66

میرٹ کا فقدان

جس طرح ہمارے بعض حکمرانوں نے قومی خزانے میں لوٹ مار کرکے بیرون ملک لوٹی ہوئی رقم منتقل کی بالکل اس طرح نائیجریا کے ایک سابق حکمران سانی اباچہ نے بھی اپنے دوراقتدار کواپنی دولت میں اضافہ کرنے کاذریعہ بنایا تھا اور 2.2 بلین ڈالر کے لگ بھگ دولت سوئس بینکوں میں ٹرانسفر کی‘ اس رقم میں سے اب نائیجریا کے موجودہ حکمرانوں نے 300 ملین ڈالر کی رقم کو واپس لا کر نائیجریا کے 3 لاکھ غریب خاندانوں میں تقسیم کیا جب نائیجریا کے حکمران یہ کام کرسکے ہیں تو ہمارے حکمران کیوں نہیں کر سکتے ؟ان کو چاہئے کہ و ہ نائیجریا کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں اس طویل جملہ معترضہ کے بعد آئیے ذرا اپنے ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت پرایک طائرانہ نظر ڈال لیں‘جب تک ہماری برآمدات اور درآمد ات میں توازن نہیں پیداکیا جائے گا ہمارا حشر بھی نائیجریا کی سابق حکومت کی طرح ہو گا ‘کئی ایسی چیزیں ہیں کہ جو ہم تھوڑی سی محنت کرکے خود پیداکر سکتے ہیں وہ ہم کم پیداکر رہے ہیں اور ان کی جگہ امپورٹڈ اشیاءدرآمد کر رہے ہیں جیسا کہ اچار ‘ چٹنی ‘ مربے ‘ ٹماٹر پیسٹ ‘ گائے کا دودھ ‘ مکھن ‘ شہد ‘ پنیر‘ مختصر یہ کہ اس قسم کی کئی اشیائے خوردنی ہمارے ملک میں کثرت سے موجود ہیں ہمارے نام نہادماہرین معیشت کواسکا احساس تک نہیں اوروہ ان کو ایک بڑی تعداد میں باہر سے درآمد کر رہے ہیں‘کتنے افسوس کا مقام ہے کہ یار لوگ کیلا ‘ سیب ‘ مالٹا اور لیمن تک درآمد کر ہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مڈل کلاس کے لوگوں کو بھی اسکے استعمال کی عادت ڈالی جا رہی ہے‘ ان حالات میں بھلا ہماری درآمدات اور برآمدات میں خاک توازن پیدا ہوگا؟

ان اشیاءکی درآمد کو ہم محض اسلئے بند نہیں کرتے کہ یہ ہماری اشرافیہ کے من بھاتے کھاجے ہیں‘ یہ ان کا سٹیٹس سمبل ہے جو وہ ہر صورت قائم رکھنا چاہتے ہیں‘ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تواپنے ہاں کا منرل واٹر بھی نہیں پیتے‘ وہ فرانس سے امپورٹڈ منرل واٹر پیتے ہیںہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ ملک بڑی تیزی سے انار کی کی طرف بڑھ رہا ہے‘ یہاں اب ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے‘ سڑکوں پر نظر ڈالئے ٹریفک کا ایک طوفان بدتمیزی آپ کو نظر آئے گا ٹریفک پولیس کے سامنے بالکل اسکی ناک کے نیچے ٹریفک قوانین کی کھلی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں او ر وہ آنکھیں چرا رہی ہے‘ یہ جو سڑکوں پر روزانہ درجنوں کے حساب سے ہر شہر میں اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک کے حادثات سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان کی وجہ ٹریفک پولیس کی ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے میں بے اعتنائی ہے‘ یہ جو عدالتوں کے اندر وکلاءاور ججوں کے درمیان آج کل بدکلامی کے واقعات ہو رہے ہیں۔

 یہ ماضی میں تو کبھی بھی نہیں ہوتے تھے یہ جو ہسپتالوں میں عوام کے ہاتھوں ڈاکٹروں کی پٹائی ہو رہی ہے اس کا تو ماضی میں کوئی تصور ہی نہیں کر سکتا تھا یہ جو عوام کو مردہ مرغیاں اور گدھے کا گوشت کھلایا جا رہا ہے اس قسم کا ماجرا تو ماضی میں نہ کبھی دیکھا اور نہ سنا تھا کرپشن صرف اوپر کی سطح پر محدود نہیں رہی اسکی جڑیں اب معاشرے کے ہر طبقے میں بری طرح پھیل چکی ہیں اس ملک میں جعلی پی ایچ ڈی بھی بن رہے ہیں اوردو نمبری ڈاکٹر بھی‘میرٹ کا لفظ صرف کاغذات تک محدود ہے اگر آپکے پاس دھن ہے تو آپ ہر پیشے میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب کسی بھی شعبے کی کارکردگی کا وہ معیار اس ملک میں نہیں رہا کہ جو کبھی تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔