143

محبت کی ضرورت

ایک مسافر گھڑ سوار نے جاتے ہوئے ایک شخص سے پوچھا ”بھئی !آبادی یہاں سے کتنی دور ہے؟ ‘ اس شخص نے جواب دیا ’آپ اپنے دائیں طرف دیکھیں ‘وہ سامنے آبادی نظر آرہی ہے‘ گھڑ سوار نے ادھر دیکھا تو اسے ایک وسیع و عریض قبرستان دکھائی دیااس نے سوچا یہ شخص یا تو دیوانہ ہے یا کوئی مردِ درویش۔اس نے دوبارہ سوال کیا ’بھائی میں نے آبادی کا پوچھا ہے اور تم مجھے قبرستان کا راستہ بتا رہے ہو؟یہ بھلا کیا بات ہوئی؟وہ شخص بولا ’ یہ اسلئے کہ میں نے دیگر تمام مقامات سے لوگوں کو یہاں آتے دیکھا ہے مگر یہاں سے واپس جاتے کسی کو نہیں دیکھا اور آبادی کہتے ہی اس جگہ کو ہیں جہاں دور دور سے لوگ آئیں او وہاں سے پھر ویرانے کی طرف نہ جائیں میرا خیال ہے کہ حقیقی معنوں میں آبادی یہی ہے ‘ اس تمثیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے ایک روز اپنے شاندار مکانات ‘محلے اور شہروں کو چھوڑ کر ہمیں گورستان کا سفر کرنا پڑتا ہے۔اصل آبادی یہی تو ہے جہاں آہستہ آہستہ سب لوگ جمع ہورہے ہیں سیانے کہتے ہیں کہ ہفتے میں ایک دو بار قبرستان کا وزٹ ضرور کیاجائے تاکہ انسان کواپناآخری ٹھکانہ ہمیشہ یاد رہے وہ عبرت حاصل کرے کہ دنیا میں بڑے بڑے ناگزیر لوگ بھی یہیں پیوند خاک ہوئے اور ایسے لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں‘ موت ایک ایسی لگام ہے جو منہ زور نفس کو قابو میں رکھتی ہے بشرطیکہ اِسکا احساس ہمارے من میں روشن ہو جائے اگر موت کو ہر وقت نگاہوں میں رکھا جائے تو کوئی بھی شخص صراط مستقیم سے کبھی نہ بھٹکے۔ لیکن ہم تو ’انھے وا‘ زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں اور اپنے شب و روز پر نگاہ نہیں رکھتے سو اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں ہم تو صبح سے شام تک اپنی اڑھائی انچ کی زبان سے اکثر پانچ چھ فٹے انسان کو زخم زخم کرتے ہیں۔

ہمیں اپنی آواز سنائی نہیں دیتی کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کسی کے دل پر ہمارے الفاظ کیسے گھاﺅ لگاتے جارہے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ دن بھر اپنی زبان سے ہم کتنے لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں؟ نجات اور بخشش اپنی زبان کو قابو رکھنے میں ہے ‘زبان کا گھاﺅکبھی نہیں بھرتا‘ ایک مرتبہ حضرت حکیم لقمان کے مالک نے انہیں ایک بکری دےکر حکم دیا کہ اسے ذبح کر کے اس کے گوشت کا وہ حصہ لاﺅ جو سب سے بہتر ہے۔ چنانچہ آپ نے بکری کو ذبح کیا اور اسکا دل اور زبان نکال کر مالک کے سامنے پیش کر دی‘دوسرے روز مالک نے انہیںایک اور بکری دی اور کہا اس کو ذبح کر کے، اس کے گوشت کا وہ حصہ لاﺅ جو سب سے خراب ہے۔آپ نے بکری کو ذبح کیااور اس کا دل اور زبان نکال کر مالک کے سامنے رکھ دےئے۔مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا کیا بکری کے یہ اجزا بیک وقت اچھے اور برے ہو سکتے ہیںیہ کیسے ممکن ہے ؟لقمان نے جواب دیا ”زبان و دل دونوں ہی بہترین چیزیں ہےں بشرطیکہ اسکی ذات میں بھلائی اور شرافت ہو اور یہی دونوں چیزیں بد تر ہیں اگر اسکی ذات میں بھلائی اور شرافت نہ ہو۔ہمارا معاشرہ جس دور سے گزر رہا ہے‘ہمیں اپنی زبان و دل کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے‘اگر دلوں میں خواہشوں کے انبار ہےںتو یہی خواہشیں ہمیں حرص ‘ہوس ‘تکبر اور زوال کی طرف لے جاسکتی ہےں۔

 جبکہ زبان سے ہمارے اخلاق اور شخصیت و کردار پر گہرے اثرات مرتب ہو تے ہیں محبت دنیا کی طاقتور چیز ہے‘جب ہم دوسروں سے محبت کرتے ہیں تو ہم بنیادی انسانی فطرت کو پورا کرتے ہیں‘دنیا کے تمام مذاہب‘ سخاوت اور دوسروں کی مدد کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا دین بھی پرزور تاکید کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی مدد کریں اور لوگوں میں محبت اور خوشیاں تقسیم کریں‘محبت ذہنی دباﺅ کم کرتی ہے‘آپکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے اور دوسروں کےساتھ رشتوں کو مضبوط کرتی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپکو سمجھا جائے۔تبھی ہم ایک اچھے انسان بن سکتے ہیں‘کہا جاتا ہے کہ کسی کے ذہنی سکون کے معیار کا اسوقت پتہ چلتا ہے جب وہ غصے میں ہوتا ہے غصہ اکثر انسان کے جذبات کو بھڑکا دیتا ہے اور بعد میں اپنے برے ترین نشانات ‘خوف‘ غم اور پچھتاوا چھوڑ جاتا ہے‘اگر آپ ذہنی سکون میں ہونگے تو آپ اپنے غصے پر قابو پاکر دوسروں سے محبت کرنا سیکھیں گے۔کبھی اپنے غصے کا دفاع نہ کیجئے بلکہ اس پر قابو پانا سیکھئے وگرنہ آپ ہمیشہ غم زدہ رہےں گے‘ہمیشہ اچھے پہلوپر نظر رکھیں دوسروںکی غلطیوں‘ کوتاہیوں کو نظر انداز کریں بلکہ ہمیشہ معاف کرنے کی عادت اپنائیں‘محبت لینے اور محبت دینے کیلئے بہت کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں ہم بہت مصروف ہیں ےاد رکھئے‘ اپنی اصلاح ہمیں خود کرنی پڑےگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔