44

یوم القدس

 ”سنا ہے میں نے غلامی کی اُمتوں سے نجات .... خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے!“ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے غلامی سے نجات کےلئے جو 2 بنیادی اصول تلقین فرمائے‘ ان میں خودی کی پرورش اور لذت نمود جیسے اہداف حاصل کرنے کا سنہرا موقع یوم القدس ہے جو ہر سال ماہ¿ رمضان المبارک کے آخری جمعہ منایا جاتا ہے‘ یہ دن فلسطینی مسلمانوں کےساتھ اظہار یک جہتی کا استعارہ ہے جو انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے چند ہی ماہ بعد 13رمضان المبارک 1399 ہجری بانی انقلاب امام خمینیؒ کی طرف سے تجویز کیا گیا۔ تب سے قریب چالیس برس کے دوران یوم القدس پوری مسلم دنیا اور جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں‘ باقاعدگی و پورے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے‘پاکستان کے طول و عرض میں اس دن کی مناسبت سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد فلسطین پر اسرائیلی قبضے کےخلاف احتجاجی مظاہرے کئے جاتے ہیں‘ جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی کثیر تعداد حصہ لیتی ہے۔ بنیادی طور پر یوم القدس مسلم امہ کی بیداری اور اسلام دشمن قوتوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اجاگر کرنے سے متعلق ہے اور یہ دن صرف بیت المقدس یا فلسطین سرزمین کے قبضے پر احتجاج کی حد تک محدود نہیں رہا بلکہ اپنے پیرایئے اور اظہار میں کثیرالجہتی تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ سات اگست 1979ءکو یوم قدس کے موقع پر اِمام خمینیؒ کے پیغام پر آج بھی پوری دنیا سے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

 انسانیت اور بالخصوص مسلم امہ کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ”میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ غاصب اسرائیل اور اسکی حمایت کرنےوالی مغربی طاقتوں کے قائدامریکہ کے عزائم خاک میں ملانے کےلئے متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ جو ایام قدرمیں سے بھی ہے‘ فلسطینی عوام اور بالخصوص مسلمانوں کی تقدیر واضح کرنے کا دن بھی بن سکتا ہے‘ جسے یوم القدس کے طور پر منایا جائے۔“ 80 اسلامی اور ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں منائے جانےوالے اس دن کے مقاصد و اہداف متعین ہیں‘ جن میں مظلوموں کی حمایت‘ ظالموں کےخلاف صف آرائی‘ دنیا کے جغرافیائی نقشے سے فلسطین کا نام ختم کرنے کی سازش کا مقابلہ‘ فلسطینی مسلمانوں پر مظالم کی مذمت اور یہ امت مسلمہ کی رگوں میں خون پھونکنے کا دن ہے۔اسلامی نکتہ نگاہ سے مسجد الاقصیٰ غیرمعمولی قدر و قیمت کی حامل ہے‘ جو اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہ مقدس سر زمین انبیاءکی جائے سکونت اور ان کی بعثت کی جگہ‘مسلمانوں کا قبلہ اور پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آسمانی معراج کی جانب جانے کی جگہ ہے۔ قدس شریف عمر بن عاص بن وائل نے صدر اسلام میں فتح کیا اور صلاح الدین ایوبی نے 1187ہجری میں اسے عیسائیوں کے چنگل سے آزاد کروایا تھا۔ سلیمان قانونی نے سولہویں صدی میں اسکی دیواریں تعمیر کیں‘ 1967ءمیں اسرائیل نے قدس شریف کو دائمی پایہ¿ تخت قرار دیا‘ جسکے بعد سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے دل اس پر ٹکے ہوئے ہیں‘۔

یوم قدس مختلف زاوئیوں سے اہمیت کا حامل ہے‘ منجملہ یہ کہ اس سے غاصب اسرائیلی حکومت کے ناجائز وجود کی عالمی سطح پر مخالفت ہوتی ہے۔یہی یوم قدس صہیونی حکومت پر دباو¿ کی علامت بھی ہے۔ عالمی یوم قدس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے امت اسلام کے درمیان ایک طرح کا اتحاد و اتفاق پیدا ہوا ہے‘ جو اپنی جگہ غنیمت ہے۔ اس سلسلے میں یہ توضیح ضروری ہے کہ صہیونیت کی شروع دن سے کوشش تھی کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس جنگ کو عربوں اور اسرائیل کے درمیان قومی تنازعے میں تبدیل کر دے لیکن امام خمینیؒ اس سازش کو بروقت بھانپ گئے اور فلسطین کی آزادی کو اسلامی ہدف میں تبدیل کر دیا‘ یہی وجہ ہے کہ مغرب اور صہیونی حکومت کی سازش کو ناکام کرنا اور مسلمانوں پر معنوی اثرات یوم القدس کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ نمایاں اور بڑھا دیتے ہیں۔ یوم القدس اس مرتبہ نہایت ہی مختلف عالمی سیاسی حالات میں منایا جا رہا ہے‘ جب امریکہ ایران پر حملہ کرنے کی علی الاعلان دھمکی دے چکا ہے اور اس نے ایران کی سرحدوں سے قریب اپنے جنگی بحری بیڑے پہنچا دیئے ہیں جبکہ زمینی راستوں سے بھی ایران میں داخل ہونے کی جنگی حکمت عملی بنائے ہوئے ہے۔ دراصل ایران کی جوہری صلاحیت اور عزائم کی وجہ سے غاصب اسرائیل اور اسکی سفارتی‘ سیاسی‘ مالی و دفاعی حمایت کرنے والے امریکہ و دیگر مغربی ممالک کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں‘ جنہیں یوم القدس کی صورت مسلم امہ کا اتحاد عملاً ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور یہ دن وحدت امت اسلامی کا شاندار مظہر بن چکا ہے! شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فلسطین کی سرزمین پر جاری کھیل کے درپردہ استعماری عزائم کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جسے انہوں نے عالم اسلام کےلئے ازحد خطرناک بھی قرار دےا۔ ”ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق .... ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا .... مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور .... قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔