78

بچپن کا ساون‘کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی

پشاور کی یادیں تو بہت ہیں مگر ان میں گرمیوں کے روزے بہت اچھی طرح یاد ہیں‘ میری عمر آٹھ دس سال کی ہوگی جب رمضان کا مہینہ اسوقت آیا جب پشاور میںگرمیاں اپنی شدت پر تھیں‘ عرب ممالک میں رمضان شروع ہونے پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیتے ہیں اور رمضان کریم کہتے ہیں‘پشاور میں یا سارے ہندوپاکستان میں رمضان کی مبارکباد دینے کا رواج نہ تھا‘ ہو سکتا ہے جس طرح ہم لوگوں نے عربوں کے طور طریقے اختیار کر لئے ہیں تو اب لوگ رمضان کی آمد کی مبارکباد بھی دیتے ہوں گے۔گرمیوں میں ہمارا آبائی گھر ایک بھٹی کی طرح تپ جاتا تھا دوپہر اور سہ پہر گھر کی سب سے نچلی منزل(تہور تلے) میں گزرتی تھی اور شام اور رات سب سے اوپر والی منزل (تہور کوٹھے) پر گزرتی تھی‘ سحری بھی اوپر ہی بنتی تھی وہیں چولہا گرم ہوتا تھا اور پراٹھے بنائے جاتے تھے‘ سحری میں پراٹھے کےساتھ دہی ملائی اور ٹھنڈے دودھ کا استعمال ضروری تھا ایک آدھ کپ شیری چائے (کشمیری چائے) کابھی لے لیتے تھے ۔سہ پہر کے بعد افطاری کی تیاری شروع ہوجاتی تھی چولہا پھر سے گرم ہوتا تھا اور رات کے کھانے کی تیاری شروع ہو جاتی تھی‘ محلے میں لالی نانبائی کا تندور گرم ہوتا تھا افطاری سے آدھ گھنٹہ پہلے گھروں سے لوگ چنگیروں میں آٹے کے پیڑے لئے روٹیاں لگوانے تندور جاتے تھے‘ ہماری والدہ مگر گھر کی اوپر والی منزل کے کونے میں لگی ہوئی تندوری میں روٹیاںبناتی تھیں‘افطاری میں فروٹ چاٹ اور پکوڑے ضروری ہوتے تھے برف میں لگے ہوئے تربوز بھی کبھی کبھی آ جاتے تھے ۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب گھروں میں فرج ہوتے تھے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا بندوبست‘ ٹھنڈا پانی باہر سے لایا جاتا تھا‘ پشاور کے مختلف علاقوں میں بلکہ ہر محلے اورشاےد ہر گلی میں کنواں ہوتا تھا جس میںسے ٹھنڈا پانی نکالتے تھے ‘بہت کنویں تو بہت مشہور تھے مثلاً شہباز کا کنواں ‘ کالے دی کھوئی وغیرہ ہمارے علاقے میں سروانوں کے محلے کا کنواں بہت ہی ٹھنڈا پانی دیتا تھا ‘ عصر کی نماز کے بعد لوگ گھڑے ‘ ڈول ‘ بالٹیاں لےکر کنوﺅں پر پہنچ جاتے تھے ہم بھی گھڑے ڈول وغیرہ لےکر گھر کے قریب سروانوں کے محلے کے کنویں پر پہنچ جاتے تھے ‘وہاںایک بھیڑ ہوتی تھی اور باری باری ہمارے ڈول وغیرہ بھرے جاتے تھے‘اکثر کوئی کڑیل جوان کنویں سے پانی نکالنے کا ذمہ لے لیتا تھا‘ ایک بوکے سے ایک ڈول یا بالٹی بھری جاسکتی تھی‘دو تین گھنٹوں کی مشقت سے سب کو پانی مل جاتا تھا‘پانی بھی کیا تھا‘ ایک نعمت تھی ‘اتنا ٹھنڈا کہ گھونٹ گھونٹ پیناپڑتا تھا‘ ڈیک نہیں لگاسکتے تھے۔اس ٹھنڈے پانی سے اسپغول یا تخم ملنگہ کا شربت بنتا تھا۔دوپہر کے بعد بازاروں میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوجاتی تھی‘افطار سے گھنٹہ پہلے بازار پھر چمک اٹھتے تھے‘لوگ آخری وقت خوردونوش کا سامان خریدتے تھے‘ پکوڑے‘وڑے‘ اچار‘ فروٹ‘ پنیر وغیرہ وغیرہ‘صاحب حیثیت لوگ برف خریدتے تھے اور گھر کی عورتوں اور بچیوں کیلئے موتیے اور کرنے کے پھولوں کے ہار اور کڑے بھی۔برف کی ایک دکان گھنٹہ گھر کے نیچے ہوا کرتی تھی‘ برف ان دنوںپرمٹ پر برف کے کارخانوں سے ملتی تھی۔

 دکاندار برف کی چند سلیں لے آتے اور برمے سے کاٹ کاٹ کر پرچون بیچتے تھے‘ چونکہ ہمارے وطن اور ہمارے معاشرے میں قطار بنانے یا اپنی باری کاانتظار کرنے کا روا ج نہیں اسلئے کچھ لوگ پہلے سے کھڑے گاہکوں سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ گرمیوں میں یوں بھی بہت لوگوں کا پارہ چڑھا ہوتا ہے‘ اسلئے برف کی دکانوں پر اکثر لڑائی جھگڑا ہو جاتا تھا اور کبھی کبھی چاقو بھی چل جاتا تھا۔ مغرب سے کچھ دیر پہلے بازار پھر اجڑ جاتے تھے۔ لوگ جلدی جلدی سودا سلف لئے اپنے اپنے گھروںکی راہ لیتے تھے۔ہمیں ایک ایک کٹورہ شربت افطار کیلئے ملتا تھا۔ اگر مزید طلب ہو تو پانی سے پیاس بجھانے کی کوشش کرتے تھے‘ پیٹ مشکیزہ ہوجاتا تھا لیکن پیاس نہیں بجھتی تھی‘ کھانا کھانے کے بعد ہم تراویح کیلئے مسجد کی راہ لیتے تھے۔ دو ایک گھنٹے وہاں لگ جاتے تھے۔ واپس آتے تو اپنی اپنی چارپائےوں پر دری بچھا کر اور سر تکےے پر رکھ کر سوجاتے ‘جب والدہ ےاگھر کاکوئی بڑاکندھا ہلاکر سحری کیلئے اٹھنے کا کہتا تو یہی محسوس ہو تاکہ ابھی تو سوئے تھے کہ جاگنے کا وقت آپہنچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔