78

چاند کہانی

چاند ایک حقیقت اور نظام شمسی کےساتھ جس کی گردش معلوم ہے تو پھر اختلاف کی گنجائش کہاں اور کیوں رہ جاتی ہے؟ ماضی میں حکومتوں کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلانات پر عملدرآمد کرنے میں مشکل پیش آتی رہی ہے‘ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ’وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی‘ کی طرف سے عید الفطر کے قبل از وقت اعلان کے باوجود مفتی منیب الرحمن نے عید الفطر کا چاند دیکھنے کےلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس طلب کر رکھا ہے‘ وزارت مذہبی اَمور نے قمری کیلنڈر کی شرعی حیثیت جاننے سے متعلق ”اسلامی نظریاتی کونسل“ سے رائے بھی چاہی ہے تاہم کونسل نے اس متعلق حتمی رائے دینے کےلئے مہلت مانگ رکھی ہے جو محتاط رویہ کہ کہیں اُس کی اپنی حیثیت ہی متنازعہ نہ ہو جائے! بہرحال تجویز یہ دی گئی ہے کہ ”مختلف امور کے ماہرین کی آراءکی روشنی میں رائے دی جائےگی“ رویت ہلال سے متعلق کیلنڈر یہ تو بتا سکتا ہے کہ چاند کب اور آسمان کے کس حصے میں کتنی دیر کےلئے نمودار ہوگا اور اُس دورانیے میں اُسے انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن ہو گا یا نہیں لیکن شرعی طور پر چاند کی رویت کے بغیر فیصلہ نہیں ہو سکتا اور اِس کےلئے اصول و ضوابط موجود ہیں۔

 بلاشک و شبہ وزارت سائنس کا جاری کردہ قمری کیلنڈر اچھا ہے لیکن یہ کوئی ایجاد نہیں بلکہ اِس سے زیادہ تفصیلی اور مستند کلینڈرز انٹرنیٹ پر پہلے ہی سے دستیاب ہیں کیونکہ انسان کا خلاو¿ں کی سیر کرنے سے پہلے ضروری تھا کہ نظام شمسی کو سمجھتا اور اِسی مطالعے کی بنیاد پر کلینڈر مرتب ہوتے چلے گئے‘ عام عوام یا طالب علموں کی آگاہی کےلئے ’میڈ اِن پاکستان‘ قمری کیلنڈر مرتب کرنے سے البتہ ایک کمی پوری ہو گئی ہے لیکن اِس بارے میں مذہبی حلقوں کے شکوک و شبہات دور کرنے پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی‘ جس کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ رویت ہلال کے معاملے میں جس آسانی کو پیدا کرنے کی حکومتی خواہش پوری نہیں ہو سکے گی‘سردست مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کل 24اراکین ہیں‘ اس کمیٹی کو خلائی امور سے متعلق تحقیق کے حکومتی ادارے سپارکو‘ محکمہ موسمیات‘ فلکیات‘ فضائیہ اور بحری افواج کی معاونت حاصل ہوتی ہے‘ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رویت ہلال کمیٹی پہلے سے ہی رویت چاند کےلئے جدید سائنسی آلات کا استعمال کررہی ہے‘ چاند سے متعلق پاکستانی نیوی کا اندازہ زیادہ درست ہوتا ہے‘ دیگرمحکموں کی طرح نیوی بھی پندرہ روز قبل چاند سے متعلق اندازہ رپورٹ رویت ہلال کمیٹی کو بھیج دیتی ہے‘ اس کے بعد آخری دن تک یہ ’اپ ڈیٹس‘ مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

 البتہ چاند دیکھنے کی شہادتیں اکھٹا کرنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کواسلام آباد‘ پشاور‘ لاہور‘ کوئٹہ اور کراچی کی زونل کمیٹیوں کے اجلاس طلب کرنا پڑتے ہیں‘ جہاں موصول ہونے والی شہادتوں کو ماہرین جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھتے ہیں‘ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے سے چاند دیکھنے کی شہادت موصول ہوتی ہے تو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے! چاند دیکھنے کی شہادت لانے والے اگر ماہرین کی حسب تسلی و تشفی سوالات کا درست جواب نہ دے سکیں تو پھرچاند دیکھنے سے متعلق ایسی شہادتیں مسترد کردی جاتی ہیں۔آخر ایسا کیوں نہیں کہ ہر اسلامی مہینے کے آغاز و اختتام پر چاند کی رویت متنازعہ ہو لیکن یہ معاملہ صرف رمضان اورعیدین جیسے تہواروں پر بھی زیربحث آتا ہے!؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ عوام کی اِن مخصوص مہینوں میں غیرمعمولی دلچسپی ہوتی ہے۔

 اگر جلدبازی نہ کی جائے اور رویت کے معاملے پر مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کے درمیان اتفاق پیدا ہو تو قمری کلینڈر مرتب کرنے سے یہ کام زیادہ ’اجروثواب‘ کا باعث ہوگا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ حکومت کی خواہش کے مطابق پاکستان کے مذہبی حلقے صرف کسی جنتری پرانحصار کر لیں! چونکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سال میں صرف چار مرتبہ ہی اجلاس ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ خبروں کی زینت بن جاتی ہیں‘ کمیٹی کے یہ اجلاس رمضان‘ شوال‘ ذوالحج اورمحرم الحرام کے سلسلے میں منعقد ہوتے ہیں‘ سال کے دیگر ماہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوتے ہیں‘ ہر زونل کمیٹی میں 6اراکین ہوتے ہیں‘ قمری کیلنڈر سے متعلق سعودی عرب کی مثال موجود ہے‘ جہاں قمری کلینڈر انتظامی و حکومتی امور جیسا دفاتر اوقات اور ایام یا تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ عیدین اور حج کا چاند دیکھنے کا فیصلہ وہاں کی ’11 رکنی‘ رویت ہلال کمیٹی رکنی کمیٹی ہی کرتی ہے! تو پاکستان میں ایسی کوئی بھی مثال قائم کرنے کی کوشش نہ ہی کی جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اِس سے معاملہ (قضیہ) حل ہونے کی بجائے مزید اُلجھ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔