54

فاقہ مستی

نہ ہم پہلی بار آئی ایم ایف گئے ہیں اور نہ ہم نے پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کا کوئی بندہ مستعار لیا ہے یہ 21 ویں دفعہ ہے جو ہم نے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے‘ ماضی میں معیشت کو سہارا دینے کے لئے معین قریشی ‘ شعیب ‘ شمشاد اختر اور شوکت عزیز جیسی شخصیات کو کیا ہم نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ادھار نہیں لیا تھا ؟ اسلئے اس بابت شور و غوغا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس میں کوئی وزن نہیں ‘ اصل باتوں کی طرف ہماری نظر جا ہی نہیں رہی اور یا ہم پھر جان بوجھ کر ان کو نظر انداز کر رہے ہیں‘کیا ہم اپنے پاﺅں اپنی چادر دیکھ کر پھیلا رہے ہیں یا اپنی اوقات سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے ہی ہماری فاقہ مستی کاپتہ چلتا ہے‘ جرمنی کی وائس چانسلر سے جب کوئی دوسرے ملک کا سربراہ ملاقات کیلئے اسکے دفتر جاتا ہے تو وہ اسے چائے یا کافی کا کپ اپنے ہاتھ سے بنا کر پیش کرنا اپنی بے عزتی تصور نہیں کرتی جبکہ ہماری فاقہ مستی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے سربراہ مملکت کو جب ملنے کوئی غیر ملکی آتا ہے تو مخصوص وردی میں ملبوس ویٹرز اسکے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور اس کےلئے خوردونوش کا بندوبست کرتے ہیں‘ ۔

ہمارے حکمرانوں کے پاس ملک کے چالیس فیصد عوام کو خواندہ بنانے اور23 ملین ان پڑھ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کےلئے تو پیسے نہیں لیکن جگہ جگہ موٹرویز بنانے کیلئے تو پیسہ کہیں نہ کہیں سے نکل آتا ہے کیونکہ اشرافیہ کو اپنی مہنگی امپورٹڈ لگژری موٹر گاڑیوں کو چلانے کیلئے جو بڑی بڑی شاہراہیں درکار ہیں‘کیا ہمارے حکمران یہ نہیں جانتے کہ اگر درآمدات اور برآمدات میں توازن نہ رہے تو ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے آج عالم یہ ہے کہ ہر سال ہم 60 ارب ڈالر کی اشیاءکہ جن میں اکثر چیزیں اشیائے تعیش کے زمرے میں آتی ہےں ان کو امپورٹ کر رہے ہیں جبکہ ہماری سالانہ ایکسپورٹس کا حجم صرف22 ارب ڈالر ہے! یہ درست ہے کہ خراب معیشت حکومت کو ورثے میں ملی لیکن یہ بھی درست ہے کہ جب وہ برسر اقتدار آئی تو خسارہ بڑھ رہا تھا اور ہمارے حکمران ڈیم بنانے کیلئے فنڈ جمع کرنے کی کوشش ‘لوٹی ہوئی دولت کو پاکستان واپس لانے اورپولٹری کے کاروبار کی باتیں کر رہے تھے‘ حکومت نے بگڑتی ہوئی سنگین قسم کی معیشت کی زبوں حالی کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا اس کا خیال تھا کہ حالات دوست ممالک کی خیرات ‘ چندوں وغیرہ سے درست ہو جائیں گے نو ماہ اس زعم میں ضائع کر دئیے گئے۔

 اگست2018ءمیں زرمبادلہ کے ذخائر9.8 ارب ڈالر تھے کہ جب اس حکومت نے حلف اٹھایا تھا سعودی عرب سے تین ارب ڈالر ‘ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر اور چین سے 2 ارب ڈالر کی وصولی کے بعد زرمبادلہ کے ریزرو اب8.8 ارب ڈالر ہیں اس تمام پیسے کا کیا ہوا ؟ اس کا جواب بڑا سادہ ہے یہ رقم ملک کی بگڑی ہوئی معیشت کی آنتوں میں ہضم ہو گئی ہے جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم مزید قرض دار ہو چلے ہیں‘ عام آدمی کے کان یہ سنتے سنتے پک گئے کہ یہ سب کچھ سابقہ حکمرانوں کا کیا دھرا ہے یایہ کہ ذخیرہ اندوزوں نے ڈالرز چھپا دئیے ہیں‘ بہت جلد لوگ یہ بہانہ سننا نہیں چاہےں گے کہ سابق حکمرانوں نے کیا کیا اور نہیں کیا ؟ وہ موجودہ حکمرانوں سے پوچھیں گے کہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ عام آدمی کو سابقہ وزیراسد عمر کا وہ بےان اچھی طرح یاد ہے کہ جوانہوں نے انڈونیشیا جاتے وقت دیا تھا کہ انہوں نے خسارے پر کنٹرول کرلیا ہے اگر ایسی بات تھی تو پھر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس کیوں گیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔