128

ڈیل آف دی سنچری

غیرمعمولی و غیرمتوقع طور پر سعودی عرب کی میزبانی میں مسلم دنیا کے 3 اہم اجلاس جن میں خلیج تعاون کونسل‘ عرب لیگ کا سربراہ اجلاس اور اسلامی تعاون تنظیم کی سربراہی نشست شامل ہیں‘ان کوششوں اور امریکہ کی خطے میں بھرپور سفارتکاری کے کئی عوامل ہیں‘ جن میں سب سے بڑا عنصر فلسطین کا قضیہ ہے! امریکی صدر اس تنازع کے حل کےلئے ایک منصوبہ ترتیب دے چکے ہیں‘ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ ہیں‘ جسے ڈیل آف دی سنچری کہا جاتا ہے!امریکہ اسرائیل انتخابات کے بعد وہاں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے مذکورہ ڈیل آف دی سنچری کو پٹاری سے نہیں نکالنا چاہتے لیکن اس ڈیل کی تفصیلات اسرائیلی اخبارات میں انکشافات کی صورت شائع ہوچکی ہیں‘اگر اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونےوالے یہ انکشافات درست ہیں تو ان کے مطابق اسرائیل‘ پی ایل او اور حماس تنظیم کے درمیان سہ فریقی معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی‘ جسے نیو فلسطین کا نام دیا جائے گا‘ یہ ریاست مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے علاقوں پر مشتمل ہوگی تاہم اس میں یہودی بستیاں شامل نہیں ہوں گی‘اس ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس سے متصل علاقہ ابو دیس ہوگا‘اسرائیل معاہدے کے تحت 3سال کے عرصے میں تمام زیرحراست فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

 غزہ اور مغربی کنارے میں بسائی گئی یہودی بستیاں بدستور اسرائیل کا حصہ رہیں گی۔ بیت المقدس کو تقسیم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسرائیل اور نیو فلسطین دونوں اسکے حصہ دار ہوں گے لیکن انتظام اسرائیل کے ہاتھ میں ہوگا‘ بیت المقدس میں رہنے والے فلسطینی نئی فلسطینی ریاست کے شہری ہوں گے اور یہودی اسرائیلیوں کو بیت المقدس میں فلسطینیوں کی جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی‘ غزہ کے رہائشیوں کےلئے مصرائرپورٹ‘ فیکٹریاں تعمیر کرےگا اور زرعی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ اس کاروباری علاقے میں فلسطینیوں کو رہائش رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ غزہ اور مغربی کنارے کو ملانے کےلئے ہائی وے تعمیر کی جائے گی۔ امریکہ‘ یورپی یونین اور خلیجی ریاستیں اس منصوبے اور نئی ریاست کو 5سال تک مالی وسائل فراہم کریں گی۔ سالانہ 6ارب ڈالرز کا 70فیصد خلیجی ریاستیں‘ 20فیصد امریکہ اور 10فیصد یورپی یونین ادا کرے گی‘نیو فلسطین کو فوج رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم پولیس فورس بنا سکے گا‘اسرائیل دفاعی معاہدے کے تحت نیو فلسطین کے دفاع کا ذمہ دار ہوگا‘معاہدہ طے پانے پر حماس اپنا تمام اسلحہ مصر کے حوالے کردے گی‘ حماس تنظیم کے رہنماو¿ں کو عرب ریاستیں معاوضہ اور ماہانہ تنخواہیں ادا کریں گی اسرائیل‘ مصر اور غزہ کے درمیان سرحدیں فلسطینی عوام کی آمدورفت اور سامان کی نقل و حمل کےلئے ہمہ وقت کھلی رہیں گی‘فلسطینی عوام کو اسرائیلی ہوائی اڈے اور بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت ہوگی ۔

نیو فلسطین کے قیام کے ایک سال کے اندر انتخابات کرائے جائینگے اگر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس معاہدے پر دستخط کردیں اور حماس اور اسلامک جہاد اسے تسلیم نہ کریں تو امریکی سرپرستی میں غزہ پر مکمل جنگ مسلط کردی جائے گی۔ اگر اسرائیل اس معاہدے سے انکار کرے گا تو امریکہ اسکی مالی مدد روک دے گایاد رہے کہ امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8ارب ڈالر مالی امداد دیتا ہے۔صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے 30مئی کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات میں انہیں اسرائیل کا نیا نقشہ پیش کیا جس میں گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں یہ نقشہ ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ نے خاص تحفہ بھیجا ہے۔ یہ نقشہ امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیا اور اس پر صدر ٹرمپ کے دستخط بھی دیکھے جا سکتے ہیں! صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر اسرائیلی وزیراعظم کو یہ تحفہ دینے ایسے وقت میں تل ابیب پہنچے جب نیتن یاہو اپنی سیاسی زندگی کے تاریک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ اپریل میں ہونےوالے الیکشن میں انہیں بڑی کامیابی نہیں ملی اور حکومت کی تشکیل کےلئے وہ سیاسی اتحاد بنانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

جارڈ کشنر سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی پارلیمان تحلیل کر دی گئی اور ستمبر میں دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا گیا!امریکی صدر ڈیل آف دی سنچری کی کامیابی کے لئے اپنا پورا زور نیتن یاہو کی الیکشن کامیابی پر لگائے ہوئے ہیں۔ ڈیل آف دی سنچری کے جو مبینہ خدوخال سامنے آئے ہیں‘ اسرائیلی سیاسی بحران کے بعد ان میں تبدیلی کا امکان موجود ہے کیونکہ امریکی صدر اپنے دوست نیتن یاہو کی کامیابی کےلئے اسرائیل کو مزید رعایتیں دینے پر مجبور ہوسکتے ہیں‘دوسری طرف اسلامی سربراہ کانفرنس کے اعلامیہ میں ایران کا نام لئے بغیر سعودی عرب کے شہروں میں تیل تنصیبات پر حملوں اور امارات کے پانیوں میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی عرب ملکوں کے اجلاسوں میں ایران کےخلاف کاروائی کے مطالبات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے غصے اور بے صبری کی علامت ہیں‘مسلم دنیا جہاں ایک دوسرے کے خلاف اپنے جملہ وسائل‘ توانائیاں اور وقت خرچ کر رہی ہے‘ وہیں ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ اسرائیل کو خطے میں زیادہ بڑا کردار دینے کےلئے داو¿ پیچ آزما رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ڈیل آف دی سنچری کو جلدازجلد عملی جامہ پہنایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔