100

مشرق وسطیٰ پر جنگ کے بادل

امریکہ کاجنونی‘ لاابالی طبےعت کا مالک صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کل ایران کے درپے ہے اوراس پر حملہ آور ہونے کےلئے مختلف حیلے بہانے تلاش کر رہا ہے امریکہ کے اندر جو دور اندیش اور معاملہ فہم رہنما ہیں وہ اسے بار بارتنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ امریکی کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی ملک کے خلاف جنگ چھیڑ نہیں سکتا اور اگر اس نے از خود امریکہ کو ایران کےخلاف جنگ میں دھکیلا تو دنیا بھر میں امریکی باشندوں اور امریکی پراپرٹی پر جوابی وار شروع ہو سکتے ہیں‘لگتا یوں ہے کہ امریکہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا امریکی صدر ٹرمپ کیوں یہ با ت بھول رہے ہیں کہ 1960ءکی دہائی میں شمالی ویت نامیوں کے ہاتھوں امریکی فوجیوں کو لوہے کے چنے چبانے پڑے تھے‘ کس ذلت اور رسوائی سے امریکی فوجیوں کو وہاں سے پسپائی کے عالم میں نکلنا پڑا تھا‘ آج بھی امریکیوں کے ذہن پر ویت نام کی شکست کے جو زخم لگے تھے وہ مندمل نہیں ہوئے وہ اب بھی ہرے ہیں پھر افغانستان میں نائن الیون کے بعد کیا ہوا ؟ تقریباً دو دہائیوں سے وہاں امریکی الجھے ہوئے ہیں اوربات نہیں بن رہی‘ امریکہ اب اس کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن کمبل اسے چھوڑ نہیں رہا‘کاش کہ امریکی قیادت نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے اس برطانوی بریگیڈ یر کا وہ خط پڑھ لیتی کہ جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی لکھ دیا تھا کہ کوئی بھی غیر ملکی اس خطے میں فوجی دراندازی کرنے سے قبل دو مرتبہ ضرور سوچے کیونکہ جلد یا بدیر اسے یہاں سے رسو ا ہو کر نکلنا پڑے گا‘ اسے مداخلت کرنے سے پہلے اپنے فرار کا راستہ متعین کر لینا ضروری ہو گا کیونکہ جب وہ بھاگے گا ۔

تواس کا فرار مقامی لوگوں کی گولیوں کی بوچھاڑ کے سائے میں ہو گا‘ عراق پر حملے سے پہلے امریکیوں نے صدام حسین پرکیا کیا الزامات نہیں لگائے تھے‘ کہاگیا کہ اس نے ایسے کےمیائی ہتھیاروں کے انبار لگا رکھے ہیں کہ جن سے پوری دنیا کو سخت خطرہ لاحق ہے لیکن جب امریکی فوجیں عراق میں گھسیں تو ان کو کوئی کےمیائی ہتھیاروں کے آثار نہ ملے اور اس طرح دنیا کے سامنے اس وقت کے امریکی صد ر اور اس کے اتحادی برطانیہ کے اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر شرمسار ہوئے آج ایران پر حملہ کرنے کا جوا ز ڈھونڈا جا رہا ہے سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرایران واقعی گنہگار ہے تو اس کو راہ راست پر لانے کےلئے اوربھی تو کوئی حربے موجود ہیں جیسا کہ اقتصادی پابندیاں لگانا وغیرہ‘ پہلے تو امریکہ کو اگر ایران کی کسی حرکت پر اعتراض ہے یاوہ عالمی امن کےلئے کوئی خطرہ ہے تو وہ اقوام متحدہ کو کہے کہ وہ ایک غیر جانبدار کمیشن بنا کر ایران بھجوائے اور وہاں زمینی حقائق کا تجربہ کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے‘ نیرنگی زمانہ دیکھئے یا تو ایک دور ایسا بھی تھا کہ ایران امریکہ کا لنگوٹےا یارتھا اور سردجنگ کے زمانے میں ہر محاذ پر امریکہ کی حمایت میںاسکے ہر اول دستے کا کام کرتا تھا اور پھر چشم فلک نے آج کا دور دیکھا کہ جب ایران اور امریکہ میں دوریاں کتنی وسیع ہو چکی ہیں امریکہ کچھ عرصے پہلے صدام حسین کے ہاتھوں ایران کوایک کاری ضرب لگا چکا ہے اور آج کل وہ مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں کےساتھ اشتراک عمل میں اس کے بخیے ادھیڑ رہا ہے‘ ۔

ٹرمپ سے مسلمان کسی نیکی کی امید بالکل نہ رکھیں‘نریندرمودی کی طرح وہ مسلمانوں کے خون کاپیاسا ہے اسکی مسلمان دشمنی کا وہی عالم ہے کہ جو ہٹلر کا یہودیوں کےساتھ تھا‘ قطر میں پہلے ہی سے امریکہ نے زمین دوز فوجی اڈے بنا رکھے ہیں کہ جہاں سے وہ مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک پر چڑھائی کر سکتا ہے اب امریکی بحری بیڑہ بھی مشرق وسطیٰ کے قریب پہنچ چکا ہے آئندہ چند روز مشرق وسطیٰ کے امن کےلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔