222

علاج کی سہولت‘ ایک بڑا اعلان

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام شہریوں کو علاج کی سہولےات مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے‘ وزیراعلیٰ محمود خان نے صحت انصاف کارڈ کا دائرہ پورے صوبے میں پھیلانے اور اگلے بجٹ میں اس سیکٹر کیلئے خطیر اضافی رقم مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے‘ صوبے کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کیلئے صحت انصاف کارڈز کے اجراءتک قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہی علاج کی فراہمی کا اعلان کیاجاچکا ہے‘ خیبرپختونخوا حکومت اپنے عزم کو عملی صورت دیتے ہوئے اگر صوبے میں علاج کی سہولت مفت فراہم کردیتی ہے تو یقینا یہ ایک تاریخ ساز اقدام ہوگا‘ اس خوشگوار اعلان کیساتھ یہ تلخ حقیقت بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگی کہ ہیلتھ سیکٹر میں حکومت کی بے شمار اصلاحات اور ان کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے جانے کے باوجود عوام کو برسرزمین مطلوبہ تبدیلی کا احساس نہیں ہوپارہا‘ صوبے کے سرکاری شفاخانوں کے معائنے پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور خود محمود خان کے نوٹس ریکارڈ پر موجود ہیں جو اصلاح احوال کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت اجاگر کررہے ہیں‘ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں پر گنجائش سے زیادہ بوجھ ایک حقیقت ہے خصوصاً دارالحکومت کی بڑی علاج گاہوں میں صورتحال زیادہ متاثر رہتی ہے‘ اس کی وجہ تحصیل وڈسٹرکٹ لیول پر ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات کا فقدان ہے‘ ۔

اس تلخ حقیقت کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ سرکاری شعبے میں معیاری سروسز کا نہ ہونا ہی پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھا رہا ہے‘ ان ہی کلینکس کے راستے سرکاری ہسپتالوں میں اکثرآپریشن کی تاریخ اور وارڈوں میں بیڈ ملتے ہیں‘حکومت کے بے شمار اقدامات کے باوجود مریض متعدد ٹیسٹ کرانے کیلئے نجی مراکز ہی جانے پرمجبور رہتے ہیں‘ یہ حقیقت بھی کسی طور نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ اب سرکاری اداروں میں وہی مریض علاج کیلئے آتے ہیں جن کیلئے پرائیویٹ کلینک اور ہسپتال کا بل دینا کسی طورممکن نہیں ہوتا‘اب جبکہ حکومت علاج کی سہولت کیلئے مزید ایک بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہے اس کو ثمر آور صورت دینے کیلئے ارضی حقائق کو تسلیم کرنے کیساتھ مانیٹرنگ کا فول پروف نظام دینا ہوگا‘حکومت کا کسی بھی شعبے میں کوئی بھی اعلان عام شہری کیلئے اسی صورت ریلیف کا ذریعہ بنتا ہے جب اس پر عملدرآمد یقینی ہو ‘ بصورت دیگر سب کچھ صرف اعلانات تک ہی محدود رہتا ہے۔

بائیو میٹرک تصدیق؟

بینک اکاﺅنٹس کی بائیو میٹرک تصدیق خوداکاﺅنٹ ہولڈرز کیلئے ایک محفوظ اقدام ہے‘ ذمہ دار سرکاری ادارے عوام کے تحفظ کیلئے کسی بھی وقت کسی بھی حوالے سے تصدیق کرنے کے مجاز ہی ہوتے ہیں‘ بینک اکاﺅنٹس کی بائیو میٹرک تصدیق کے عمل میں شہریوں کی مشکلات کا احساس نہ کیاجانا سوالیہ نشان ہے‘ شدےد گرمی اور روزے کی حالت میں عین ان تاریخوں پر جب تنخواہیں اور دیگر ادائیگیاں بھی جاری ہیں شہریوں کو بائیو میٹرک تصدیق کیلئے ڈیڈلائن دے کر بلانا ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کی تاریخ میں توسیع کیساتھ بینکوں کے اندر سہولیات دینے کی ضرورت ہے‘ ضرورت یہ بھی ہے کہ ریگولر ٹرانزیکشن کیلئے آنے والوں کو دیئے گئے ایڈریس یا نمبر پر مطلع کرتے ہوئے وقت دیاجائے تاکہ روزانہ ایک مخصوص تعداد ہی آکر تصدیق کراسکے۔