89

سکول صحت پروگرام

ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں مختلف جسمانی عوارض کے شکار 37 ہزار سے زائد بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے‘اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بچے سوات کے سکولوں میں جبکہ دیرپائیں‘ صوابی اور پشاور کے سرکاری سکولوں میں بھی مختلف مسائل کے شکار بچوں کی تعداد دیگر اضلاع سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے ‘خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی کیفیت سے متعلق کئے گئے ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں37ہزار15بچے قوت گویائی‘ بصارت‘ سماعت‘ ہاتھ وپیر میں لنگڑاہٹ اور ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے دوچارہیں‘ مذکورہ بچے عام اور جزوی طور پر ان مسائل میں مبتلا ہیں سب سے زیادہ 3ہزار3سو72بچے سوات کے سکولوں میں مختلف امراض کے شکار ہیں جبکہ صوابی میں26سو سے زائد‘ دیر پائیں میں 27 سو سے زائد‘ایبٹ آباد میں1939 اور پشاور میں 23سو سے زائد ایسے بچے ہیں جنہیں مختلف جسمانی امراض کا سامنا ہے۔ محکمہ ابتدائی وثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم سے معلوم ہواہے کہ مانسہرہ میں21سو سے زائد‘ دیر بالا میں18سو سے زائد جبکہ ملاکنڈ میں13سو سے زائد ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مختلف جسمانی ونفسیاتی عوارض سے دوچار ہیں‘یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہرقوم اور ملک اپنی آئندہ نسلوں کی تعلیم تربیت کےساتھ ساتھ ان کی جسمانی اورذہنی صحت کو خصوصی توجہ اور اہمیت دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں مختلف امراض کی بھرمار کےساتھ ساتھ ماں اور بچوں کی صحت پر چونکہ کوئی زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اسلئے ہمارے ہاں نہ صرف دوران زچگی خواتین کی شرح اموات اکثر ترقی پذیرممالک سے زیادہ ہے بلکہ ہمارے ہاں مختلف بیماریوں کی وجہ سے نومولود بچوں کےساتھ ساتھ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات بھی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔اسی طرح درکارسہولیات کی عدم دستیابی کےساتھ ساتھ تعلیم کی کمی نیزوالدین کی عدم توجہی اور تعلیمی اداروں میں کوئی میکنزم نہ ہونے کے سبب ہمارے اکثر بچے اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں مختلف چھوٹی بڑی بیماریوں میں مبتلاہو کربروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کے باعث بعدازاں بڑے ہونے پر کئی پیچیدہ امراض کے شکار ہو کر نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لئے بوجھ بن جاتے ہیں بلکہ یہ لوگ معاشرے کےلئے مسائل اور بوجھ کا سبب بنتے ہیں‘پاکستان کے برعکس اکثر ممالک کے تعلیمی اداروں میں ابتدائی عمر کے بچوں کی صحت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اس مقصد کےلئے پرائمری سکولوں میں بچوں کی سکریننگ اور ان کو درپیش مختلف امراض کی نشاندہی کےلئے ان امراض کی تشخیص اور علاج کا ایک جامع نظام نافذ ہے‘میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اہم مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے چین میں سکولوں کے بچوں کا طبی معائنہ کرنے کےلئے حال ہی میں ایک خاص روبوٹ بنایا گیا ہے جو صرف تین سیکنڈ میں بچوں کی آنکھوں‘ زبان‘ چہرے‘ ہاتھ اور پیروں کا معائنہ کرکے کسی ممکنہ مرض سے خبردار کردیتا ہے۔

 کمرہ جماعت میں داخل ہونے سے قبل ہر بچہ اس روبوٹ کے سامنے جاکھڑاہوتا ہے اور اپنا معائنہ کراتا ہے‘یہ روبوٹ چند سیکنڈوں میں بچے کے حلق‘ آنکھ‘ چہرے‘ ہاتھ اور پا¶ں کا معائنہ کرتا ہے۔جیسے ہی یہ کسی مرض کی علامت دیکھتا ہے یہ فوری طور پر پاس ہی موجود انسانی نرس کو خبردار کردیتا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس روبوٹ اور اسکی کارکردگی پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کر رہے ہےں‘اس روبوٹ میں جدید کیمرہ اور تھرمامیٹربھی نصب ہے جو بخار اور دیگر امراض کوبھی نوٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘اس روبوٹ کا مقصد ڈاکٹر یا تربیت یافتہ سٹاف کم ہونے کی صورت میں مرض کی موجودگی کے شک کو ظاہر کرنا اور اس سے ڈاکٹروں کو آگاہ کرناہے‘ماہرین نے اس روبوٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسی آبادی کےلئے ایک اہم ایجاد ہے جہاں تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی ہوتی ہے ایسے روبوٹ سے کسی جگہ مرض کے پھیلنے اور وبا کے پھوٹنے پر بھی نظر رکھی جاسکتی ہے۔

اس روبوٹ کی قیمت 8 سے 10 لاکھ پاکستانی روپے کے برابر ہے اور اس کا قد 100 سینٹی میٹر کے لگ بھگ ہے‘ روبوٹ اپنا ڈیٹاآن لائن مجاز اداروں اور ڈاکٹروں تک بھیج سکتا ہے‘اس کی خاص بات یہ ہے کہ روبوٹ کے سافٹ ویئر میں مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر ہے جو علامات کا بغور جائزہ لےکر اپنا فیصلہ سناتا ہے اور یوں کسی بیماری کے پھیلا¶ پر بھی نظر رکھتا ہے‘اس روبوٹ سے فی الحال پاکستان جیسے پسماندہ اور بے پناہ مسائل سے دوچار ملک میں استفادہ تو خام خیالی ہوگی البتہ اس تجربے سے یہ نتیجہ اخذکرنامشکل نہیں ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے اپنی آئندہ نسلوں کی صحت کے حوالے سے کتنے سنجیدہ اور حساس ہیں لہٰذا اگر ہم بھی اپنی نئی نسل کو صحتمند دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کےلئے ہمیں بھی سکولوں کی سطح پر صحت کا کوئی معقول اور قابل عمل نظام رائج کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔