61

احتساب ‘اصل رکاوٹ

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ احتساب میں خود رکاوٹ بنیں گے نہ ہی کسی کو بننے دینگے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں اس عمل کو اگر روک نہیں رہیں تو کم از کم اس کی رفتار ضرور کم کر رہی ہیں‘ نیب اگر صرف زیر تفتیش سیاستدانوں کی نظر میں بدنام ہوتا تو اس کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا لیکن جن احتساب عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں میں نیب مقدمات چل رہے ہیں یا ان پر اپیلیں زیر سماعت ہیں وہ عدالتیں بھی نیب کی کارکردگی پر شاکی ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں میں ملزمان کی بجائے نیب کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹرہی زیر عتاب آتے ہیں‘ چیئرمین نیب کا سابقہ ریکارڈ اتنا صاف اور شفاف ہے کہ انکے بارے میں حالیہ میڈیا مہم کو جھوٹا سمجھنے کے سوا چارہ نہیں مگر صحافیوں کو انٹرویو دینے کی بجائے اگر وہ ہمیشہ کی طرح پس پردہ رہتے تو یہ ادارے اور خود انکی ساکھ کیلئے بہت بہتر ہوتا‘ نیب کا میڈیا افیئرز کا شعبہ کافی فعال ہے اور اپناکام بہترکررہا ہے اسکی موجودگی میں چیئرمین نیب کو خود میڈیا کے سامنے آنے کی ضرورت نہیں تھی‘بہرحال وہ اپنے خلاف چلائی جانےوالی مہم سے سنبھل چکے ہیں نیب کے متاثرہ سیاسی رہنماﺅں کی کوشش اور خواہش تھی کہ چیئرمین نیب جذباتی ہو کر استعفیٰ دےدیں تاکہ نیب کا سارا کام ہی ٹھپ ہو جائے کیونکہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان تعلقات کی جو نوعیت ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ آئینی تقاضا پورا کرنے کیلئے نئے چیئرمین پر کبھی اتفاق ہو سکے اور جب اپوزیشن لیڈر کو یہ پتہ ہو کہ چیئرمین آنے کے بعد اسکے اور اسکے خاندان کے خلاف ریفرنس دائر ہونگے تو وہ کیوں ایسا کرے گا اسلئے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ سازش صرف چیئرمین کےخلاف نہیں تھی بلکہ احتساب کا جاری عمل روکنے کیلئے تھی ۔

جو چیئرمین نیب کے تحمل اور بردباری سے ناکام ہوگئی ہے مگر اب بھی نیب کی کارکردگی پر سوالات موجود ہیں‘ عدالتوں میں مقدمات کی پیروی اور کیس آ گے بڑھانے میں کمزوری صاف نظرآرہی ہے‘یہ درست ہے کہ نیب کے پاس وکلاءکو دینے کیلئے بجٹ کم ہوتا ہے جبکہ ملزمان کروڑوں روپے فیس دیکر وکیل کرتے ہیں مگر کسی بھی مقدمے میں اصل طاقت مال مقدمہ اور ثبوت ہوتے ہیں اگر نیب کی تفتیش اچھی ہو اور ثبوت ٹھوس ہوں تو مہنگے سے مہنگا وکیل اور سخت جج بھی ان کو نہیں جھٹلا سکتا‘وکیل زیادہ سے زیادہ یہ کوشش کر سکتا ہے کہ وہ کیس کو لمبا کرے اس کیلئے قانونی موشگافیاں استعمال کرتا ہے مگر نیب مضبوط کیس بنائے توعدالت جلد فیصلہ کر سکتی ہے ایک اندازے کے مطابق نیب کی طرف سے دائر کردہ ریفرنسزمیں صرف20 فیصد ہی سیاست دانوں کےخلاف ہیں زیادہ سرکاری افسران و ملازمین کےخلاف ہیں لیکن عوامی دلچسپی کے باعث میڈیا میں صرف سیاستدانوں کے مقدمات کو ہی زیادہ کوریج ملتی ہے اور اب توسیاسی لیڈر اپنی پیشیوں پر پارٹی ورکروں کو بھی بلاتے ہیں اور ایک طرح سے سیاسی مظاہرہ بھی کرنے لگے ہیں۔

 لاہور میں مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز اور اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر پیشی پر کارکن آئیں ‘گزشتہ روز اسلام آباد میں بلاول کی طرف سے کارکنوں کو بلانے کا عدالت نے سخت نوٹس لیا اور ایسے کارکنوں کو گرفتار کرنے کاحکم دیا جو مظاہرہ کریں یا عدالتی کام میں رکاوٹ ڈالیں‘ اسکے بعد بدمزگی بھی ہوئی دراصل سیاستدان اب بھی گرمی اور رمضان میںا پنے کارکنوں کو معاف کرنے کو تیار نہیں‘وہ چاہتے ہیں کہ کارکنوںکو لاٹھیاں بھی پڑیں اور ہتھکڑیاں بھی لگائی جائیں تاکہ حکومت پر الزام لگا کر زیادہ شور کریں‘یہ ایک غیر سنجیدہ رویہ ہے اس سے سیاسی ماحول ہی پراگندہ ہوتا ہے حکومت اسوقت صرف ایک ہی کام پر توجہ دے رہی ہے اور یہ احتساب ہے مگر یہ بھی حکومت اور عوام کی توقع کے مطابق نہیں چل رہا اور شاید اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ حکومت بلاوجہ اس عدالتی عمل میں پریشان ہو رہی ہے اگر وزیراعظم ہر روز احتساب کے حوالے سے بیان دینا بند کریں اور یہ کام کلی طورپر نیب اور عدالتوں پر چھوڑ دیں تو یہ زیادہ بہتر اور مثبت انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے ‘اگر دیکھا جائے توغیرضروری بیان بازی ہی احتساب کو سیاست زدہ کرنے کا جواز بن رہی ہے اور اس میں رکاوٹیں بھی آرہی ہےں‘سازشیں بھی ہو رہی ہیں اور نیب کو متنازعہ بھی بنایا جارہاہے وزیراعظم کو اس وقت نہ صرف نیب کے حوالے سے خاموشی اختیار کرنی چاہئے بلکہ روزانہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آکر سیاسی پارلیمانی ماحول کو معمول پر لانا چاہئے تاکہ آئندہ ماہ بجٹ منظور کرانے میں آسانی رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔