94

صفائی کی عادت

پمپل کوتا ‘بھارت کے مہاراشٹر صوبے کا ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے۔ چند سال قبل گاﺅں کے بڑوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بدحال گاﺅں کو ایک ماڈل گاﺅں میں تبدیل کرنے کا ارادہ کیا۔ صوبائی حکومت کے پاس ان کاموں کیلئے ایک گرانٹ پہلے سے موجود تھی چنانچہ صوبائی حکومت نے دس لاکھ روپے پنچاےت کے حوالے کئے‘ پنچاےت نے گاﺅں کے سرکردہ مرد و خواتین کو مختلف کمیٹیوں میں ڈالا اور ان کے ذمے مختلف کام کئے‘ ان میں سے ہر گھر میں ایک لیٹرین‘ پورے گاﺅں کیلئے صاف پانی کا ایک ذریعہ‘ گوبر گیس پلانٹ اور سولر پاور سسٹم شامل تھے۔ اسکے علاوہ ایک کمیٹی صرف صفائی اور ہائجین برقرار رکھنے کیلئے بنائی گئی۔ آج یہ گاﺅں نہاےت غربت کے باوجود ایک ماڈل گاﺅں بن چکا ہے۔ لیٹرینوں کی وجہ سے ٹائی فائےڈ جیسی بیماریاں ختم ہوچکی ہیں۔ گندے پانی کے جوہڑ ختم کرنے سے ملیریا بھی ناپید ہوچکا ہے۔ گوبر گیس پلانٹ سے سارے گاﺅں کو صاف ستھری گیس مل جاتی ہے اور انہیں جنگلوں کی لکڑیاں کاٹنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ سولر پینلوں کی وجہ سے ان کے سکول کے پنکھے اور بلب جل اٹھے ہیں۔ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو بحیثیت قوم ہم میں صفائی کا احترام ہے اور نہ بطور مذہبی فریضے کے کبھی اسکو اداکرنے کی کوشش کی ہے۔ تمام پوش علاقوں میں لوگوں نے بڑے بڑے گھر بنائے ہیں اور ان پر خوب پیسہ خرچ کیا ہے لیکن مجال ہے جو گلی کا خیال رکھا ہو۔ ہر گھر کے باہر گندگی کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔

مہذب ممالک میں ہر گھر اور دکان کے سامنے فٹ پاتھ کی صفائی اسی گھر یا دکان کے مالک کی ہوتی ہے اور گندگی کی صورت میں ان کو جرمانوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے‘میونسپل اداروں‘ لوکل باڈیز اور دوسرے سرکاری اداروں کا فرض تو ہے ہی کہ وہ صفائی کو یقینی بنائیں لیکن ان کےساتھ ساتھ شہریوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھی حکومت کےساتھ تعاون کریں‘ حکومت کو تعاون نہ کرنےوالوں کو سزا دینے کا اختیار ہے اور اس اختیار کو استعمال کئے بغیر صفائی کا نظام بہتر نہیں بنایاجاسکتا۔ تاہم صفائی کی تعلیم سب سے پہلے گھر میں شروع ہوتی ہے‘ جب گھر میں ہر شخص اپنا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے لگ جاتا ہے تو بچوں میں ایک ادت سی پڑ جاتی ہے‘ ہر مہذب معاشرے میں بچوں کو یہ تربیت گھر ہی سے ملتی ہے۔ میری خوش قسمتی سے میرے بچوں نے اپنا بچپن انگلینڈ میں گزارا‘ چنانچہ یہاں آکر بھی وہ عادت برقرار رہی حتیٰ کہ ٹافی کا ریپر بھی ہاتھ میں سنبھال کے رکھتے جب تک کسی ڈسٹ بن تک نہ پہنچتے۔ آپ جب اپنے بچوں کے سامنے رستے سے کوڑا اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالیں گے تو ان کو خود بخود عادت ہوجائے گی۔ بچوں کے سامنے کم از کم کبھی بھی گاڑی سے کوئی چیز باہر نہ پھینکئے گا کیونکہ یہ سب سے قبیح عادت ہے۔ اس سے نہ صرف رستے میں گند پڑتا ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی پیدل چلنے والے پر گرپڑے‘ بہتر ہے کہ اپنی گاڑی میں ایک چھوٹاسا ڈسٹ بن یا شاپنگ بیگ رکھیں اور سارا گند اس میں ڈالتے رہیں‘ بعد میں اسے آرام اور سلیقے سے ٹھکانے لگائیں۔
 صفائی کی عادت گھر سے شروع ہوتی ہے توسکول میں پروان چڑھتی ہے‘ ہر اچھے سکول کی خاصیت ہوتی ہے کہ عام تعلیم کےساتھ ساتھ تہذیب اور تمدن بھی سکھائے‘ اس میں صفائی اور خوش اخلاقی پہلے اور اہم درجے میں آتی ہیں‘ اگر کوئی سکول بچوں کو یہ نہیں سکھا پاتا اور انکی عادات پختہ نہیں کرسکتا تو اےسے سکولوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھنا چاہئے‘ چاہے وہ بچوں کو بہت زیادہ اچھے گریڈ بھی دےں۔تعلیم صرف رٹنا نہیں بلکہ معاشرے میں ایک کارآمد پرزہ بننے کا ذریعہ ہونا چاہئے۔سکول سے فراغت کے بعد اگر صفائی کی عادت ڈالی جاسکتی ہے تو وہ معاشرہ ہے جس میں باقاعدہ مہم کسی چھوٹے محلے میں شروع کی جاسکتی ہے۔ حیات آباد میں چند ایک گلیاں اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ تمام ہمسایوں نے رستے کو صاف رکھنے کا تہیہ رکھا ہوا ہے۔ تاہم اس وقت مشکل پیش آتی ہے جب گلی دونوں طرف سے کھلی ہو۔ تب یہ ایک شاہراہ عام بن جاتی ہے۔ اس میں اپنائیت کا تصور ختم ہوجاتا ہے کیونکہ ہر شخص گلی میں آزادانہ آجاسکتا ہے جبکہ بند گلی میں صرف ہمسائے ہی آمد ورفت رکھتے ہیں اس لحاظ سے ان محلوں کو آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے جو ایک طرف سے بند ہوں۔ مجھ سے ایک قاری نے ہائجین کٹ کے بارے میں پوچھا ہے کہ کیا گھروں اور دیہات میں اس قسم کی تقسیم سے کوئی فائدہ ہوگا۔ میرے خیال میں بہترین نظام یہ ہوگا کہ گلی میں جگہ جگہ کوڑے دان رکھے جائیں اور گھروں کو پابند کیا جائے اپنا کوڑا کرکٹ صرف ان ڈسٹ بنوں میں ڈالا جائے رفتہ رفتہ ان کوڑے دانوں کو مختلف قسم کے فضلے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

 مہذب ممالک میں بہت سا کوڑا ری سائیکل ہوکر دوبارہ استعمال میں آسکتا ہے۔اسلئے وہاں کاغذ‘ شیشے کی بوتلیں اور پلاسٹک کو الگ الگ کوڑے دانوں میں ڈالاجاتا ہے‘ جبکہ عام فضلہ دوسرے کوڑے دانوں میں جمع ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی بچی کچی اشیائ‘کچن کا مواد جیسے سبزی کے چھلکے یا چائے کی پتی سے گھر ہی میں بہت اچھی کھاد بن سکتی ہے اگر اسے کسی لکڑی کے ڈبے میں ڈال کر رکھا جائے اور چند دن کے بعد اسے اپنے گھر کے پودوں میں دیا جائے‘ اس طرح سے معاشرے سے گندگی کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا اور گھر کے پودے بھی پھلے پھولیں گے۔تاہم دیہات میں سب سے زیادہ اگر ضرورت ہے تو وہ ہر گھر میں کم از کم ایک مناسب لیٹرین کی ہے۔ انسانی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا صحت کی بنیادی ضروریات میں سے ہے‘ ٹائی فائیڈ جیسی بیماریاں اسی فضلے سے پھیلتی ہیں اور مہذب معاشروں نے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کردیا ہے‘ دیہات میں دوسری اہم ضرورت پینے کے صاف پانی کا بندوبست ہے‘ اس کیلئے ضروری نہیں کہ ہر گھر میں نلکے کے ذریعے پہنچایا جائے‘ چھوٹے چھوٹے دیہات میں تو ایک ہی ٹینکی کافی ہوسکتی ہے جہاں سے ہر گھرکے افراد بالٹی بھر پینے کا صاف پانی لے کر جاسکتے ہیں‘ ٹینکی کی اس پانی کو صاف بنانے کیلئے اب کئی ذرائع موجود ہیں جو سولر پاور سے چل سکتے ہیں یا پوری ٹینکی میں ایک گولی ڈالنے سے بھی یہ پانی پینے کے قابل ہوسکتا ہے‘ تاہم اسکے ساتھ ساتھ ضروری یہ ہے کہ گندے پانی کے جوہڑ ختم کئے جائیں‘بلکہ ہر کھڈے سے ایک نکاسی کی نالی نکالی جائے تاکہ بارش یا سیلاب کا پانی رک نہ سکے۔ اب تو صاف پانی کے ذرائع کو بھی ڈھانکنا پڑتا ہے کہ ڈینگی مچھر صاف پانی ہی میں پلتا ہے‘ ہمارے ہاں ہاتھ صاف کرنے کی رواےت بہت مستحکم ہے‘ بس ذرا اس پر میڈیا کے ذریعے زور دینے کی ضرورت ہے‘تاہم یہ بات ذہن میں رکھئے کہ جراثیم کش ادویات اور اسی قسم کے صابن صحت کیلئے مضر ہوتے ہیں اور ان کے اشتہارات نہاےت مبالغہ آمیز ہوتے ہیں اس لئے اینٹی سیپٹک صابن‘ ہینڈ واش اور فرش کی صفائی کیلئے نہ ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔