109

صحت اصلاحات

 صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں نافذ کی جانےوالی اصلاحات اور اس ضمن میں محکمے کے سٹاف کو دی جانےوالی مراعات پرمشتمل اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ مراعات اور ترقیاں دی ہیں اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں صوبے میں میڈیکل آفیسرز کی تعداد 3639 تھی 2018تک انکی تعداد میں 142 فیصد اضافہ کرکے یہ تعداد 8801 کردی گئی‘ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ کی تعداد 280 سے بڑھ کر 931 کی گئی‘ڈینٹل سرجنز کی تعداد میں 56 فیصد اضافہ کیاگیا ‘نرسوں اور پیرا میڈکس کےلئے تاریخ میں پہلی بارسروس سٹرکچر کااعزاز بھی تحریک انصاف کی حکومت کے حصے میں آیا‘ اسی طرح ہاﺅس آفیسر کی مراعات اور الاﺅنسز کو 24 ہزار سے بڑھاکر 62 ہزار اور ٹی ایم او الاﺅنس کو 42 ہزار سے بڑھا کر 103000 روپے کیا گیا ہے لیکن اسکے باوجود کچھ ڈاکٹر اپنے ذاتی مفاد کےلئے احتجاج کرتے رہتے ہیں‘صوبائی وزیر اطلاعات کاسیکرٹری صحت کے ہمراہ گزشتہ دنوں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہناتھا کہ موجودہ حکومت دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی تعیناتی بہترین الاﺅنس کےساتھ کررہی ہے جس میں ڈاکٹر کی تنخواہ 85 ہزار سے بڑھ کر تقریبا 155000 روپے تک پہنچ جاتی ہے لیکن بقول وزیراطلاعات پھر بھی بعض ڈاکٹر غریب عوام کو نقصان پہنچانے اور ڈاکٹروں کو بد نام کرنے کےلئے احتجاج کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔ مندرجہ بالا اعداد وشمار میں بلا شک وشبہ کافی وزن اورجان ہے اور ان کوجھٹلانا شاید کسی بھی طور ممکن نہیں ہوگا۔

 لیکن یہاں ہمیں کم از کم دوسوالات کے جواباتضرور ڈھونڈنے چاہئیںاولاً یہ کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ ڈاکٹروں کو اتنی مراعات ملنے کے باوجود وہ نہ تو مطمئن ہیں اور نہ ہی ان مراعات کا اثر کہیں بھی ہیلتھ ڈیلیوری سسٹم کی بہتری کی شکل میں نظر آ رہا ہے‘ ثانیاً موجودہ حکومت اگر صحت سمیت دیگر شعبوں میں آئے روز نت نئے تجربات کی بجائے پرانے نظام کی بہتری اور اوورہالنگ ہی پر اپنی توجہ مرکوز رکھے تو اس سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوگی بلکہ حکومت اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے بار بار واپس لینے کی شرمندگی سے بھی بچ سکے گی۔ مثلاً اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز ایکٹ کی منظوری کی صورت میں محکمہ صحت کے دفاتراور سرکاری ہسپتالوں سے مینجمنٹ کیڈر کی چارسوکے لگ بھگ آسامیاں ختم ہونیکا خدشہ پیدا ہوگیا ہے‘صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کی حیثیت بھی ختم ہورہی ہے جہاں صرف ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور مانیٹرنگ اینڈ ایولیوشن کے شعبے ڈائریکٹوریٹ کے پاس باقی رہ جائےں گے ناقدین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کا مجوزہ ایکٹ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور ایجنسی سرجنز کی35آسامیاں ختم ہوکر اتھارٹیز کے سی ای او کیلئے مختص ہوجائینگی چونکہ سی ای او عہدے کیلئے مینجمنٹ کیڈر کی بجائے جنرل کیڈر کے ڈاکٹرز کو اہل قرار دیا گیا ہے اسلئے مینجمنٹ کیڈر کی یہ آسامیاں خالی ہوجائیں گی‘اسی طرح تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی کم ازکم تین سو آسامیاں نئے قانون کے تحت ختم کردی جائیں گی جبکہ ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ میں بھی انتظامی کیڈر کی 30 آسامیاں بجٹ بک سے نکالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

 جسکی وجہ سے بڑی آن بان اور بے پناہ دلائل کے نتیجے میں وجود میں آنےوالا انتظامی کیڈر ایک بار پھر قصہ پارینہ بن جائے گا‘اسی طرح یہ اطلاعات بھی پریشان کن ہیں کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر نظر ثانی اور اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اعلان کے باوجود ہفتہ گزرنے کے باوجود اب تک نہ تواس کمیٹی کااعلامیہ اور نہ ہی اس کے ٹی اوآرز جاری ہوسکے ہیں جبکہ دوسری جانب یہ خبریں بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں کہ محکمہ صحت کی جانب سے ڈومیسائل کی بنیاد پر تبدیل کئے جانےوالے ڈاکٹروں کی تنخواہیں فوری طور پر روکنے کے احکامات متعلقہ دفاتر کوجاری کئے گئے ہیں جبکہ ڈاکٹروں کے تبادلوں کے بعد ہسپتالوں میں خالی آسامیاں بھی پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ ایک حتمی سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں جب ایک جانب حکومت ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے کے مجوزہ منصوبوں پرنظر ثانی کےلئے کمیٹی کے قیام کا علان کرچکی ہے اوردوسری جانب اسی پالیسی کے تحت تبادلوں اور تادیبی کاروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے لہٰذاایسی صورتحال میں طبی عملہ اپنے فرائض تمام تر مراعات اور سہولیات کے باوجود آخرکیونکربحسن وخوبی انجام دے سکے گایہ وہ سوال ہے جس کا جواب متعلقہ ذمہ داران کواپنے اصلاحاتی ایجنڈے پرعملدرآمد کے وقت ضرور پیش نظر رکھناچاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔