76

موروثی سیاست

 بھارت میں حالیہ انتخابات میںد و باتیں واضح ہو گئی ہیں‘ان میں سے ایک جمہوریت کیلئے خطرناک ہے جبکہ دوسری کو مثبت کہاجاسکتا ہے خطرناک بات یہ ہوئی کہ 90کروڑ ووٹروں کیساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ‘ جس کو مختلف المذاہب قوم ہونے کی بنےاد پر سیکولر کا درجہ دیاگیا تھا‘ ایک ہندو رےاست کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے‘اس سے وہاں کی اقلیتوں‘ بالخصوص مسلمانوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے اور یہ معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی کے غلبے کی علامت ہے‘ اس پر بھارت میں بھی سنجیدہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے‘ اگرچہ بی جے پی اور نریندر مودی نے ساری انتخابی مہم ہی ہندواور مسلم دشمنی پر چلائی مگر اب ان کو یہ تاثر ختم کرنے کیلئے بھی قدم اٹھانا ہونگے‘ جواچھی بات ہوئی ہے وہ بھارت کی سیاست میں وراثت کا خاتمہ ہے‘ بھارت کی سب سے قدیم اور بڑی پارٹی کانگریس پر نہرو خاندان کی اجارہ داری رہی‘ موتی لعل نہرو کے بعد جواہر لعل نہرو‘ اس کے بعد اکلوتی بیٹی اندرا گاندھی اور پھر اسکے بیٹے راجیو گاندھی نے کانگریس کی قیادت اور ملک کی وزارت عظمیٰ پر راج کیا‘اب اس خاندان کی پانچویں نسل راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کی شکل میں موجود ہے‘راجیو گاندھی کے بعد 2005ءسے لیکر 2014ءتک کانگریس کی حکومت رہی مگر وزیراعظم ایک سکھ معیشت دان منموہن سنگھ کو بنایاجاتا رہا البتہ کانگریس کی سربراہی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی نے اپنے پاس رکھی۔

 اس بار راہول گاندھی نے پہلی بار اپنے اجداد کی طرح کانگریس کی قیادت کرتے ہوئے الیکشن لڑا اور لوک سبھا میں صرف 54 نشستیں ہی جیت سکے‘بھارت کی تاریخ میں یہ کانگریس کی بدترین شکست ہے اور راہول گاندھی نے اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی صدارت سے بھی استعفیٰ دےدیا ہے‘اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مودی نے بھارت کے عوام اور بالخصوص ہندوﺅں کو سیاسی شخصیات کے رومانس سے نکال کر مذہب کے رومانس میں ڈال دیا ہے‘نہرو خاندان کو اندراگاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانی بھی کامیابی نہیں دلاسکی‘بہرحال یہ بھارت کا مسئلہ ہے‘ اگرچہ نئے حالات کے تناظر میں پاکستان بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا مگر ہمارے ہاں ابھی تک وراثتی سیاست عروج پر ہے اور مزید مضبوط ہو رہی ہے‘ پرانی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ‘ پیپلزپارٹی‘ اے این پی اور جے یو آئی میں نئی نسل قیادت سنبھالنے کیلئے تیار ہے‘ پیپلزپارٹی میں تو بھٹو کا نواسہ اور بینظیر کا بیٹا بلاول زرداری چیئرمین بن کر پارلیمنٹ میں پارٹی کی قیادت کررہا ہے جبکہ مسلم لیگ میں نوازشریف کی بیٹی مریم نواز بتدریج سیاست میں سرگرم ہے اور پہلی بار اس کو پارٹی میں نائب صدر کا عہدہ دیاگیا ہے‘مسلم لیگ پر آج بھی نواز شریف کا قبضہ ہے اور وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی قیادت کررہے ہیں‘انکے بعد مریم ہی بااثرلیڈر ہے اور تمام فیصلے اسکی خواہش پر ہی ہوتے ہیں۔

 ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ عوام کا کسی سیاسی شخصیت یاخاندان سے رومانس اپنی جگہ‘ پارٹیوں کی سینئر قیادت بھی نوعمر اور نوآموز بچوں کو قائد تسلیم کرنے اور ان کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونے کو ہی سیاست سمجھتی ہے‘ کسی کو بھی پارٹی میں جمہوریت لانے اور قیادت کو میرٹ پر لانے کا خیال تک نہیں آتا اور پارٹی میں تنظیمی عہدہ حاصل کرنے کیلئے خاندان کیساتھ وفاداری کا معیار ہی شرط ہوتا ہے‘ اس حوالے سے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتیں زیادہ جمہوری ہیں کیونکہ ان میں کسی خاندان کی اجارہ داری نہیں ہے‘ایم کیو ایم الطاف حسین کے اثر سے نکل کر اب ایک سیاسی جماعت بننے کی تگ ودو میں ہے اور کراچی میں اپنا تشخص بحال کررہی ہے‘اگر انصاف سے دیکھاجائے توسیاست کیلئے چند خاندانوں کی اجارہ داری بہت سے خرافات کا باعث ہے اور اس میں سے بڑی بدعنوانی اور میرٹ کا خاتمہ ہے‘ صرف دو برائیوں سے پورا انتظامی ڈھانچہ کمزور ہوجاتا ہے اور ملک میں انارکی پھیلتی ہے‘اس سے نکلنے کیلئے شعور اجاگر ہورہاہے اور ایک دو انتخابات میں اس سے نجات ملنے کی توقع رکھی جاسکتی ہے‘ویسے بھی سیاسی خاندان اسوقت سیاست سے زیادہ اپنی دولت بچانے کی جدوجہد میں لگے ہیں اور عوام ان سے دور ہوتے جارہے ہےں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔