70

برین واشنگ بری بلا ہے

آج کا دور غیر روایتی جنگوں کا دور ہے اور ان غیر روایتی جنگوں میں ایک ایسی جنگ بھی شامل ہے کہ جسے برین واشنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جو غالباً تمام روایتی جنگوں میں سب سے زیادہ مہلک ہے معروف ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ سے ایک کہاوت منسوبہت کم لوگوں کو ہی یاد ہوگاکہ آج سے ٹھیک 31بر س قبل آج کے دن ایک فوجی ڈکٹیٹر نے نیم جمہوری مگر منتخب حکومت کو چلتا کردیاتھا یہ با ت ہے 1988ءکی جب آج ہی کے دن صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے وزیر اعظم محمدخان جونیجوکو برطرف کرکے اسمبلیاں بھی تحلیل کردی تھیں وزیر اعظم کوایک ایسے موقع پر برطرف کیاگیاکہ جب وہ کوریا اورچین کادورہ کرکے لوٹے تھے اور ابھی ائرپورٹ پر ہی تھے دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر کو اسمبلیاں توڑنے کااختیار بھی خودوزیر اعظم محمد خان جونیجوکی حکومت نے دیاتھا جب 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات کے بعدحکومت سازی کامرحلہ طے پایا تو جنرل ضیاءنے انتقال اقتدار پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مارشل اقدامات کو قانونی تحفظ دینے اور اپنے اختیارات میں اضافہ کیلئے آٹھویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا ”حکم “دیا تھا اس وقت نامزد وزیر اعظم محمدخان جونیجو کے سامنے یہ شرط ماننے کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہ تھا چنانچہ آٹھویں آئینی ترمیم منظور کروالی گئی جس کے تحت صدر کو وزیر اعظم کی برطرفی اور اسمبلیاں توڑنے کااختیار مل گیا تاہم محمد خان جونیجو بھی ایک شرط رکھی تھی کہ ترمیم کی منظور ی کے بعدمارشل لاءاٹھالیا جائے گا چنانچہ پھر 31دسمبر 1985کو آٹھ سال بعد مارشل لاءاٹھالیا گیا جہاں تک محمد خان جونیجو کاتعلق تھا تو وہ انتہائی شریف النفس انسان تھے ان کو بہت ہی کمزور وزیر اعظم خیال کیاجارہاتھا مگر پھررفتہ رفتہ انہوں نے جنرل ضیاءکے مدمقابل آناشر وع کردیا افغان پالیسی پر انہوں نے جنرل ضیاءکے برخلاف پالیسی اختیار کرتے ہوئے ان کی کوشش و خواہش کے باوجودجنیوا سمجھوتہ پر دستخط نہ کرنے سے انکار کردیاتھا اورتو اور اس سلسلہ میں قومی پالیسی طے کرنے کیلئے انہوں نے کل جماعتی کانفرنس بھی طلب کرکے تمام سیاسی قیادت کو ایک میز پر بٹھا دیاتھا ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے بے نظیر بھٹو کو اپنے قریب نشست دی تھی ۔

جس سے جنرل ضیاءکو زچ کرنا مقصودتھا پھر جب اپریل 1988میں اوجڑی کیمپ سانحہ رونما ہوا تو کہا جاتا ہے کہ محمد خان جونیجو نے جو انکوائر ی کروائی تھی اس میں بعض جرنیلو ں کے نام آئے تھے اور وہ دورہ چین کے بعدان جرنیلوں کو فارغ کرنے کااعلان کرنے والے تھے مگر وہ یہ بھول چکے تھے کہ وہ جمہوریت کاگلہ کاٹنے کااختیار جنرل ضیاءکو دے چکے ہیں اور پھر 29مئی 1988ءکو جنرل ضیاءنے بیک جنبش قلم وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف اور قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کو برطرف کرنے کے احکامات جاری کردیئے یہ آٹھویں ترمیم کاپہلا شکار تھا اس کے بعد1990 میں بے نظیر بھٹو 1993میں میا ں نوازشریف 1996میں پھر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف اوراسمبلیوں کو برخاست کردیاتھا گیا تھا جنرل ضیا نے ایک ،غلام اسحاق خان نے دو اور فاروق لغاری نے ایک اسمبلی کی قربانی دی تھی گویا محض آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں اس آٹھویں ترمیم نے چار اسمبلیوں کوچلتا کردیاتھا جب تک یہ ترمیم برقرار رہی جمہوریت صدر کے رحم و کرم پررہی حکومت کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ صدر صاحب کو ناراض نہ ہونے دیا جائے مگر یہ ناممکن تھا کیونکہ صدر صاحب بھی اپنے اختیارات سے چونکہ بخوبی آگاہ تھے اسلئے وہ بھی خاصے متحر ک رہاکرتے تھے اور پھر اسی وجہ سے مفادات کا ٹکراﺅ ہوجاتا اور جمہوریت کی قربانی دے دی جاتی یہ تو بعدازاں جب 1997کے انتخابات میں میاں نوازشریف بھاری مینڈیٹ کےساتھ حکومت میں آئے تو انہوںنے قوم اور پارلیمانی جمہوریت دونوں کو ہی اس مشکل سے چھٹکارا دلا دیا مگر اس کے باوجود وہ پانچ سال پورے نہ کرسکے اور ان کی دوسری حکومت جنرل مشرف کی نذر ہوگئی ۔

بہرحال آج کادن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طورپریاد رکھے جانے کے قابل ہے کیونکہ آج کے دن جنرل ضیاءنے جس طریقے سے اپنی ہی بحال کردہ نیم جمہوریت کاگلہ گھونٹ دیاتھا اس نے آگے چل کر مزید تین اسمبلیوں کی تحلیل کی بنیا د رکھ دی تھی آٹھویں ترمیم پاکستانی آئین میں ہونے والی بعض متنازعہ ترین ترامیم میں سے ایک تھی جنرل ضیاءنے تو محمد خان جونیجو کو بڑے ہی ذلت آمیز طریقے سے رخصت کردیاتھا ا سکے بعدسے ان کو سکون نہ مل سکا پہلے توسپریم کورٹ نے ان کے غیر جماعتی انتخابا ت کے فیصلے کو کالعدم قراردیا اورپھرمحمدخان جونیجو کو برطرف کرنے کے محض تین ماہ کے اندر اندر خود جنرل ضیاءفضائی حادثے کاشکارہوکر تاریخ کاگمشدہ با ب بن گئے ۔
ب ہے جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تم مجھے چھ ماہ کابچہ حوالے کر دو میں جس طرح بھی چاہوں گا اس کے مطابق اس کا ذہن تشکیل دے دوں گا یہ جو کم عمربچے اپنے جسموں کےساتھ بارودی مواد باندھ کر درجنوں بے گناہ افراد کے جھرمٹ میں گھس کراسے پھاڑ دیتے ہیں جس سے وہ خود بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور درجنوں لوگوں کو بھی ہلاک کر دیتے ہیں برین واشنگ کے تحت ہی تو ایسا کرتے ہیں کیا وہ نہیں جانتے کہ ایسا کرنے سے اگر وہ درجنوں افراد کا خون بہائیں گے تو خود بھی تو ہلاک ہوجائیں گے لیکن برین واشنگ سے ان کا ذہن اس قدر ماﺅف کر دیا گیا ہوتا ہے کہ وہ بالکل کام نہیں کرتا۔

 تاریخ کی کتابوں میں لکھا کہ کسی دور میں عراق میں حسن بن صباح نامی ایک شخص اس قسم کی برین واشنگ سے کمسن لڑکوں کے ہاتھوں اپنے مذہبی حریفوں کو قتل کرواتا اس نے ایک مصنوعی جنت بھی بنا رکھی تھی اور وہ کچے اذہان کے لڑکوں کو نشہ پلا کر اس جنت کا ہلکا درشن کروا کر کہتا کہ اگر تم نے فلاں فلاں شخص کے سینے میں زہر آلودہ خنجر اتار دیا تو تمہاری سیٹ جنت میں مستقل طور پر کنفرم ہو جائے گی چنانچہ سینکڑوں نوجواں لوگوں نے اس کے جھانسے میں آکر کئی لوگوں کا خون ناحق کیا تاوقتیکہ جب ہلاکو خان نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو اس مصنوعی جنت کو بھی اس نے تہہ تیغ کیا اور عراقیوں کو اس فتنے سے رہائی دلوائی ‘ دوسری جنگ عظیم میں یہ برین واشنگ کی ہی وجہ تھی کہ جب بعض جاپانی ہوا بازوں نے جان کی بازی لگا کر برطانوی بحری بیڑے کے ایک مضبوط بحری جنگی جہاز جو پرنس آف ویلز کے نام سے پکارا جاتا تھا کو ایک خود کش حملہ کرکے تباہ کر دیا اور خود بھی فنا ہو گئے ’آج کل ایسا دور آیا ہے کہ ہر کوئی اپنے نظرئیے کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں ان میں برداشت کا مادہ بالکل عنقا ہو جاتا ہے وہ دوسروں کا استدال سننے کو بالکل تیار نہیں ہوتے ہماری بک شاپس نفرت پھیلانے والی کتب سے بھری پڑی ہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی بجائے اپنی رائے کو دوسروں پر ٹھونسنے کی روش چل پڑی ہے۔

ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عدم برداشت اور تحمل کو ختم کرنے والے کتب اور دیگر ذرائع پر نظر رکھے، وزارت داخلہ حسب عادت و روایت وقتاً فوقتاً خانہ پری کیلئے اس قسم کے بیانات تو تواتر سے جاری کر دیا کرتی ہے کہ وہ تفرقہ اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کرےگی لیکن یہ بیانات صرف بیانات تک ہی محدود رہتے ہیں اس ضمن میں بولڈ ایکشن درکار ہوتا ہے اور ہم نے کسی بھی سیاسی حکومت کے تلوں میں اتنا تیل کبھی بھی نہیں دیکھا کہ وہ تفرقہ اور نفرت پھیلانے والوں پر آہنی ہاتھ ڈالا سکے وہ اپنا ووٹ بینک خراب کرنا چاہتی کیونکہ پارلیمانی نظام کی یہ ایک کمزوری ہے کہ بقول کسے اس میں کام کرنے والی ہر حکمران جماعت ہرایک کو حصہ دیتی ہے سیاسی مصلحتیں اس کے آڑے آتی ہیں اس لئے توسیانے کہہ گئے ہیں کہ پولیس اور سول انتظامیہ میں فیلڈ ڈیوٹیوں پر صرف وہ افسران تعینات کئے جائیں کہ جو ہر مسئلے کو انتظامی نگاہ سے دیکھتے ہیں اوران کے کسی اقدام کی راہ میں کوئی سیاسی مصلحت آڑے نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔