106

تعریف سے ہی اپنا دامن بھرلیں گے

فون پر گھنٹی بج رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی اٹھاﺅں کہ نہ اٹھاﺅں‘ پاکستان پہنچ کرپی ٹی اے نے میرے باہر سے لائے ہوئے فون کو بند کر دیا تھا اور ٹیکس کی ادائیگی کا حکم بذریعہ پیغام دیا تھا جس کیلئے میں پی ٹی اے کے دفتر اسلام آباد گئی‘ کئی کمروں میں دھکے کھانے کے بعد 10 ہزار کا ٹیکس بنا جو میں نے ادا نہیں کیا‘ میں کوئی مستقل رہنے تو نہیں آتی ہوں‘ مہمان ہوں چلی جاﺅنگی لیکن پی ٹی اے نے فون کو بند کر دیا‘اب نئے فون میں پرانی سم ڈالی تو تمام نمبرز اڑ گئے اور آپ سوچیں کہ فون گم جائے،ٹوٹ جائے یا خراب ہوجائے تو کئی سونمبر جو گیارہ ڈیجیٹ پر مشتمل ہیں ان کو کیسے یاد رکھاجائے‘ تمام رابطے منقطع ہوگئے‘ ہم تمام لوگ اپنے اپنے فون کے نمبروں سے اس طرح جڑے ہوئے ہیںکہ ایک دن کی جدائی گویا پہاڑ بن جاتی ہے‘ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا‘ ایسے میں ایک رانگ نمبر مجھے چونکا گیالیکن میں نے اٹھالیا‘ گوجرانوالہ سے کوئی صاحب بول رہے تھے میرا نام لے کر پوچھا کہ میں وہی بول رہی ہوں‘جواب سننے کے بعد بولا آپ کی کتاب ”میرا شہر دل بر“ میرے ہاتھ میں ہے‘ آپ کا فون نمبر لکھا ہواتھا سوچا کتاب کی تعریف کرلی جائے‘ ایک دم سے جی خوش ہوگیا۔

 کسی بھی لکھاری کیلئے کسی قاری کا فون ای میل بہت ہی خوش کن ہوتاہے‘ میں نے پوچھا گوجرانوالہ میں آپ کو کتاب کہاں سے ملی‘ بولا تھڑے سے، کباڑیا بیچ رہا تھا‘ میرے تو اوسان خطا ہوگئے‘ ابھی تو یہ کتاب شائع ہوکر باہر آئی ہے اور یہ فٹ پاتھ پر کیسے پہنچ گئی‘ بھلا اس بے چارے کو کیا معلوم کہ پشاور سے نکلی ہوئی اس کتاب کا سفر گوجرانوالہ تک کس نے کرایا‘ اپنی کتاب کی بے قدری پر چاہتی تھی کہ دل کو تھوڑا خفا کرلوں لیکن ایک دم یاد آیا کہ میں بھی تو کئی اتواریں راولپنڈی صدر کے تھڑوں پر نایاب کتب ڈھونڈنے میں گزارتی تھی اور وہاں ایسی ایسی کتابیں مجھے ملتی ہیں جو ادب کا شاہکار ہوتی تھیں‘ بہرحال قدر دان قاری کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بے پناہ تعریفی جملوں کو ہی اپنی خوشی کا ذریعہ بناکر دل خوش کر لیا‘ خوبصورت زمانے ہوتے تھے کہ جب لائبریریاں آباد ہوتی تھیں‘ محلے کی لائبریری زندہ جاوید ہوتی تھی اور تشنگی کتاب مٹانے کا کام کرتی تھی‘ کالج یونیورسٹی میں آہستہ چلتے تھے کہ کہیں لائبریری کا ماحول شور کی آلودگی سے خراب نہ ہوجائے‘ کتاب ایشو کرواتے وقت دستخط کرتے تھے اور وقت پر واپس نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ بھرتے تھے۔

 پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی نایاب لائبریری اپنے قاری کی راہ دیکھتی تھیں‘ قدر دان لوگ ایک دوسرے کو کتاب کا تحفہ دیتے تھے بلکہ چاہنے والے لوگ کتابوں میں پھول رکھ نذرانہ پیش کرتے تھے‘ زمانہ کچھ ایسی آندھی کی رفتار سے دوڑا کہ لائبریریوں نے شرط لگا دی‘ ادھر لائبریری ہی میں بیٹھ کر کتاب پڑھیں ایشو نہیں ہوسکتی اور محلے کی لائبریریاں اکثر ہی لنڈے کی دوکانوں سے سج گئیں‘ شاید وہ کرایہ زیادہ دیتے ہوں گے‘ نفع نقصان کی تجارت ہوتی ہے‘ اب لوگوں نے نقصان اٹھانا چھوڑ دیاہے شاید وہ سمجھ دار ہوگئے ہیں‘ اسلام آباد کے ایک بہت ہی مشہور ترین ثقافتی ادارے میں مادری زبانوں کا میلہ سج گیا پہلے تو میں نے اس بات کو حیرت کے ساتھ سنا کہ زبانیں میلے میںکیا کریں گی لیکن میں نے دیکھا پاکستان بھر کی بے شمار مادری زبانیں اپنی اپنی پوشاک اوڑھے ہوئے اس ثقافتی میلے میں شریک ہوئیں اور پھر جو کچھ کسی میلے میںہوتا ہے‘۔

ان کے ساتھ بھی وہی ہوا ہر زبان میلے میں کھو گئی‘ میلے تو نام ہی ہے کھو جانے کا بس زبانیں پہلے تو کچھ بولتی رہیں کچھ سنتی سناتی رہیں اور آخر میں چھم چھم باہر سبزہ زاروںمیں نکل گئیں‘ میلے کے کئی کمروں میں پہنچ گئیں‘ وہاں لگے ہوئے سٹالوں پر بیٹھ گئیں اور اس طرح کوئی زبان بھی صحیح سلامت نظر نہ آئی‘ آج کل یہی حال کتابوں کے ساتھ ہو رہا ہے‘ دارالخلافے میں بھی کتابوں کا میلہ سج جاتا ہے‘ کتابیں سج بن سنور کے دیدہ زیب بن جاتی ہیں اور خوب خوب خوش ہوتی ہیں‘ بالکل ویسے ہی جیسے مشاعرہ اب کرسیوں پر بیٹھنے لگا ہے‘ کبھی میں سوچتی ہوں کہ کچھ سالوں پہلے بھی ہمارے نامی گرامی شعراءفرشی نشست پر بیٹھ کر شعر پڑھا کرتے تھے ان میں سے کئی ایک کو کمزوری کا غلبہ ہوتا ہوگا‘ بیٹھنے میں شاید دشواری بھی ہوتی ہو لیکن مشاعرہ ایسی صنف تھی جو فرشی نشست کی صورت میں باذوق لوگوں سے قریب ترین ہوکر پڑھا جاتا تھا‘ شاید مشاعرہ بھی اب تعلیم یافتہ ہوگیا ہے وہاں میں نے دیکھا ہے جیسے جیسے ہم علوم حاصل کرتے جاتے ہیں فطرت سے دور ہوتے جاتے ہیں اور بہت حد تک تنگ نظر بھی ہوتے جاتے ہیں۔

 سوشل میڈیا پر شاعروں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے اور وہ اپنی ایسی ایسی شاعری ڈیزائننگ کرکے اپنی وال پر لکھتے ہیں کہ عقل حیران ہے کہ کیا لکھا ہوا ہے کون سا قافیہ ہے کون سا ردیف ہے لیکن اس پر سہاگہ یہ کہ وہ تعریف نہ کرنے پر باقاعدہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں‘ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کو اصرار کرتے ہیں‘ میں شاعرہ نہیں ہوں لیکن شعر پڑھنے اور سمجھنے کا ذوق شایدبراڈ کاسٹنگ کی تربیت سے طبیعت میں موجو ہے‘ اس لئے کسی بے تکے شعر کی تعریف نہیں کرسکتی‘ وہ شاعر جو پیدائشی شاعرہوتے تھے وہ تو کب کے مٹی تلے جاسوئے جنہوں نے کوئی کالج یونیورسٹی نہیں دیکھی تھی لیکن ان کی شاعری پڑھ کر زبان گنگ ہوجاتی ہے‘ ایسا خیال ایسا جملہ ایسا مصرعہ کہ جو اللہ کی دین ہوتی ہے خود سے انسان کے بس کا روگ نہیں ہوسکتا‘ باسط سلیم مرحوم ہمارے استاد تھے اور واقعی استاد ہونا ان پر شروع ہوکر ان پر ختم ہوتا تھا‘ ان دنوں ٹیلی ویژن کی نئی نئی نشریات لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں‘ ہفتے یا اتوار کی رات پاکستانی فلم لگتی تھی‘ ایک عوام الناس کا ہجوم کالے اور سفید ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کر یہ فلم رات دو تین بجے تک دیکھتا تھا۔

 باسط سلیم کہا کرتے تھے کہ لوگوں کو اپنا پسندیدہ پروگرام ٹی وی پر دیکھنے کیلئے آگ اور خون کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے‘ جی یہ صحیح ہے‘ ٹیلی ویژن کے پاس ایک وقفے میں اتنے اشتہارات ہوتے تھے کہ آپ بازار جاکر سودا سلف لے آئیں اور دوبارہ سے آکر بیٹھ جاتے‘ ٹی وی کے سامنے ابھی اشتہار چل رہا ہوگا‘ جب کسی ادارے کو علم ہوکہ میں واحد ہوں تو اس کے نخرے آسمانوں پر ہوجاتے ہیں‘ اب کتاب کی بے قدری اتنی ہوچکی کہ اس نے بھی سر تو جھکا کر سمجھوتہ کرلیا ہے کہ بھلے مجھے میلے میں رکھ دو‘ مجھے فٹ باتھ پر پہنچا دو بس مجھے کوئی پڑھ لے‘ پبلشر جس طرح لکھاریوں کو بلیک میل کرتے ہیں‘ لاکھوں روپے کتاب کی پبلشنگ کے لگتے ہیں‘ پھر کتاب کی 200 روپے قیمت بھی لوگوں کو خریدتے ہوئے بہت مہنگا لگتا ہے‘ لکھاری کو کوئی رائلٹی کوئی معاوضہ دینے کا رواج مدتوں سے ختم ہی ہوگیا ہے‘ خوش نصیب ہے وہ فن کار جن کو سٹیج کی کمپیئرنگ کرنے کے بعد بھی لفافہ ملتاہے‘ آخر کار لکھاری‘ فنکار کی بھی زندگی کو روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے ہر جگہ روپیہ بہایاجاتا ہے بس جب کتاب لکھنے کا معاوضہ یا کتاب فروخت ہونے کے بعد اپنا حق مانگ لو جو رویہ اور سلوک آپ کو چاہئے ملے گا بہتر ہے خاموش ہو جاﺅ اور اپنی کتابوں کو سامنے فروخت ہوتے ہوئے دیکھو اور صرف اس بات پر خوش ہو جاﺅ کہ چلو کتاب پر میرا نام لکھا ہواہے شاید کوئی فون کرکے تعریف کردے اس تعریف سے ہی اپنا دامن بھرلیں گے اور ایک اگلی کتاب کو لکھنا شروع کردیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔