60

ادویات قیمتیں:عوامی مفاد

لمحہ فکریہ ہے کہ جس ایک مقام پر عوام کی منتخب کردہ سیاسی قیادت اور غیرسیاسی فیصلہ ساز بے بس اور جہاں حکومتی اداروں کی بھی ایک نہیں چلتی وہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں کا تعین اور حسب قیمت فروخت پر بہرصورت عملدرآمد کروانا ہے‘ سردست صورتحال یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے جان بچانے والی دوائیوں سمیت 78 دیگر ادویات کی قیمتوں میں کمی تو کر دی ہے اور اس سلسلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلامیہ بھی جاری کیا ہے‘ جس سے نئی قیمتوں کا تعین ہو گیا ہے لیکن قیمتیں بڑھانے والے ذمہ داروں کو سامنے نہیں لایا گیا‘ جنہوں نے موقع کا فائدہاٹھاتے ہوئے اچانک قیمتوں میں کئی سو گنا تک اضافہ کردیا تھا اور اب بھی ان تمام ادویات کی اصل قیمتیں بحال نہیں ہوئی ہیں جو گذشتہ تین ماہ کےدوران بڑھائی گئی ہیں۔ جب بات عوام کے شدید ردعمل اور ملک گیر احتجاج تک جا پہنچی تو وزیراعظم نے مداخلت کی‘ ادویات قیمتوں میں اضافےکاجائزہ لینے کےلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی‘ جسکی رپورٹ بھی تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہے‘ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ادویات کی قیمتیں بڑھانے والے ادارے اور حکومتی اداروں میں موجود عناصر کو بچایا جا سکے‘ جنہوں نے تین ماہ میں اضافی اربوں روپے کمائے ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اگرچہ ادویات کی قیمتیں کچھ حد تک کم کر دی گئی ہیں جس سے حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے مگر یہ قیمتیں پہلی والی سطح پر بحال نہیں ہوئی ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ادویات کی قیمتےں پہلے والی سطح سے بھی کم کی جاتیں۔

 ادویہ ساز ادارے حکومت سے ٹیکسوں کی مد میں رعایت لیتے ہیں لیکن یہ رعایت صارفین کو منتقل نہیں کی جاتی‘ دواﺅں کی نئی قیمتوں کو دیکھ کر فوری طور پر یہ تاثرابھرتا ہے کہ عوام کی بجائے ادویہ ساز اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے اور ماضی کی سیاسی حکومتوں میں بھی اسی قسم کی روش اختیار کی جاتی رہی ہے‘ موجودہ حکومت کے اعلامیے میں کئی ایسے خلاءچھوڑ دیئے گئے ہیں جنکی آڑ میں بعض کمپنیوں کو اپنی دواﺅں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کےلئے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا اور مستقبل میں ایک مرتبہ پھر ادویات کی قیمتیں بڑھا دی جائیں گی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ٹی بی ڈرپ‘ آنکھ کے درد اور کچھ پرانی انٹی بائیوٹک ادویات کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ کیا گیا ہے بلکہ انہیں قانونی شکل بھی دیدی گئی ہے دواﺅںکی کمی کے تاثر سے عوام کو جو ریلیف دیا گیا ہے‘ وہ کچھ اس طرح ہے کہ بلڈ پریشر کی ایک گولی کونکو کہلاتی ہے جوعموماً ڈھائی ملی گرام میں دی جاتی ہے‘ اسکی قیمت باسٹھ روپے سے بڑھ کر ایک سو پچیس روپے کی گئی اور اب اس قیمت میں کمی کی بجائے مستقل کر دیا گیا ہے۔بلڈ پریشرکے مریضوں کےلئے خوراک کی طرح نہایت ہی ضروری دوائی کی قیمت سو فیصدبڑھانا غیرمنطقی ہے سردست وزیراعظم کے نوٹس کی وجہ سے قیمت ایک سو پانچ روپے توکر دی گئی ہے لیکن اسے باسٹھ روپے پر نہیں لایا گیا‘ اس طرح کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

 جن میں شوگر‘ مرگی اور دیگر بیماریوں میں استعمال ہونےوالی ادویات شامل ہیں جن کی قیمتیں سوفیصد سے زیادہ بڑھا کر دس‘ بیس یا زیادہ سے زیادہ تیس فیصد کم کی گئی ہیں‘ ادویات ساز اداروں کو دی گئی کھلی چھوٹ اور من مانیوں سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومتی ادارے اور سرکاری اہلکار حکومت کے عوام دوست فیصلوںکو کس طرح خاطر میں نہیں لاتے ادویات کی قیمتوں میں کمی کے علاوہ عوام اس بات کی بھی توقع رکھتے تھے کہ قیمتیں بڑھانے کے ذمہ داروں کی بھی نشاندہی کرکے انہیں سزائیں دی جائیں‘ سرکاری محکموں سے ایسے عناصر کا صفایا ہونا چاہئے جو ادویہ ساز اداروں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں اور ذاتی مفاد کےلئے ان کی ہمدردیاں ملکی و غیر ملکی کمپنیوں سے وابستہ ہیں لیکن اس بارے میں حکومتی اعلامیے کی خاموشی کسی بھی صورت تعمیری نہیں‘ یہ درست ہے کہ لاگت اور جائز منافع کو ملا کر قیمتیں مقرر کی جانی چاہئیں‘اسلئے کہ کسی بھی دوائی کی لاگت سے کم قیمت فروخت پر اصرار کرنا انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے لیکن یہ بھی عوام سے زیادتی ہے کہ منافع کی شرح جو معقول حد تک ہونی چاہئے‘ اسے اچانک سو فیصد تک بڑھا دیا جائے کیا اس سلسلے میں وزارت صحت اور بالخصوص تحریک انصاف کی تھنک ٹینک باڈی نوٹس لے گی یا ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عام آدمی کو ان حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا جس میں سراسر منافع ادویہ سازوں اور سراسر خسارہ ہم عوام کا ہو رہا ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔