131

اہم فیصلے

وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کو پن بجلی کا منافع اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت دینے سے متعلق سفارشات طلب کرلی ہیں‘ وزیراعظم نے پیر کے روز تک کی ڈیڈ لائن دینے کیساتھ وارننگ دی ہے کہ مزید کوئی سستی برداشت نہیں کی جائے گی‘ دریں اثناءمعلوم یہ بھی ہوا ہے کہ جمعہ کے روز اس حوالے سے اہم اجلاس بھی طلب کرلیاگیا ہے‘ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کے عوام کو شناختی کارڈ پر صحت سہولیات دینے کا اعلان بھی کیاگیا‘ یہ انتظام صحت انصاف کارڈز کی فراہمی تک کےلئے ہوگا‘ خزانہ کیلئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ بھی خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع کیلئے اضافی وسائل فراہم کرنے کا عندیہ دیتے ہیں‘ وزیراعلیٰ محمود خان کی کوششوں سے اگر پن بجلی منافع کی اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت ادائیگی ممکن ہوتی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی ہی قرار دیاجائیگا‘ رقم ملنے پر صوبے کی معیشت مستحکم ہوگی اس ساری صورتحال میں یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ فنڈز کے ملجانے پر ان کا درست اور شفاف استعمال ایک اہم چیلنج ہوتا ہے اس مقصد کیلئے اداروں کی فعالیت ضروری ہے۔

 صوبائی حکومت بجٹ کے بعد صوبے کے نظام میں تبدیلیوں کا عزم ظاہر کر رہی ہے اس مقصد کیلئے ریفارمز کا عندیہ بھی دیا جا رہاہے اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ ہمارے ہاں فنڈز کے درست بروقت اور شفاف استعمال پر سوالات اٹھتے رہے ہیں‘ رواں مالی سال کے دوران بھی صحت اور ایجوکیشن جیسے اہم اداروں میں فنڈز کا بروقت استعمال نہ ہوسکا حکومت کو ریفارمز کے عمل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ فنڈزلیپس ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور کس جگہ ایسا سقم موجود ہے کہ جو دور کیاجاسکے‘ اگر ہم نے اس وقت اصلاحاتی عمل میں سست روی کا مظاہرہ کیا تو انتہائی کوششوں سے ملنے والے پن بجلی منافع کا استعمال بھی مسئلہ بن جائےگا‘ بہتر یہ ہوگا کہ ذمہ دار سرکاری ادارے اس مقصد کیلئے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیں تاکہ رقم ریلیز ہونے کےساتھ ہی اس کا استعمال ممکن ہوسکے‘ اس مقصد کیلئے سرکاری مشینری میں کرپشن کے خاتمے کیساتھ خلاف میرٹ تقرریوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے ضروری یہ بھی ہے کہ سرکاری سیٹ اپ کو ہر قسم مداخلت اور پریشر سے آزاد کیا جائے تاہم کارکردگی کی مانیٹرنگ کیلئے کڑا انتظام بھی ضروری ہے۔

ملاوٹ میں تشویشناک اضافہ

کے پی فوڈ اتھارٹی کے انوسٹی گیشن ونگ اور فائٹ سکواڈ کے بڑے کریک ڈاﺅن میں چائے کی پتی اور دودھ میں وسیع پیمانے پر ملاوٹ کا پایاجانا انسانی صحت اور زندگی کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے‘ اتھارٹی کے چھاپوں کے دوران پشاور میں 2ہزار کلو گرام ملاوٹ شدہ چائے کی پتی‘ پانچ ہزار لیٹر دودھ اور تین سو کلو گرام دہی تلف کیاگیا‘ قابل تشویش ہے کہ کتنا مضر صحت دودھ فروخت ہوچکا اور کتنی چائے کی پتی لوگ ابھال کر پی چکے‘ اس کےساتھ دیگر کتنے مقامات پر مزید چائے کو رنگ دیاجا رہا ہوگااور دودھ کو ملاوٹ سے آلودہ کیا جارہا ہوگا‘ گرانی کے اس طوفان میں شہریوں کو اگر کھانے پینے کی اشیاءمضر صحت ملیں تو یہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہوگا‘ صورتحال کا تقاضا ہے کہ مارکیٹ میں چیک کیلئے اتھارٹی کو مزید وسائل اور افرادی قوت فی الفور دی جائے جبکہ کمیونٹی سے بھی تعاون حاصل کرنے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے‘ چند چھاپے اور ا
شیاءتلف کرنا مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔