87

رائیگاں کوشش

ویت ہلال کے مسئلے پر موجود اختلاف کو ختم کرنے کےلئے وفاقی حکومت کی کوشش ناکام ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہ ایک اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش میں نئے اختلاف نے جنم لے لیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ماہ شوال کا چاند چار جون بروز منگل کو نظر آنے کا قوی امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے چاند کی پیدائش تین جون کے روز اور سورج غروب ہونے کے وقت چاند کی عمر صرف 4گھنٹے 16منٹ ہوگی اسلئے اسے انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہو گا جبکہ چار جون یعنی 29رمضان کے روز نئے چاند کی عمر 28گھنٹے 16منٹ ہونے کی وجہ سے یہ سورج غروب ہونے کے بعد کم از کم ایک گھنٹے تک باآسانی دیکھا جا سکے گا‘ لہٰذا ملک بھر میں عیدالفطر 5جون بروز بدھ ہوگی۔ پاکستان میں چاند کی رویت کا مسئلہ قطعی طور پر یہ نہیں کہ ’نئے چاند کی پیدائش کب ہوتی ہے۔ وہ افق کے کس حصے‘ کس زوایئے پر اور کتنی دیر تک نظر آئے گا اور نہ ہی بناءآلات چاند دکھائی دینے کے امکانات کیا ہیں“ بلکہ امور فلکیات کے ماہر جب یہ کہتے ہیں کہ چاند کی عمر کم ہے اور وہ نظر نہیں آئے گا لیکن تمام سائنسی علوم کی نفی کرتے ہوئے چاند نظر آنے کی درجنوں شہادتیں موصول ہو جاتی ہیں۔

 تو علمائے کرام کو شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے! اس صورتحال سے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کا پہلی مرتبہ واسطہ سات مئی کو پڑا جب ملک میں دو الگ الگ تاریخوں پر ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہوا‘ سرکاری طور 7 مئی اور غیرسرکاری طور پر 6 مئی کے روز رمضان المبارک کا آغاز ہونے پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے قمری کیلنڈر بنانے کا بیڑا اٹھایا‘ جسے اسلامی نظریاتی کونسل سے منظور ی کے بعد ویب سائٹ (pakmoonsighting.pk) اور اِسی نام سے موبائل اپیلی کیشن کی صورت جاری کر دیا گیا۔ یہ کوشش 5 سالہ قمری کےلنڈر پر مشتمل ہے اور اس کی مدد سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چاند کی پیدائش اور اسکے نظر آنے کے امکانات بارے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ پشاور کی تاریخی مسجد قاسم علی خان میں صدر دفتر رکھنے والی غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی ان حکومتی کوششوں سے مرعوب دکھائی نہیں دیئے‘ انہیں قمری کےلنڈر مرتب کرنے پر بھی اعتراض نہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ”قمری کےلنڈر اس قدر قابل بھروسہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بنیاد پر ماہ رمضان یا ماہ شوال یا دیگر اسلامی مہینوں کے چاند نظر آنے کا شرعی و حتمی تعین کیا جا سکے‘ ضرورت اس امر کی تھی کہ وفاقی حکومت مفتی شہاب الدین کو اس قمری کےلنڈر مرتب کرنے کے عمل کا حصہ بناتی‘ جسکا بیشتر کام نہایت سوچ سمجھ کر سرانجام دیا گیا ہے۔

 اگر علمائے کرام اور علوم فلکیات و موسمیات کے ماہرین کو آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے علمی انداز میں تحفظات دور کر دیتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ فی الوقت سائنسی علوم اور شرعی احکامات کے درمیان بظاہر محسوس ہونے والا فاصلہ کسی بھی صورت تعمیری نہیں۔ اگر مقصد رویت ہلال کا کوئی متفقہ اور پائیدار حل ہی تلاش کرنا تھا تو اصولی طور پر ملک کے چاروں صوبوں اورعلمائے کرام سے وسیع البنیاد اور غیرمشروط مشاورت ہونی چاہئے تھی لیکن غیرضروری طور پر جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی نیت پر شک نہیں لیکن ایک انتہائی حساس اور دیرینہ معاملے کو غیرسنجیدگی سے حل کرنے کی سعی سے یہ پوری کوشش رائیگاں محسوس ہو رہی ہے۔ مفتی شہاب الدین کا مو¿قف ہے کہ ’نئے چاند کی رویت کے بارے میں فیصلہ حساب دانی سے نہیں بلکہ حسب شریعت کیا جانا چاہئے۔‘ اور یہاں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اگر ہم علوم فلکیات اور موسمیات پر بھروسہ کریں گے تو یہ خلاف شریعت ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی سرحد مدرسہ پشاور سے فارغ التحصیل‘ مذہب کے علاوہ وسیع سیاسی و سماجی اثرورسوخ بھی رکھتے ہیں۔ 1983ءمیں اپنے والد کی وفات کے بعد سے خطابت اور غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مقرر ہیں‘ اس کمیٹی کا باقاعدگی سے ان کے والد گرامی کے دور (1825ئ) سے جاری ہے تاہم اس غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے باضابطہ اراکین مقرر نہیں بلکہ علمائے کرام کی بڑی تعداد ہر ماہ مسجد قاسم علی خان میں جمع ہو کر رویت ہلال سے متعلق شہادتوں کی جانچ کرتی ہے اور اس جانچ کی بنیاد پر چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔