر اسے منتخب کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح موجودہ حکمرانوں سے بہتر طور پر عوام کے مسائل حل کر سکیں گے‘یہی جمہوریت کا تقاضا ہے اور اس کو عام کرنا ضروری ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔