45

جنٹلمین گیم

کسی زمانے میں کرکٹ کو جنٹلمےن گیم یعنی شرفاءکا کھیل کہاجاتا‘اب اکثر لوگ ایسا کہنے سے کتراتے ہیں یا دو بار سوچتے ہیں‘ 1970ءکے وسط میں جب ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کو شروع کرنے کی بات چلی تھی تو کرکٹ کے کئی نامور پرانے کھلاڑیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کم دورانیے کے کرکٹ میچوں سے نہ صرف یہ کہ کرکٹ کے کھیل کی ہیئت بدل جائے گی ‘یہ کرپشن کو بھی جنم دے گی اسوقت تویارلوگوں نے ان خدشات کو درخور اعتنانہ سمجھا پر وقت نے ثابت کر دکھایا کہ یہ خدشات کچھ زیادہ غلط نہ تھے کیونکہ ہم نے دیکھا کہ تقریباً ہر کرکٹ کھیلنے والے ملک کے کھلاڑیوں نے سٹہ بازوں کےساتھ بھاری رقوم کے عوض میچ فکسنگ بھی کی اور سپاٹ فکسنگ بھی‘ اور بے دریغ روپےہ کمایا ان میں کئی تو قانون کی گرفت سے صاف صاف بچ نکلے پر جو قانون کے شکنجے میں آئے تو ان پر بھاری جرمانہ بھی ہوا اور قید بھی کاٹی ان میں کئی کو توعمر بھر کیلئے کرکٹ کھیلنے سے روک دیاگیا اور کئی پر کچھ خاص عرصے تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائی گئی سب سے بڑی بات یہ کہ وہ خود بھی رسوا ہوئے اور ان کی وجہ سے انکے ملک کو بھی ندامت اٹھانا پڑی‘ایک دور تھا کہ دنیا میں چند ممالک کے لوگ کرکٹ کھیلتے اور بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کےخلاف سال دو سال بعد ٹورنامنٹ کھیلتے‘اب تو کرکٹ موسم کی قید سے آزاد ہے گرمیوں میں یار لوگ رات کے وقت میچوں کا میلہ سجاتے ہیں۔

 جس کام میں ایک مرتبہ کمرشل ازم آجائے اس میں پیسے کی ریل پیل لامحالا آجاتی ہے اورجہاں پیسوں کا کاروبار ہوگا وہاں مالی بدعنوانیوں کے کئی دروازے بھی خواہ مخواہ کھلیں گے کرکٹ کےساتھ بھی یہی کچھ ہواہے ایک دور تھا کہ دنیائے کرکٹ میں صرف نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا‘ انگلستان اور ویسٹ انڈیز کاطوطی بولتا تھا دوسرا کوئی ملک توکسی شمار میں ہی نہ تھا‘دنیائے کرکٹ کا مقبول ترین ٹورنامنٹ آسٹریلیا اور انگلستان کے بعد ہر دوسرے سال ہوتا جواب بھی ہو رہا ہے اور جس کو ایشز کہا جاتا ہے آج بات بہت آگے تک جاچکی ہے‘ مندرجہ بالا ممالک کے علاوہ اب بھارت‘پاکستان‘سری لنکا‘ افغانستان‘ زمبابوے‘ زےمبیا‘ آئرلینڈ‘ سکاٹ لینڈ‘ کینیا‘ بنگلہ دیش‘ جنوبی افریقہ اور عرب امارات کی ٹیمیں بھی کرکٹ کے میدان میں کود پڑی ہیں اور اب کرکٹ پر انگلستان‘ آسٹریلیا یاویسٹ انڈیز کی اجارہ داری بالکل نہیں رہی‘ جس وقت ون ڈے کرکٹ کا چلن عام کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو اس کا جواز یہ دیاگیا تھا کہ چونکہ ٹیسٹ میچوں میں پانچ دن کھیلنے کے بعد بھی رزلٹ نہیں آتا اور اکثر میچ برابرہوجاتے ہیں اسلئے وہ بوریت کا باعث بن رہے ہیں اور کرکٹ میں جان پیدا کرنے اور تماشائیوں کو کرکٹ سٹیڈیم کی طرف کھینچنے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے ۔

حالانکہ یہ جواز لغو ہے آج بھی اگر گراﺅنڈزمین سپورٹنگ قسم کی پچزتیار کریں کہ جو باﺅلرز اور بلے بازوں دونوں کو یکساں فائدہ پہنچائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پانچ دنوں کے اندر ٹیسٹ میچوں کے رزلٹ نہ آئیں ‘یہ لمبی تمہید ہمیں اسلئے باندھنی پڑی کہ آج کل انگلستان مےں کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا جا رہا ہے کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہی ٹیم جیتتی ہے جو کسی دن بہتر کھیل جائے اگر ٹریک ریکارڈ کے حساب سے دیکھا جائے تو انگلستان اور بھارت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی ملک 2019ءکا ورلڈ کپ جیتے گا پر اگر پاکستان اور نیوزی لینڈ نے اچھی کارکردگی دکھائی تو ان دونوں ممالک کی ٹیموں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔