69

او آئی سی سر براہ اجلاس

سعودی عرب میں اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کا غیر معمولی اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ پر ایک اور جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں‘ شاہ سلمان کی طرف سے او آئی سی اور عرب خلیج کونسل کے سربراہ اجلاس بلانے کا مقصد نئے خطرات سے آگاہی اور اسکے تدارک کیلئے اقدامات سوچنا ہے‘ شاہ سلمان نے اس موقع پر بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطر کی قیادت کو بھی اس اہم کانفرنس کی دعوت دےدی ہے اور قطر ی وزیر خارجہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں کسی قطری جہاز کی سعودی عرب میں دو سال بعد یہ پہلی پرواز ہے‘ دوسال قبل سعودی عرب اور خلیج کونسل کے دیگر عرب ممالک نے ایران سے تعلقات اور مبینہ طورپر دہشت گرد تنظیموں کی امداد کی شکایات پر قطر کا بائیکاٹ کردیا تھا اب امید ہے وہ اس اہم عرب ریاست کے دیگر ریاستوں کےساتھ تعلقات معمول پر آجائیں گے‘کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی جدہ جاچکے ہیں وزیراعظم عمران خان بھی آج پہنچ جائیں گے جہاں وہ پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرینگے عام طورپر یہ کہا جارہا ہے کہ یہ کانفرنس خطے کے ممالک کو لاحق خطرات کے سدباب کیلئے بلائی گئی ہے‘ ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کےساتھ تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے شاہ ایران کے زمانے میں بھی عرب بادشاہوں کےساتھ مراسم قائم نہیں ہو سکے‘عرب ریاستوں کا الزام ہے کہ ایران ان ریاستوں میں لوگوں کو مسلح کر رہا ہے کچھ عرصہ قبل بحرین میں حکومت کااےک کمیونٹی کےساتھ ٹکراﺅ ہوا تھا اس وقت بھی بحرین نے سعودی عرب سے امداد طلب کی تھی اور سعودی فوج نے آکر اس شورش پر قابو پایا تھا اسکے بعد یمن میں حوثی باغیوں نے حکومت کےخلاف مسلح جدوجہد شروع کردی اور سرکاری فوج کو پیچھے دھکیل کر کئی شہروں پر قبضہ کرلیا یمن کی آئینی حکومت نے الزام لگایاکہ حوثی باغیوں کی ایران مدد کررہا ہے۔

 اس صورتحال میں بھی سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فوجیں یمن میں داخل ہوئیں اور گزشتہ چارسال سے وہاںخانہ جنگی کی کیفیت ہے ‘اتحادی فوج نے فضائیہ کی مدد سے دارالحکومت صنعا سمیت کئی شہروں کو حوثی باغیوں سے خالی کرالیا ہے مگر اب بھی یہ جنگ جاری ہے اس موقع پر پاکستان نے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتے ہوئے یمن میں فوج بھیجنے سے معذرت کرلی تھی لیکن سعودی عرب کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کسی طرف سے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو اس کا دفاع کرینگے‘ اب صورتحال یہ ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کئی بار میزائل حملے کئے گئے اگرچہ ان میں سے اکثر سعودی دفاعی نظام کے تحت فضا میں ہی تباہ کردیئے گئے لیکن کئی زمین پر بھی گرے ہیں‘ اسی طرح ایک لحاظ سے اب سعودی عرب کو دفاع کی ضرورت ہے‘الزام ہے کہ حوثیوں کے پاس میزائل ایران کے تیار کردہ ہیں اسلئے یمن میں باغیوں کا ہتھیارنہ ڈالنا اور سعودی عرب پر حملے کرنا بھی دراصل ایران کی مدد سے ہی سمجھا جارہا ہے‘ ظاہر ہے یہ صورتحال کسی کیلئے قابل قبول نہیں اسی دوران مئی کے شروع میں گلف میں موجود سعودی عرب اور امارات کے تیل بردار جہازوں پرحملہ بھی ہوتا ہے جس سے ان جہازوں کو نقصان پہنچا اگرچہ ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔

مگر سعودی عرب اور امریکہ کا بھی الزام ہے کہ یہ حملے ایرانی مدد سے حوثیوں نے ہی کئے ہیں‘ اسوقت صورتحال مشکل نظر آرہی ہے امریکہ کے بحری بیڑے خلیج فارس میں پہنچ چکے ہیں اور ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ دنیا ایران اور امریکہ کی لڑائی کو عالمی امن کیلئے بہت بڑا خطرہ سمجھ کر اسکو روکنے کیلئے کوشاں ہے‘ یہ کہا جارہا ہے کہ اگر کسی اشتعال انگیز واقعہ پر یہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو ایران امریکی جہازوں کےساتھ اسکے اتحادی عرب ممالک اور اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کر سکتا ہے‘ اسکی حمایت میں لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی بھی متحرک ہو جائینگے جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بھی رک جائیگی اس طرح اس ممکنہ جنگ سے ساری دنیا متاثر ہوگی‘ سعودی عرب میں ہونیوالی غیر معمولی اسلامی کانفرنس میں اسی بات پر غور ہوگا ‘یہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا دانشمندانہ فیصلہ ہے کہ اسلامی دنیا اور خطے کے عرب ممالک کےساتھ ملکر کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس سے جنگ بھی نہ ہو اور لاحق خطرات کا تدارک بھی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔