67

کرکٹ:ہار سے آگے جیت

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا نقطہ عروج دوسال قبل چیمپینز ٹرافی مقابلوں کی جیت کو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے بعد سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کے فقدان نے اسے ون ڈے کی عالمی رینکنگ میں کبھی بھی اس بلند مقام پر نہیں رکھا جسے دیکھ کر ٹیم گرین کے شائقین کا دل مطمئن ہوسکتا۔ چیمپینز ٹرافی کے بعد سے پاکستانی ٹیم نے 38ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے‘ جن میں سے اس نے 15جیتے اور 21میں ملنے والی شکست کو کمال مہارت سے برداشت کیا جبکہ مذکورہ عرصے میں کھیلے گئے 2میچز نامکمل رہے‘ اس عرصے میں پاکستانی ٹیم نے سات ون ڈے سیریز بھی کھیلیں‘ جن میں سے وہ صرف سری لنکا اور زمبابوے کےخلاف کامیاب ہوئی اور پانچ سیریز میں اسے شکست ہوئی‘ایشیاءکپ اس کے علاوہ ہے‘ جس میں ٹیم گرین صرف ہانگ کانگ اور افغانستان کو ہرانے میں کامیاب ہوسکی تھی اور بھارت کےساتھ بنگلہ دیش نے بھی اسے شکست کا داغ دیا!بہرحال پاکستانی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کی تصویر اس طرح بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس نے ورلڈ کپ سے قبل آخری تین سیریز جنوبی افریقہ‘ آسٹریلیا اور انگلینڈ کےخلاف ہاری ہیں اور پھر بھی امید ہے کہ ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی دکھائے گی! جاری ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم بیٹنگ میں اپنے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے جن میں فخرزمان‘ امام الحق‘ بابراعظم اور حارث سہیل شامل ہیں۔ فخرزمان جم جائیں تو مخالف ٹیم کے بولرز کےلئے ڈراو¿نا خواب بن جاتے ہیں۔

 لیکن اگر کارکردگی نہ دکھا سکیں تو پاکستانی ٹیم کی مایوسی بڑھ جاتی ہے‘ امام الحق نے پہلے ون ڈے کی سنچری کے بعد سے اپنی عمدہ فارم کو کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھا ہوا ہے وہ اس سال پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانےوالے بیٹسمین بھی ہیں‘بابراعظم ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی نظر میں پاکستان کے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین ہیں۔ وہ اس سال ون ڈے میچوں میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں بناچکے ہیں‘ جو کافی نہیں۔ کپتان سرفرازاحمد کا اوپر کے نمبر پر کھیلنے کا فیصلہ ٹیم کےلئے کارآمد ثابت ہوسکتا ہے جسکی جھلک انہوں نے برطانیہ کےخلاف آخری ون ڈے میں ستانوے کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر دکھائی ہے‘ اننگز کے آخری حصے میں عماد وسیم اور آصف کی جارحانہ بیٹنگ کی پاکستانی ٹیم کو اشد ضرورت رہے گی‘ بولنگ کے شعبے میں تجربہ کار عامر اور وہاب ریاض کی آمد نے پاکستانی ٹیم کی امیدوں کو پھر سے زندہ کردیا ہے جو برطانیہ کےخلاف سیریز کے دوران دم توڑگئی تھیں تاہم حسن علی کا وکٹیں نہ لینا اس وقت ایک بڑا مسئلہ ہے!لیگ سپنر شاداب خان کی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد واپسی بھی پاکستانی ٹیم کے حوصلے بڑھانے کا سبب بنی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے حالیہ میچوں میں بولنگ کےساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی سب کو مایوس کیا ہے۔ہاتھ آئے کیچزکو ٹھکرانے کی عادت نے حریف بیٹسمینوں کی قسمت ہی پلٹ دی ہے‘ بہرحال پاکستان متحد ہو کر کھیلے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن تجربے کی بنیاد پر دیئے جانے والے مشوروں کوسنا ان سنا نہیں کرنا چاہئے۔

 اسے کرکٹ کی بدقسمتی کہئے یا سیاست کی خوش قسمتی کہ عمران خان اب کرکٹ کے بارے بالکل بات نہیں کرتے۔ کہیں نہ کہیں یہ بھی وجہ رہی کہ مخالفین انہیں آج تک محض ایک کرکٹر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جو کبھی اچھا سیاستدان نہیں بن سکتا لیکن اس کے باوجود جہاں کہیں عمران خان کرکٹ پہ کچھ بات کرتے ہیں تو ہر کوئی متوجہ ہو جاتا ہے۔ ورلڈ کپ 2015ءکے کوارٹر فائنل سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ یونس خان اور یاسر شاہ کو لازمی کھلائیں اور ہر میچ کھلائیں‘حسن اتفاق دیکھئے کہ یہاں بھی جو میچ ہار کر پاکستان باہر ہوا‘ اس میں یہ دونوں نہیں تھے‘عین ممکن ہے کہ ان دونوں کی موجودگی سے بھی کوئی فرق نہ پڑتا مگر یہ تو ماننا پڑے گا کہ کرکٹ میں جس نے عمران خان کا مشورہ ٹھکرایا‘ وہ مایوس ہو کر گھر کو واپس آیا اب عمران خان ایسے عہدے پہ براجمان اور مصروفیات کے ایسے حصار میں ہیں کہ اگر پاکستان فائنل میں پہنچ بھی گیا تو کوئی ان کا تجزیہ نہیں سن پائے گا کہ کس کو ون ڈاو¿ن بھیجنا چاہئے اور کس کو لازمی کھلانا چاہتے ہیں لیکن بھلا یہ ہوا ہے کہ سرفراز برطانیہ روانگی سے قبل کچھ بالمشافہ مشورے ساتھ لے گئے ہیں‘ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان مشوروں پر کتنا عمل کرتے ہیں‘ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ اگر سرفراز عمران خان بن گئے ہیں تو کیا وہ ماڈرن کرکٹ بھی وہی جواب دے گی جو ستائیس برس قبل کی ون ڈے کرکٹ نے دیا تھا کیونکہ ورلڈ کپ آج بھی ویسا ہی ہے‘ کھیل کے قواعد و ضوابط بھی وہی ہے اور اس مرتبہ بھی پاکستان کی جیت کے امکانات بھی بالکل ویسے ہی جیسا کہ 1992ءکے ورلڈ کپ کے شروع ہوتے وقت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔