134

ہر فن مولا لوگ

 ایک دفتر کے گیٹ پر ’آسامی خالی ہے ‘کے بورڈ پر لکھا تھا‘ضرورت ہے ایک دفتری کارکن کی‘ ٹائپنگ کی رفتار ستر الفاظ فی منٹ ہو‘ کمپیوٹر چلانا جانتا ہو‘ اکاﺅنٹس کے کام بھی کرسکتا ہو‘ کم ازکم دو زبانیں جانتا ہو‘ جنس کی قید نہےں‘ آخری الفاظ پڑھ کر ایک کتے نے بھی اس آسامی کےلئے درخواست جمع کرادی جب وہ انٹرویو کےلئے پیش ہوا تو انٹرویو لینے والے نے پوچھا‘ تم ستر الفاظ فی منٹ کی رفتار سے ٹائپ کرسکتے ہو؟ کتا ٹائپ رائٹر پربیٹھا اور تقریباً اسی الفاظ فی منٹ کی رفتار سے کٹھا کھٹ ایک درخواست ٹائپ کر ڈالی‘ اس سے کمپیوٹر چلانے کی فرمائش کی گئی تو اس نے ہر پروگرام چلا کر دکھا دیا‘ اس نے اکاﺅنٹس کی مہارت بھی ثابت کردی‘انٹرویو لینے والے نے سرکھجاتے ہوئے کہا’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی ۔ بھلا دفتر میں ہم ایک کتے کو کیسے ملازم رکھ سکتے ہےں؟ کتے نے غصے سے بھونکتے ہوئے اس بورڈ کی طرف دوڑ لگا کر ان الفاظ پر پنجے رکھ دیئے’ جنس کی قید نہےں‘۔ انٹرویو لینے والے کو اچانک ایک عذر یاد آیا وہ جلدی سے بولا ارے ہاں۔ہماری ایک شرط یہ بھی تو ہے کہ امیدوار کوکم ازکم دو زبانیں آتی ہوں تمہےں کوئی دوسری زبان آتی ہے؟کتے نے اثبات میں سرہلایا اور فوراً بولا‘میاﺅں میاﺅں۔یہ لطیفہ ایک دوست نے بھیجا کچھ فریش لگا سوچا قارئین کےساتھ شیئر کیا جائے ‘اس کا کالم کے بقیہ حصے سے کوئی تعلق نہےں۔

 اصل میں ہمارے ایک قاری نے فرمائش کررکھی ہے کہ رمضان میں قدرے شگفتہ کالم بلکہ سیاست سے بوجھل کئے بغیر ہلکے پھلکے کالم لکھے جائیں تاکہ رمضان کے روزے اچھے گزر جائیں‘ رمضان سے یاد آیا یہ صبر اور قناعت کا مہینہ بھی ہے‘ برکتیں اور رحمتیں بھی برستی ہےں لیکن اصل میں انسان روحانی سطح پر چاک وچوبند رہنے کےلئے جب صبر سے گزرتا ہے تواس کی روح سرشار ہوجاتی ہے پھر قناعت کے بھی اپنے فائدے ہوتے ہےں‘یہ دوسری بات کہ ہمارے ہاں اخراجات پہلے سے بھی بڑھ جاتے ہےں‘انسانی فطرت ہے اسکی عادات آسانی سے تبدیل نہےں ہوتیں‘ عادات بدلنے کےلئے بہت زور لگانا پڑتا ہے جس طرح پٹرول کی قیمتیں ہوں یا چینی کی یا کچھ اور اشیاءکی یہ جب بڑھ جاتی ہےں تو خداگواہ ہے کبھی پرانی سطح پر نہےں آتیں‘مہنگائی مسلسل بڑھتی ہے اور کم نہےں ہوتی‘ہمارا معیار زندگی بھی جب بدل جاتا ہے زیادہ سہولیات تعیش اور روپیہ پیسہ جب کچھ زیادہ آتاہے تو ہمارا اسلوب زندگی تبدیل ہوتا جاتا ہے اگر ایک تنخواہ دار کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے توپھر وہ اسکا عادی ہوجاتا ہے اسکے اخراجات کم نہےں ہوتے‘بڑھتے ہی جاتے ہےں‘ ہمارا رہن سہن کھانا پینا رہائش لباس ہر چیز میں جب معیار بلند ہوتا جاتا ہے تو پھر اس سے کم سطح پر ہم آہی نہیں سکتے‘موجودہ دور میں میڈیا سے وابستہ وہ افراد جو ماہانہ تنخواہ لاکھوں میں وصول کرتے تھے وہ ان دنوں کافی مشکلات کا شکار ہےں۔

میڈیا میں نامی گرامی لوگ ہےں زیادہ تنخواہ وصول کرتے ہےں ورکر توبمشکل ’روٹین‘ کا ماہانہ مشاہرہ پاتے ہےں‘ موجودہ حکومت میں مہنگائی سے سبھی متاثر ہوئے ہےں لیکن میڈیا پر اس کے اثرات بہت زیادہ ہوئے ہےں‘ لاکھوں وصول کرنے والے بھی بے روزگاری کا شکار ہوئے بعض لوگوں نے ادارے بدل لئے بعض نے سمجھوتہ کرلیا اور بعض تو اس سمجھوتے میں بہت آگے نکل گئے ہےں‘خاص طور پرکچھ اینکرز ایسے بھی ہےں کہ وہ اپنا ٹاک شو تو کررہے تھے وہ دیگر سبھی قسم کے پروگرام بھی کرنے کےلئے تیار ہوگئے ہےں‘ اصلی بات وہی ہے جب زیادہ ماہانہ تنخواہ کی عادت پڑجائے اور معیار زندگی’لگژری ‘ہوجائے تو بندہ اپنی عادات کا غلام بن جاتا ہے‘ اچھے بھلے اینکرز جو اس سے قبل محض دانشوری کا کردارپرفارم کرتے تھے ان دنوں وہ سارا دن کیمرے کے سامنے سے ہٹنے کو تیار نہےں وہ مذہبی پروگرام ہو‘ کھانا پکانے کا‘ نعت خوانی ‘بیت بازی ‘گلوکاری یا کوئز پروگرام وہ ہر پروگرام کےلئے تیار ہےں۔

 وجہ وہی ہے کہ اب اپنے لگژری لائف سٹائل سے نیچے آنا دشوار ہے‘ سو جو مرضی کرالو بس پیسے کم نہ کیجئے‘ ترس آتا ہے ان انسانوں پر جو اپنی خواہشات کم کرنے کی بجائے عادات کے غلام بن جاتے ہےں‘ رمضان المبارک میں اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا موقع ہوتا ہے مگر ہمیں یہ سارا مہینہ’ عید ‘کمانے کی فکر ہوتی ہے‘ تحرےر کچھ زیادہ سنجیدہ ہوگئی ہے چلتے چلتے یہ بھی سن لیں لمبی چوڑی لگژری کار میں بیٹھے ہوئے صاحب نے گداگر کو ایک روپے کا سکہ دیا اور بولا بابا میرے لئے دعا کرنا۔گداگر نے روپے کا سکہ دیکھ کر کہاکیا دعا کروں کار میں تو بیٹھے ہو اب کیا آسمان پر بیٹھو گے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔