143

رمضان کی رخصت ہوتی ساعتیں

رمضان کا مبارک مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے اسکی رحمتیں سمیٹنے کا وقت ختم ہورہا ہے ہم بحیثیت انسان کمزور ہیں مگراسکے باوجود ہر کسی نے اس ماہ مقدس میں مقدور بھر کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ٹوٹے رشتے جوڑے اور اپنی کوتاہیوں اور گمراہوں پر ا للہ سے معافی مانگ لے‘ اس میں شک نہیں کہ رمضان کے مہینے میں اوپر آسمانوں پر رحم و کرم کی فراوانی ہوتی ہے اللہ کریم اپنے بندوں پر بخشش اور نجات کے دروزے کھول دیتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ لوگ دوسرے انسانوں کیلئے جینا مشکل بنادیتے ہیں ویسے تو ہر رمضان میں منافع خور تاجر روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کردیتے ہیں مگر اس بار تو تمام حدود ہی ختم ہوگئیں‘ ایک طرف حکومت نے مہنگائی کا جواز پیدا کرنے کیلئے پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھائیں تو تاجروں نے اس اضافے میں اپنا منافع بھی شامل کرکے قیامت برپاکردی اسکے باوجود اللہ کے کچھ بندے اپنے وسائل سے غریبوں مےں افطاری اور دیگر راشن تقسیم کرکے کسی حد تک بے آسرا لوگوں کیلئے روزے گزارنے کاسامان کرتے رہے‘ یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ پاکستان میں سخت مشکل حالات کے باوجود کوئی غریب بھوک سے فوت نہیں ہوتا ورنہ ہمارے ہمسایہ ملک میں بھوک ہلاکت خیز ہوچکی ہے رمضان کی برکت اور پاکیزگی کے باعث تیسرا عشرہ ہر دل میں گداز اور لطافت پیدا کردیتا ہے اپنی فطرت میں لالچی انسان اللہ سے بخشش طلب کرتے وقت اور تھوڑے عمل سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کیلئے رمضان کے آخری عشرے میں زیادہ عبادت گزار ہو جاتا ہے کیونکہ اس عشرے میں ایک رات ایسی ہے ۔

جس کو لیلة القدر کا درجہ دیکر اللہ نے بشارت دی ہے کہ یہ رات ہزار راتوں سے افضل ہے‘ اس رات کی تلاش اور اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے لاکھوں لوگ مساجد میں اعتکاف بیٹھتے ہیں جو ایسا نہیں کرسکتے وہ بھی کم از کم27ویں شب کو ممکنہ شب قدر سمجھ کر اس میں قرآن مجید سننے‘ قرآن مجید پڑھنے اور دیگر نفلی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں‘ تقریباً ہر مسجد میں شب بیداری اور اجتماعی عبادت کا بندوبست ہوتا ہے کہیں درودوسلام کی محفلیں سجتی ہیں تو کہیں ذکر اذکار میں شب بسری ہوتی ہے‘ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کی نواحی بستی پنج پیر میں ایک منفرد محفل سجائی جاتی ہے یہاںقائم دارالقرآن کے مہتمم مولانا محمد طیب طاہری کی قیادت میں تفسیر القرآن کے ایک سالہ کورس کا اختتام ہوتا ہے جہاں شیخ القرآن مولانا محمد طیب خود قرآن مجید کی تفسیر کا خلاصہ بیان کرتے ہیں اس مدرسے اور درگاہ کے بانی حضرت شیخ مولانا محمد طاہر نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا دورہ تفسیر جو15شوال سے شروع ہوتا ہے اس کا اختتام رمضان کی ستائیسویں شب کو کیا جاتا ہے اس موقع پردارالقرآن میں زیر تعلیم اور دورہ تفسیر مکمل کرنےوالے طلبا کے علاوہ صوبے اور ملک بھر سے ہزاروں تشنگان حق بھی خصوصی طورپر شریک ہوتے ہیں‘رمضان قرآن کا مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں ہی قرآن مجید کانزول شروع ہوا اسلئے قرآن اوررمضان میں خاص نسبت ہے۔

اس مہینے میں اگر نماز تراویح کے دوران قرآن کو سننے کا اہتمام کیا جاتا ہے تو انفرادی طورپر بھی ہر روزہ دار زیادہ سے زیادہ تلاوت کرتا ہے‘ دارلقرآن پنج پیر میں قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے کا عمل جاری رہتا ہے جورمضان میں زیادہ وسیع انداز میں شروع ہو جاتا ہے ‘ستائیسویں شب تو گویا قرآن فہمی کا نکتہ عروج ہوتا ہے ہر کوئی مجسم سماعت بن کر درس قرآن کی جانب متوجہ ہوتا ہے اس تقریب میں دین اور قرآن کے طلباءکیساتھ عام مسلمان بھی ہوتے ہیں مگر یہاں انہماک میں سب برابر ہو جاتے ہیں اور مولانا محمدطیب کو ورثے میں ملا ہوا انداز بیان ایسا ہے کہ قرآن کے الفاظ اورآیات مقدسہ ہر سامع کے دل مےںاترتے محسوس ہوتے ہیں‘ دارالقرآن ایسا ادارہ ہے جہاں سلسلہ درس و تدریس اور سینکڑوں طلباءکے طعام و قیام کیلئے کسی سے بھی کوئی چندہ یا عطیہ قبول نہیں کیا جاتا بلکہ مولانا محمد طاہر کے فرزند اپنے وسائل سے سارا انتظام کرتے ہیں ان میں بڑا حصہ فرزند شیخ قرآن اور ممتاز قومی شخصیت میجر(ر) عامر کا ہوتا ہے اس منفرد دارالعلوم کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں اسلام کی تبلیغ اورقرآن کی تعلیم کیساتھ مملکت خداداد پاکستان سے محبت اور وفاداری کا سبق بھی پڑھایا جاتا ہے‘ رمضان کے مہینے کی مبارک شب پاکستان کا قیام عمل میں آیا جو اس ملک کے قیام کے مقصد کیلئے فطرت کا اشارہ ہے اسلئے اسلام سے محبت کا ہی دوسرا پہلو پاکستان سے محبت ہے اور یہ دونوں جذبے پنج پیر کی بستی میںخوب پروان چڑھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔