50

پشاور:ماضی‘ حال اور مستقبل

 تحریک انصاف کی پشاور سے محبت کسی اضافی تعارف کی محتاج نہیں‘ جسے کئی ایک مثالوں سے بیان کیا جا سکتا ہے تاہم چونکہ محبت اندھی اور اس کا اظہار جنون کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے‘ اس لئے عمل کو نہیں بلکہ نیت کو دیکھا جائے گا‘ اس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے جانئے کہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر آثار قدیمہ کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے پشاور کے دورے میں ان سبھی تاریخی مقامات کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جس کی مفصل رپورٹ عنقریب وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور پھر ان سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور کے تاریخی و ثقافتی اہمیت کے حامل اثاثوں کی بحالی کی جائے گی۔ بنیادی ہدف سیاحت کا فروغ ہے‘ جس کےلئے پشاور کے کم سے کم 20 ایسے مقامات کی پہلے ہی سے نشاندہی موجود ہے لیکن مالی وسائل کی کمی کے باعث انہیں خاطرخواہ ترقی نہیں دی جا سکی ہے۔ وفاقی حکومت اگر واقعی فکرمند ہے اور چاہتی ہے کہ پشاور کے آثار قدیمہ کو محفوظ اور اصل حالت میں بحال کیا جائے‘ تو اس کےلئے فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ ہر دن کوئی نہ کوئی اثاثہ آخری ہچکی لے رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی نقش ہمیشہ کےلئے مٹ رہا ہے اور بالخصوص پشاور کی وہ تاریخی عمارتیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سے نسبت کی وجہ سے خاص ہیں‘ ان سے متعلق بھی الگ سے حکمت عملی مرتب ہونی چاہئے۔

 فصیل شہر کے باقی ماندہ حصوں اور اسکے 16دروازوں کواشتہارات کے ڈسپلے تک محدود نہ سمجھتے ہوئے اصل حالت میں بحال کرتے ہوئے اگر پشاور سے تجاوزات کا خاتمہ کر دیا جائے تو سیاحتی کشش میں بے پناہ اِضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات سنتے سنتے کان پک گئے ہیں کہ پشاور جنوب مشرق ایشیاءکا تاریخی زندہ شہر ہے‘ لیکن کیا اس شہر کے ہر باسی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے؟کیا پشاور سے ہر روز وہ تمام کوڑا کرکٹ اٹھا کر تلف کر دیا جاتا ہے‘ جو یہاں کی 92 یونین کونسلوں میں جمع ہو رہا ہے؟ کیا پشاور شہر اور اس کے مضافات میں تعمیر ہونےوالی نئی و پرانی بستیوں میں نکاسی آب کا نظام فعال ہے؟ اگر نہیں تو آثار قدیمہ کی حفاظت و بحالی کےساتھ ترجیح موجود پشاور بھی ہونا چاہئے‘ جہاں شہری زندگی کا حسن ماند پڑ چکا ہے۔ آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ‘ گردوغبار‘ فضائی اور صوتی آلودگیوں کی وجہ سے اہل پشاور ایک مستقل عذاب سے گزر رہے ہیں‘رواں ماہ کے دوران اندرون شہر کے رہائشی علاقوں میں 20کثیر المنزلہ تجارتی عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے‘ جبکہ شہر کی کوئی ایک بھی سڑک ایسی نہیں جہاں ٹریفک کا بہاو¿معمول کے مطابق جاری ہو۔

پشاور کے باغات خستہ حالی کا نمونہ اپنی رونقیں کھو چکے ہیں‘ دیکھتے دیکھتے پھولوں کا شہر ایک ایک کر کے اپنے باغات سے محروم کر دیا گیا اور حال یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت ہر یونین کونسل میں گراﺅنڈ کی تعمیر کا وعدہ پورا نہیں کر سکی امن و امان کی صورتحال یقینا بہتر ہوئی ہے لیکن پشاور اپنے سٹریٹ کرائمز‘ کے حوالے سے آج بھی اچھی خاصی شہرت رکھتا ہے۔ منشیات فروشوں کے گروہ شہر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں‘ جبکہ منشیات کے عادی گروہ در گروہ پبلک مقامات پر جمع رہتے ہیں اور یہ مناظر دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ منشیات فروشی کے چند ایسے مقامات بھی ہیں جو پولیس تھانوں سے متصل ہیں لیکن وہ لاقانونیت جو ہر خاص و عام کو ہر دن اپنے اردگرد پھیلی دکھائی دیتی ہے لیکن وہ اگر کسی کے نوٹس میں نہیں تو وہ قانون نافذ کرنےوالے ادارے ہیں‘آخر ایسی کونسی نشہ آور چیز ہے‘ جو پشاور میں باآسانی دستیاب نہیں؟ ضرورت پشاور سے متعلق تجاہل عارفانہ ترک کرنے کی ہے!ضرورت پشاور سے متعلق بنیادی ضروریات کا احساس کرنے کی ہے! ضرورت پشاور کو اپنا سمجھتے ہوئے اس شہر کی ان خصوصیات کو بھی اجاگر کرنے کی ہے‘ جو یہاں کے سماجی روابط کی صورت ہوا کرتی تھی کہ پشاور اور پشاور میں رہنے والوں کی عزت سانجھی ہوا کرتی تھی‘کسی ایسے شہر میں سیاحوں کےلئے کشش کیا ہو گی‘ جہاں کی آب و ہوا زہریلی ہو؟ جہاں کھانے پینے‘ رہائش اور ٹرانسپورٹیشن جیسی ضروریات‘ اپنے معیار اور قیمتوں کے لحاظ سے ناقص ہوں اور ان پر حکومتی اداروں کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر دکھائی دے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔