182

بچوں کی کردار سازی

یوں تو ہمارے محکمہ تعلیم میںایسے ایسے فلسفی بیٹھے ہیں کہ جو ہر روز ایک نیا نمونہ ہماری نئی پود کےلئے لا رہے ہیں‘ ادھر ہر دوسرے دن امتحانات اور سلیبس میں ایسی ایسی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کیا ان لوگوں کی کھوپڑیوں میں دماغ نام کی کوئی چیز بھی ہے کہ نہیں۔ابھی کی بات ہے کہ ہماری حکومت نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ نویں اور دسویں کا امتحان ایک کیا جائے گا یعنی نویں جماعت کا بورڈ کا امتحان ختم کردیا جائے گا اور آٹھویں کا امتحان بورڈ لے گا‘ اس کےلئے یہ نہیں سوچا گیا کہ جو سلیبس ہم آٹھویں کےلئے رکھ رہے ہیں کیا سکول اس کو بروقت ختم کر سکیں گے؟ اسلئے کہ جو سلیبس رکھا گیا ہے اس میں آٹھویں کےلئے پشتو کےساتھ عربی کو رکھا گیا ہے۔ پشتو تو ہمارے بچے اول ادنیٰ سے پڑھ رہے ہیں جبکہ عربی کا تو کہیں وجود ہی نہیں ‘ ادھریکم جون سے سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئی ہیں ‘ستمبر میں سکول دوبارہ کھلیں گے یعنی اس دوران پڑھائی کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہو گا‘ جب بچے واپس آئیں گے تو آپکے پاس تین چار مہینے ہی ہوں گے اور ان میں سلیبس کا مکمل کرانا کارے دارد ہو گا‘اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے ننانوے فیصد بچے فیل ہو جائیں گے۔

اسلئے کہ انہوں نے تو کچھ پڑھا ہی نہیں ہو گا‘ اگر یہی نصاب بر وقت رکھا جاتا یا نیا پروگرام بر وقت بنایا جاتا اور بروقت بچوں کو کتابیں مہیا کر دی جاتیں توبات بھی تھی اور اگر بروقت نہیں کر سکے تو یہی نصاب اگلے سیشن کےلئے رکھ دیاجاتا۔مگر کیا کیا جائے کہ ہماری حکومت میں سارے ہی تعلیمی ماہرین بیٹھے ہیں‘ خداجانے انہوں نے کہاں سے تعلیمی ڈگریاں حاصل کی ہیں اور کہاں سے ان کو ایسے ایسے منصوبے ملتے ہیں کہ جو ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں‘ ایک فیصلہ یہ ہوا کہ سکولوں میں سزاکو ختم کر دیا گیا اور جو استاد بچوں کو ڈانٹے گا بھی تو اسے رات حوالات میں گزارنی ہو گی‘اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بچے جو پہلے ہی اپنا زیادہ وقت موبائلوں کےساتھ گزارتے ہیں اب وہ کسی بھی طرح پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیں گے ‘جب ان کو پتہ ہو گا کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہیں دی جا سکتی تو کیا وہ اپنے استاد کو وہ عزت دیں گے جو استاد کو دینی چاہئے‘کیا وہ استاد کی طر ف سے گھر کےلئے دیا گیا کام کر کے لائیں گے ؟ اسلئے کہ سزا اور جزا کا تو سوال ہی ختم ہو گیا‘ جبکہ ہمارے مذہب میں بھی سزا اور جزا کا نظام رکھا گیا ہے‘ جب آپ یہ نظام ہی ختم کر دیں گے توکیا نتیجہ ملے گا‘ ادھر اساتذہ پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں اور ان کی چھٹیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں‘ اساتذہ پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دیا گیا ہے کہ جن کا تعلیم سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور وہ ان کی چیکنگ کر رہے ہیںاور اگر کوئی استاد انکے چھاپے کے وقت واش روم بھی گیا ہوتواسکی غیر حاضری لگا دی جاتی ہے اور اس کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے‘ جبکہ اگراستاد ایک بھی غیر حاضری جان بوجھ کر کرتا ہے تو اس کی ملازمت میں فرق پڑتا ہے اگر کسی کو انتہائی ضروری چھٹی بھی درکار ہے تواسے نہیں مل سکتی اسلئے کہ چھٹیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں ۔

 اب ایک نیااقدام ہماری حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ہے کہ ہر سکول میں کردار سازی کےلئے بزمیں بنائی جائیں جن کا کام طلباءکی کردار سازی ہو ‘ اس میں استاد اور طلباءمل کر کام کریں‘ادھر جو اقدامات طلباءاوراساتذہ کےلئے رکھے گئے ہیں اس کے بعدکردار سازی کی بزمیں بنانا کتنا مفید ہوگا اس کا کوئی کیاکہہ سکتا ہے ‘گو ہمارے نوجوان اسا تذہ اس پروگرام میں خوشی سے حصہ لے رہے ہیں مگر ان اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے اور جو کچھ اساتذہ کی تذلیل کے پروگرام بنائے ہوئے ہیں ان کو ختم کیا جائے ‘ استاد کو اس سوسائٹی کا نہ صرف حصہ سمجھا جائے بلکہ سب سے معززحصہ سمجھا جائے‘ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہمارے صوبے کو جان بوجھ کر علم سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا پروگرام بنایا جاتا ہے تو اس کےلئے پہلے مشورے کئے جاتے ہیں ‘اسکے مفید اور منفی پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جاتا ہے جب بھی کوئی تعلیمی پروگرام بنایا جائے تو اس میںاساتذہ کو شامل کیا جائے‘ اور ان کی بات کو وزن دیا جائے‘ اسلئے کہ تعلیمی میدان میں سب سے بنیادی کردار استاد کا ہے او رجو بھی پروگرام استاد کو نظر انداز کر کے بنایا جائے گاوہ ناکام بھی ہو گا اور سوسائٹی کےلئے نقصان دہ بھی ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔