100

حکومت کی رٹ

دور افتادہ علاقوںمیں واقع ہسپتالوں اورپولیس سٹیشنوں کااچانک دورہ کرکے وزیراعظم نے ایک اچھا کام کیا ہے‘ دراصل یہ دورہ ان کی جانب سے تمام ڈویژنل اورضلعی حکام کو ایک واضح پیغام تھا کہ یہ ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر وقت عوامی رابطے میں رہیں اوراپنے اپنے دائرہ اختیار میں واقع ماتحت اداروں اور ان میں کام کرنےوالے سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی پرکڑی نظررکھیں ایک دو رتھا اوریہ کچھ زیادہ دور عرصے کی بات نہیں ہے کہ جب اسسٹنٹ کمشنر سے لیکر ڈپٹی کمشنر بلکہ کمشنر تک اپنے اپنے علاقوں میں اچانک پولیس سٹیشنوں ‘ محکمہ مال کے دفاتر اور جیل پر چھاپے مارتے محض یہ دیکھنے کیلئے کہ وہاں اہلکاروں کے معاملات عام آدمی کےساتھ کیسے ہیں‘ زمینداروں کو پٹواریوں کے رحم و کرم پر بالکل نہ چھوڑا جاتا وہ انکے تیار کردہ ریونیو کاغذات کاباریک بینی سے مطالعہ کرتے وہ دیکھتے کہ کیا انہوںنے خسرہ گرداوری موقع محل کے مطابق صحیح کی ہے کیا وہ زمینوں کے انتقالات اجلاس عام میںبیٹھ کر کر رہے ہیں یا نہیں ؟کیا وہ لال کتاب اور جمعبندیوں میں اندراج درست طریقے سے کر رہے ہیں ؟کیا حلقہ پٹواری واقعی اپنے حلقے کے پٹوار خانے میں عوام کو دستیاب ہوتا ہے یا نہیں ؟اس طرح ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں مہینے میں ایک بار ایک کھلی کچہری کا انعقاد ہوا کرتا تھا جس کی صدارت ڈویژنل کمشنر کیا کرتا ان کھلی کچہریوں کے انعقاد کا فائدہ یہ تھا کہ ماتحت اہلکار ہر وقت وضو میں رہتے ہر دم چوکس رہتے کہ اگر ان سے کوئی بھول چوک ہو گئی یا کسی فرض میں ان سے کوتاہی ہو گئی تو پبلک اسے معاف نہیں کرے گی اور اگلی کھلی کچہری میں اس کا کچا چھٹا سب کھول دے گی۔

 اب تو جیسے ایک عرصہ دراز سے اس قسم کی کچہریاں منعقد نہیں ہو رہیں‘ ہاں کبھی کبھار اگر کسی سرکاری افسر یا وزیر کا دل فوٹو سیشن کےلئے چاہے تو وہ علاقے کے عوام کو کھلی کچہری کےلئے جمع کرکے ان کےساتھ فوٹو کچھوا کے اخبارات میں شائع کروا دےتے ہیں‘ضرورت ہے کہ کھلی کچہری کا پرانا والا نظام بحال کیا جائے ریونیو عدالتی معاملات کے بارے میں ایک بات کا ذکر ضروری ہے ماضی میں ضلع کاڈپٹی کمشنرہر ماہ باقاعدگی کےساتھ ایک مرتبہ ماتحت ریونیو عدالتوں کی کارکردگی کاجائز لینے کےلئے تحصیلداروں اور افسر مال پر مشتمل ریونیو افسران کی میٹنگ کی صدارت کرتا اور ان ماتحت اہلکاروں کے کان کھینچتا کہ جن کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوتی اب اس طرف بھی کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی یہ تو ہم نے صرف انتظامی افسروں اور محکموں کی موجودہ صورتحال کا ذکر کیا ہے یہی حال کم و بیش دیگر سرکاری شعبو ں کا بھی ہے‘ انتظامی سیکرٹریز اب کم ہی یہ تکلیف کرتے ہیں کہ و ہ اپنے آرام دہ دفاتر سے باہر نکل کر ذرا فیلڈ ورک کی طرف بھی توجہ دیں ہمیں اکثر ڈپٹی کمشنروںاور اسسٹنٹ کمشنروں نے بتلایا کہ ان کو حکمرانوں نے پروٹوکول ڈیوٹیوں میں اتنا الجھا دیا ہے کہ و ہ اب اپنے بنیادی کاموں کو کما حقہ توجہ نہیں دے پا رہے ہیں‘ یہ روش نہایت نقصان دہ اور غلط ہے حکمران انتظامیہ کو چھوڑ دیں کو وہ چوبیس گھنٹے ان کاموں میں لگائیں کہ جوان کے فرائض منصبی میں شامل ہیں وقت آ گیا ہے کہ حکومت علاقہ مجسٹریٹ او ر ہر تھانیدار پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دے اور ان پر واضح کر دے کہ اگر انکے قانونی دائرہ اختیار والے علاقے کے اندر کہیں شراب کا بھٹہ پایا گیا یا کسی جگہ جوا بازی کی رپورٹ ملی یا کسی جگہ ذخیرہ اندوزوں کے گودام پائے گئے تو اس کمیٹی کے یہ دونوں ممبران ان کےلئے براہ راست ذمہ دار ہوں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔